بہت سی خبریں تھیں جن پر لکھنا چاہ رہی تھی کہ ایک خبر نے دہلا کر رکھ دیا کہ اسمبلی میں شراب پر پابندی کا بِل نا منظور ہو گیا یا پیش کئے جانے کی اجازت نہیں ملی اور مارے شرمندگی ہمارا دل خوف سے بھر گیا کہ بِل پیش کیا تھا ایک اقلیتی ممبر نے ۔لگا کہ منہ چھپانے کو کہیں جگہ نہیں ہے ۔ کاش یہ بِل کسی مسلمان ممبر نے پیش کیا ہوتا ،کاش اس بل کو منظور کرنے کے لئے سارے ہاتھ اُٹھ گئے ہوتے یا سب ممبر اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر اس کے حق میں ووٹ کرتے ۔ لیکن وائے قسمت خواب تھا جو کچھ کے دیکھا جو سُنا افسانہ تھا ۔سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ کہا گیا کہ یہ بِل اپنے نمبر بنانے کو لایا گیا خیر جو کچھ بھی ہوا ہمیں لگتا ہے کہ الکوحل کا مسئلہ ہر ملک میں ہے اور سب ہی اس کے خلاف ہیں اگر اسے مذہبی معاملے سے الگ کر کے بھی دیکھا جائے تو یہ ایک انتہائی نا پسندیدہ فعل ہے ،جسے ہر قوم اور ہر ملک ہی کم کرنے یا ختم کرنے کے لئے کو شاں رہتا ہے اور ہمارے مذہب میں تو اسے حرام قرار دیا گیا ۔اب اگر یہ بل نہیں لانا چاہئے تھا تو کیا حکومت کے ارکان بھی اس کے حق میں نہیں کھڑے ہو سکتے تھے ،یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں اآئی اس لئے ہم اس پر مزید کچھ لکھنے کی جسارت نہیں کرتے ۔
اآج کل روز ہی ایک نیا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے اور نئی نئی باتیں سننے کو مل رہی ہیں ،۔آج سابق وزیرِ اعظم خاقان عباسی صاحب نے فرمایا کہ اگر اسی طرح پکڑ دھکڑ ہوتی رہی تو اآدھی سے زیادہ اسمبلی خالی ہو جائے گی ۔اب ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اگر یہ ہی بات کسی حکومتی رُکُن نے کہہ دی ہوتی تو سارا دن میڈیا کہتا رہتا اور اپوزیشن بھی کہ بھئی اآپ کو کیسے معلوم ۔ہم بھی یہ پوچھنا چاہتے ہیں ،اور اگر اآپ کو یہ خدشہ ہے تو کیا اآپ کہہ رہے ہیں کہ کتنی کرپٹ شخصیات پارلیمنٹ میں براجمان ہیں بہ شمول اآپ کے کہ اآپ کا ایل این جی کا معاملہ بھی ابھی زیرِ التوا ہے ۔اسمبلی میں ایسی باتیں سُن کر لگتا ہے کہ کوئی بھی ابھی عوامی مسائل کے حل کے لئے سنجیدگی سے نہیں سوچ رہا۔اور اگر سوچ رہا ہے تو وہ اسکی تشہیر نہیں کر پا رہا کیونکہ معاملات اس قدر دلچسپی کے اور وہ معاملات ہیں جو جن پر ہر کوئی کچھ نہ کچھ سننے کو بے تاب تھا ۔خاص کر کرپشن کے معاملات اسی لئے شاید کوئی بھی اس سوچ سے باہر نہیں آسکا کہ کون کون پکڑا جا رہا ہے ،اور کسے کسے پکڑا جانا چاہئے۔
جیسے سعد رفیق صاحب اور اُن کے بھائی کا معاملہ ۔شھباز صاحب کے مقدمات اور جناب نواز شریف صاحب اور مریم نواز صاحبہ کا معاملہ اور اب تو ایسی ایسی باتیں سامنے اآرہی ہیں کہ ہم حیران ہیں کہ کتنا پیسہ تھا ملک میں جو ادہر سے اُدہر اور اُدھر سے اِدہر ہوتا رہا ۔اور لے کر بینک سے اور گھر کے نوکروں تک کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو قابلِ گرفت نہ ہو ۔آج جس طرح کے اکاؤنٹ کی باز گشت شریف برادران کے متعلق سُنائی دی گئی حیران کر دینے کو کافی ہے ۔لیکن کہتے ہیں کہاں ہیں ثبوت لاؤ دکھاؤ ۔اب کون سی روشنائی سے لکھ کر دکھایا جائے کون سی زبان میں سنایا جائے یہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔زرداری ہوں یا شریف سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں لیکن افسوس کہ ملک کی قسمت سے کھیل کر بھی نہ شرمندہ ہیں اور نہ ہی معزرت خواہ بلکہ اب بھی لوگ کار پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے بھیجتے ہیں کہ جیسے کوئی دولھا سسرال جا رہا ہو ۔کہاں گئی ہماری شرم و حیاء ۔ہم کیسے برائیوں کے ساتھی بن گئے ہیں ۔
میڈیا اپنی دنیا میں مست ہے بقول ایک عدلیہ رپورٹر کے کہ وہ لوگ بھی جو کورٹ میں موجود بھی نہیں ہوتے ایسے ایسے تجزئے اور باتیں کرتے ہیں کہ حیرانی ہوتی ہے ۔عدلیہ جس طرح دن رات ایک کرکے کام کر رہی ہے ہماری دعا ہے کہ وہ کچھ اچھی روایات ڈال دے تاکہ اآگے کو کچھ روشن رستہ بن جائے ۔ٹی وی کی ایک ہی ڈگر ہے کہ حکومت نے جو کیا پہلے کرتی تو اچھا تھا ؟ پہلے یہ بیان دیتے بعد میں یہ بیان اآتا تو اچھا تھا ؟ اس بات پر پہلے نوٹِس لیتے بعد میں یہ بات کرتے تو ٹھیک تھا ؟۔اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں اآتا کہ حکومت کس طرح چلے یا تو ان سب نا کام لوگوں کی راہ چلے اور ملک اور قوم کی قسمت کو وزیروں اور مشیروں کے ہاتھوں میں دے دے اور جو کوئی جو کچھ کر رہا ہے کرنے دے ۔۔یا پھر ہر بات پر سخت اور کڑا محاسبہ کرے تاکہ سب ہی الرٹ رہ کر کام کریں ۔یہ ہمارا یقین ہے کہ سارے کام نہ تو ہو سکتے ہیں نہ کئے جا سکتے ہیں لیکن اگر ایک راہ معین کر دی جائے تو شاید اآنے والے وقت ہمیں فائدہ دے دینگے ۔ہمت بڑھائی جائے تاکہ اچھے دماغ سامنے آسکیں اور کچھ کر کے دکھا سکیں ۔
تنقید بہت اچھی بات ہے لیکن ایک ایک جملے اور ایک ایک بات کو پکڑ کر نہ ہم خود ٹھیک ہو سکتے ہیں نہ کسی اور کو ٹھیک کر سکتے ہیں اس لئے غلطیوں کی نشاندہی لازم ہے مگر اُس کے لئے بھی کوئی سوچ ہونی چاہئے کہ ہم کس طرح کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں اور ان کے اچھے کاموں میں ساتھ دے سکتے ہیں ۔ہم سوائے شرم دلانے کے اور کچھ نہیں کر رہے کاش خود تھوڑی سی شرم کر لیں تو کرپشن کے حق میں کبھی بھی بات نہ کریں ۔کہتے ہیں کہ اجلاس اڈیالہ جیل میں کرنے پڑینگے ہم حیران ہوئے کہ وہاں جانے کے بعد بھی سارے اسمبلی کے ممبر رہینگے کیا ؟؟؟ پہلے لوگ جیل کا نام سُن کر ہی جھُر جُھری لیتے تھے مارے خوف اور شرمندگی کے لیکن اب نہ جیل جانا بری بات ہے نہ کرپشن کرنا اور کرپٹ لوگوں کا ساتھ دینا کچھ برا ہے اور نہ ہی مقدمات کا بننا کوئی شرمندگی ہے ۔ہم سوچ رہے ہیں کہ پھر شرم کے لئے کون سی باتیں ہونی چاہئیں ؟
ہماری ایک تجویز ہے کہ اگر جو جو ثبوت نیب کے پاس آتے ہیں انہیں اگر کسی بھی صورت عوام کے سامنے بھی لایا جائے اُن کا بھی کوئی نمائندہ بات کرے تاکہ یہ جو اآستینیں چڑھا چڑھا کر ہر بات میں کہہ رہے ہیں کہ ثبوت نہیں ہیں تو کچھ تو عوام کو بھی پتہ چلے کہ کیا کیا انکے خلاف مواد سامنے اآچکا ہے تاکہ یہ لوگوں کو گمراہ کرنے والے ارکان بھی شرم کر سکیں ۔ٹی وی پر جتنے ثبوت دکھائے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شرم کرنے والا ہو تو شاید سامنے بھی نہ اآئے ۔لیکن چکنے گھڑوں کے لئے کوئی بات بھی بُری نہیں ہوتی ۔
مشکل وقت ہے حکومت کے لئے لیکن کچھ بھی ناممکن نہیں ہے اگر عہد کر لیا جائے کہ سب کچھ ٹھیک کرنا ہے تو کوئی رکاوٹ بھی راستہ نہیں روک سکتی ۔اور یہ چیخ پکار وا ویلا یہ تو چلے گا ۔کیونکہ کہتے ہیں اگر دُم پر پیر پڑجائے تو تکلیف بہت ہوتی ہے ۔
اور آج کل جو کچھ ہو رہا ہے یہ تو شاید ہمارے سابقہ حکمرانوں کے خواب اور خیال میں بھی نہیں تھا کہ کبھی وہ بھی ایسے مقامات کی زیارت کرینگے جنہیں جیل کہتے ہیں جنہیں نیب کہتے ہیں جہاں پوچھ گچھ ہوتی ہے جہاں جواب مانگے جاتے ہیں ۔اور اب تو آگ بھی ساتھ چھوڑ گئی ۔اس لئے جو کچھ ہو رہا ہے وہ تو ہوتا رہے گا ۔نہ ریکارڈ جلے گا نہ بلڈنگیں زمیں بوس ہونگی نہ ہی ماڈل ٹاؤن میں خلاصی ہو گی اس لئے ہوشیار باش
اللہ ہمارے ملک کو ترقی اور کامرانی کے راستے پر ڈال دے اآمین
شراب پر پابندی ،نہیں! نہیں! نہیں ! عالم آرا
781
0












