امریکہ، طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت، مکمل اتفاق نہیں ہوا

0
1010

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں ’’مثبت پیش رفت‘‘ ہوئی ہے، مگر مکمل اتفاق نہیں‌ ہوا۔

یہ بات انہوں نے اپنی ٹوئیٹس میں کہی ہے جن میں ان کا کہنا تھا کہ چھ روزہ مذاکرات کے بعد ’’بات چیت کے لئے افغانستان جا رہا ہوں‘‘۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ دوحہ میں طالبان سے ملاقاتیں مفید رہیں؛ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ مذاکرات کا حالیہ دور گزشتہ ادوار سے بہت اچھا رہا، اور، بات چیت کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے جلد مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں موجود امریکی افواج کے “محدود اور مشروط” انخلا کے منصوبے پر اتفاقِ رائے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے واقف ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ فوجی انخلا کے عوض طالبان نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو مستقبل میں امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے خلاف افغانستان کی سر زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

ایک ٹوئیٹ میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ ’’چھ روز دوحہ میں رہنے کے بعد میں صلاح مشورے کے لیے افغانستان جا رہا ہوں۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نتیجہ خیز تھیں۔ ہم نے اہم معاملات میں خاصی پیش رفت حاصل کی‘‘۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں جاری مذاکرات میں میزبان ملک کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی موجود تھے۔ مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کی۔

اپنی ٹوئیٹس میں خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تمام امور پر اتفاق رائے ہونا لازمی ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا کچھ حتمی نہیں ہوگا۔ سب باتوں پر اتفاق میں افغانوں کے مابین مذاکرات اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔ مذاکرات کرانے کے لئے قطرحکومت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر خصوصی طور پر قطر کے نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔

زلمے خلیل زاد کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر معاہدہ طے پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس ہیں کہ فریقین افغانستان سے غیر ملکی افواج کے پرامن انخلا پر متفق ہوگئے ہیں۔

اس حوالے سے افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’’ایجنڈا کے مطابق، اس ملاقات میں غیر ملکی افواج کے انخلا سمیت دیگر اہم ایشوز پر بات چیت کی گئی ہے۔ لیکن بہت سے معالات انتہائی حساس ہیں جن پر جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔ اس لیے، حل طلب معاملات آئندہ ہونے والے اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے فریقین اپنی قیادت سے مشاورت بھی کرسکیں گے۔‘‘

افغان طالبان نے واضح کیا ہے کہ ’’غیرملکی افواج کے انخلا پر معاہدہ ہونے تک دیگر معاملات پر بات ہونا ناممکن ہے‘‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY