سپریم کورٹ نے سابق آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے تبادلے سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے بائیس مارچ دو ہزار اٹھارہ کو کیس فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ معاشرے میں جرائم کی روک تھام اور سزائیں دینا وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ امن و امان کے قیام کیلئے وفاق کو صوبائی حکومتوں کی اجازت ضروری نہیں ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے اور نیب وفاقی ادارے ہیں لیکن تمام صوبوں میں کام کرتے ہیں۔ امن وامان کے قیام کو آرٹیکل ایک سو بیالیس بی سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔ آرٹیکل ایک سو تینتالیس ملک بھر میں امن و امان کی ذمہ داریاں وفاق کو تفویض کرتا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے امن وامان کا قیام وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا، یہ عدالت بھی اس فیصلے سے اتفاق کرتی ہے۔ پولیس میں تبادلوں کے اختیارات صوبائی حکومت کے بجائے آئی جی کے پاس ہونے چاہیں۔ پولیس افسران کی تعیناتی وفاق اور صوبے مشترکہ طور پر کریں۔

SHARE

LEAVE A REPLY