چودھری نثار علی خان نے مسلم لیگ ن سے راہیں جدا ہونے کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں واضح طور پر ان کا اشارہ مریم نواز شریف کی طرف تھا جو ان دنوں اپنے والد نواز شریف کی نااہلی کے بعد مجھے کیوں نکالا سیریز کے جلسوں میں مصروف تھیں اور عوامی پزیرائی سے زبان زد عام تھا کہ اب مسلم لیگ ن کی قیادت مریم نواز شریف کریں گی اسی تناظر میں صحافی نے جب چودھری نثار علی خان سے سوال کیا کہ کیا وہ مریم نواز شریف کی قیادت میں کام کرنے کو تیار ہیں تو انہوں نے کہا تھا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں چودھری صاحب بالغ نظر اور جہاندیدہ سیاست دان ہیں مگر یہاں ان سے نہ جانے کیسے چوک ہو گئی کہ وہ ہوا کے رخ کو سمجھ نہ پائے اور اس کے مخالف چلنے کا فیصلہ کر بیٹھے جس کا نقصان چار میں سے تین نشستوں پر عبرت ناک شکست کی صورت میں اٹھانا پڑا اور تب سے اب تک ان کی سیاست گومگو کا شکار ہے-
چودھری نثار تو گومگو کا شکار ہیں مگر مسلم لیگ ن اور مریم نواز شریف نے اپنے آپ کو بہت حد تک گومگو کی کیفیت سے نکال لیا ہے کہ ایک طویل خاموشی اور شہباز شریف کی مصالحانہ سیاست نے جماعت پر جو جمود طاری کر رکھا تھا نواز شریف کی چھ ہفتوں کے وقتی ریلیف کے بعد کوٹ لکھ پت جیل منتقلی سے ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دوبارہ سے ابھر کا سامنے آ گیا ہے اور خدمت کو ووٹ دو سے یک لخت دوری سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدمت کروانے والے فی الحال خدمت لینے کو تیار نہیں اس لئے شہباز شریف بھی بڑے میاں کے بیانیہ کو اپنانے ہر مجبور ہیں-
وطن عزیز میں ایک سیاسی بچہ جو اب اتنا بھی بچہ نہیں کہ 25 سے کم کا تو قومی اسمبلی کے الیکشن میں ہی حصہ نہیں لے سکتا اس لئے ہم بلاول کو نوجوان تو کہہ سکتے ہیں بچہ بالکل بھی نہیں اور غیر سیاسی تو ہر گز نہیں کہا جا سکتا اس لئے کہ ابتدائی چند حماقتیں ( عمران خان کو لہک لہک کر چاچا پکارنا اور شیخ رشید جیسے زبان دراز سے لفظی جنگ چھیڑنا ) چھوڑ کر بلاول نے اپنے تقریبا ہر عمل سے اپنے آپ کو ایک تربیت یافتہ سیاسی ثابت کیا ہے قومی اسمبلی کے اولین اجلاس میں اپنی سحر انگیز تقریر کے دوران عمران خان کو پرائم منسٹر سلیکٹ کہہ کر مخاطب کرنا اور اس پر عمران خان سے داد وصول کرنا بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی ہونے کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ دن اور آج کا دن کہ عمران خان پرائم منسٹر سلیکٹ ہی کہلوا رہے ہیں کہنے والے بدلتے رہتے ہیں مگر الفاظ بلاول بھٹو ہی کے استعمال میں لائے جاتے ہیں-
بلاول نے ایک طویل مشاورت کے بعد ملکی سیاسی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے جس طرح تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کوٹ لکھ پت جیل میں اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف نواز شریف سے ملاقات کی ( گو کہ اسے بیمار پرسی کا نام دیا گیا) اس نے بلاول بھٹو کی سیاسی بالغ نظری پر مہر ثبت کر دی کہ اب سیاست میں بلاول نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھنا کہ اس کی اٹھان اس کی اونچی اڑان کی نشاندہی کر رہی تھی –
مسلم لیگ ن کی سینئر قیادت جب بلاول بھٹو زرداری سے ملنے ان کے چیمبر میں گئی تو وہاں موجود میڈیا کو خوش گوار حیرت ہوئی کہ بلاول نے نہ صرف سیاسی بلکہ اپنی خاندانی روایات کا یوں اظہار کیا کہ اپنے پاس تشریف لانے والے تمام بڑوں کے احترام میں اپنی میز والی نشست کو چھوڑ کر الگ رکھی کرسی پر بیٹھ کر بڑوں کو عزت دی اور جب اپوزیشن کی تمام قیادت کو افطار پر زرداری ہاوس مدعو کیا تو ہر ایک کا خود دروازے پر جا کر استقبال کرنا بھی اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بھرپور سیاسی تربیت سے مستفید ہو چکے ہیں اور اپنے نانا اور والدہ کی روایات کو لے کر آگے بڑھنے کی جہد میں مگن ہیں-
دوسری جانب مریم نواز شریف کہ 2013 سے پہلے کے ادوار حکمرانی میں اسے کبھی بھی نواز شریف کے اس قدر قریب نہ دیکھا گیا مگر اس بار شائید نواز شریف نے بھی بھانپ لیا تھا کہ ان کے ساتھ کوئی ہاتھ ہونے جا رہا ہے اس لئے انہوں نے شہباز شریف اور حمزہ کے موجود ہوتے ہوئے بھی مریم کو اپنے ساتھ ساتھ رکھنا اوراس کی سیاسی تربیت کا عمل جاری رکھنا ضروری جانا اسی دوران میں مریم نواز شریف نے نہ صرف یہ کہ اپنی ایک میڈیا ٹیم بنائی بلکہ پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے کو ملا کہ مسلم لیگ ن کے ترقیاتی منصوبوں اور اس کی لیڈر شپ کی تشہیر الیکٹرانک میڈیا کی محتاج نہ رہی کہ مریم کی میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا کا استعمال اس خوبصورتی اور مہارت سے کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم بھی منہ دیکھتی رہ گئی مریم نواز شریف نے اسی سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے میڈیا کنونشن کی آڑ میں مختلف شہروں میں جلسے کر کے اپنے آپ کو عوام کے سامنے ایک لیڈر کے طور پر پیش کیااور پذیرائی حاصل کی اپنے والد نواز شریف کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے نے گو کہ مریم کے لہجے میں بھی تلخی پیدا کیئے رکھی مگر اخلاق اور احتیاط کا دامن اس دوران بھی مریم نے تھامے رکھا یوں بلاول بھٹو کی طرح مریم نواز شریف نے بھی غیر سیاسی بچے ہونے کا طعنہ اپنے سراسر سیاسی عمل سے رد کر دیا –
نواز شریف اور آصف علی زرداری کی وقتی طور پر سیاست سے دوری نے بلاول اور مریم کو اس معروف اور مشہور شخصیت کے مقابل لا کھڑا کیا ہے جو بظاہر ادھیڑ عمری کی جانب گامزن ہیں مگر ان کے اندر ایک ایسا غیر سیاسی بچہ موجود ہے جو ہر دو چار دن بعد ان سے کوئی نہ کوئی بچگانہ حرکت سرزد کروا ہی دیتا ہے باقی باتوں کو تو رکھئے ایک طرف عمران خان کے غیر سیاسی رویہ کا صرف اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ گزشتہ تقریبا 5 ماہ سے الیکشن کمیشن کے 2 ممبران کی تعیناتی صرف اور صرف اس وجہ سے نہیں ہو پا رہی کہ عزت مآب وزیر اعظم قائد حزب اختلاف سے مشاورت تو رہی دور ہاتھ ملانے کو تیار نہیں اس سے پہلے کبھی آپ نے سنا تھا کہ سیاست میں مذاکرات اور بات چیت کے دروازے بھی بند ہو سکتے ہیں یوں مقابلہ بہت مشکل ہے کہ دو سیاسی بچوں کو آنے والے دنوں میں ایک غیر سیاسی بڑے سے مقابلہ کرنا پڑے گا…!













