دہری شہریت والے اہم عہدوں پر تعینات نہ کیئے جائیں

0
582

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سرکاری ملازمین کی دہری شہریت کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اہم سرکاری عہدوں پر دہری شہریت والے افسر تعینات نہ کیے جائیں، حکومت کابینہ کی منظوری کے بعد دہری شہریت سے متعلق قانون سازی کرے۔

سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے کیس کا فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے حکم دیا ہے کہ غلط طریقے سےکمائی رقم اور فیملی کو ریٹائرمنٹ کے بعد باہر بھیجنے کے لیے دوسری شہریت لینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسے افرادکسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، انہیں غیر ملکی شہریت چھوڑنے کے لیے ڈیڈ لائن دی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ دہری شہریت والے افسروں کو قومی سلامتی کی وجہ سے نہیں رکھا جا سکتا، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے اداروں کی فیصلہ سازی والی پوسٹس کی لسٹ بنائی جائے، ہرسال کے اختتام پر پارلیمنٹ کے سامنے ایسے ملازمین کی فہرست پیش کی جائے۔

فیصلے میں یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ دہری شہریت یا ا یسے افراد سے شادی کی فہرست بنائی جائے، پاکستان اوریجن کارڈ رکھنے والے غیر ملکیوں سے متعلق حکومت فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حکومت فیصلہ کرے کہ کیا گورنمنٹ سروس میں ایسے افراد پر پابندی ہونی چاہیے یا نہیں، وفاقی حکومت سابق سرکاری ملازمین کی غیر ملکی حکومتوں اور ایجنسیوں میں نوکریوں کی سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کرے۔

دہری شہریت از خود نوٹس کیس کا فیصلہ 52 صفحات پر مشتمل ہے، سپریم کورٹ پاکستان نے اس ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ ستمبر 2018ء میں محفوظ کیا گیا تھا جو آج سنا یا ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری افسران کی دہری شہریت کے معاملے پر ازخود نوٹس لے کر ملک بھر میں اہم عہدوں پر تعینات سرکاری عہدیداروں کا ریکارڈ طلب کر لیا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات کے بعد دہری شہریت کے حامل ایک ہزار سے زائد افراد کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی۔

ایف آئی اے نے عدالت عظمیٰ کو بتایا تھا کہ 719 افسران نے اپنی دہری شہریت سے متعلق بتا دیا تھا جبکہ باقی افراد نے اسے چھپایا۔

مذکورہ کیس کی 24ستمبر کو ہونے والی گزشتہ سماعت پر عدالتی معاون شاہد حامد کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں دہری شہریت کے حامل افسران نہیں ہونے چاہئیں، بہتر ہوگا کہ عدالت حکومت اور پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنے دے۔

SHARE

LEAVE A REPLY