ماہ رمضان المبارک اللہ کی رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے۔ اللہ تعالی نے اس مہینہ کو اپنا مہینہ قرار دیا اور کہا کہ اس ماہ مبارک میں روزے رکھنے والے میرے مہمان ہیں اور ان کی جزا میں ہی دوں گا۔ اس ماہ مبارک میں اللہ نے اپنی آخری کتاب نازل کی اور ہزار مہینے سے بہتر رات رکھی ہے۔
اس دو عظیم نعمتوں کے علاوہ اللہ اور اس کے محبوب پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو محبوب ترین ہستیوں کے اس دنیا سے اٹھ جانا بھی ہے۔ ان دو ہستیوں میں ایک حضور علیہ السلام کی محبوب اہلیہ حضرت خدیجۃ الکبری اور دوسری ہستی حضور ﷺ کے عم زاد، وصی،جانشین، فاتح بدر و حنین و خیبر و خندق امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا روزشہادت ہے۔
حضرت خدیجۃ الکبری صرف مال و دولت کے اعتبار سے ملیکۃ العرب ہی نہیں تھیں، پورے عالم عرب میں کوئی ان کے حسن، شرم و حیا، حسن اخلاق، شائستگی کے لحاظ سے بھی حضرت خدیجۃ الکبری لا ثانی تھیں۔ عالم عرب کے بڑے بڑے روساء ان کے مال سے کاروبار تجارت سے منسلک تھے۔
حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہ بت پرستانہ ماحول میں بھی مواحد تھیں، دین ابراہیم پر عمل پیرا تھیں۔ ان کے متعلق یہ کہنا بجا ہوگا کہ آپ سلام اللہ علیہا نے پوری زندگی میں کبھی بت پرستی نہیں کی۔ ان کی جبین اقدس جب بھی جھکی تو اللہ واحد کے سامنے جھکی۔ لوگوں نے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ اسلام اور ام المومنین خدیجۃ الکبری کے بغض میں کہنا شروع کیا کہ اسلام لانے والوں میں خواتین میں حضرت خدیجۃ الکبری اور بچوں میں حضرت علی ابن ابی طالب علیہ اسلام ایمان لائیں۔ حالانکہ سب سے پہلے رسالت مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کی۔ اس لیے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہنا پڑا کہ ”خدیجۃ الکبری نے اس وقت مجھ پر اپنا مال و دولت خرچ کیا جب لوگ چھپاتے تھے اور خدیجۃ الکبری نے اس وقت میری تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلاتے تھے“۔
حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی جانب سے اللہ کی راہ میں اور دین خدا کے لیے خرچ کرنے کے لیے اپنے خزانے، مال و دولت سب کچھ اپنے شوہر نامدار حضور نبی کریم ﷺ کے حوالے کردئیے۔ یہ اس عظیم بی بی کی عظمت کی کوئی حد قائم نہیں کی جاسکتی۔ ان کی عظمت و عفت و عزت و وقار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملیکۃ العرب کا اعزاز رکھنے والی عظیم خاتون کی جانب سے شعیب ابی طالب میں زندگی کے مشکل ترین حالات میں بھی حضور نبی کریم ﷺ سے ایک بھی حرف شکایت بیان نہیں کیا۔ جب کہ خواتین چھوٹے چھوٹے احسانات کرکے شوہروں کا جینا دوبھر کردیتی ہیں۔
ام المومنین خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کے پوری انسانیت اور اسلام پر اتنے زیادہ احسانات ہیں کہ جب بھی انکا اسم گرامی کسی انسان کے سامنے لیا جائے تو اس کا انگ انگ احساس ممنونیت اور احسان مندی سے جھک جاتاہے۔ کوئی بے شرم اور ننگ دین ہی حضرت ام المومنین خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کے احسانات سے انکاری ہوگا۔
ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی کل متاع عزیز ان کامال دولت اور ان کی اولاد تھی۔ دونوں اسلام کی ترویج اور حفاطت پر خرچ ہوئیں۔ فرمان مصطفی ﷺ ہے کہ دنیا کی تمام عورتوں کی سردار چار محترم خواتین ہیں۔ جن میں حضرت مریم سلام اللہ علیہا، حضرت آسیہ سلام اللہ علیہا، حضرت خدیجۃ الکبری اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
ہمارے منبروں اور محرابوں سے بیان ہوتا ہے کہ نبی کریم کی محبوب ترین بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ محبوب بہترین بیوی وہ ہے جن کو یاد کرکے اللہ کے محبوب نبی روتے تھے، جن کی حیات طیبہ میں کسی اور نکاح کی طرف دھیان نہیں دیا۔ نبی ﷺ کی محبوب بیوی کی یاد آنے پر صدقہ دیتے تھے، جس بیوی سے ملتی جلتی آواز سن کر اللہ کا نبی تڑپ کے اتھ جاتے۔ حضور نبی کریم ﷺ کی محبوب بیوی ہونے کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے انکی وفات پر پورے سال کو غم کا سال قرار دیدیا۔ جب بتک دنیا میں ایک بھی با ضمیر انسان زندہ ہے بی بی خدیجۃ الکبری کے ایچار،قربانی کے باعث ا انکا احسان مند رہے گا۔
10 رمضان المبارک تاریخ اسلام کا وہ دن ہے جس دن اللہ کے نبی نے خود کو تنہا سمجھا۔ حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی دولت اور مال کو اللہ تعالی قرآن مجید میں اپنا مال قرار دیا۔ بی بی خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی نبی کریم کی وفاداری اور تابع فرمان بیوی کی زندگی سے تعبیر ہے۔ ان کی حیات طیبہ آج کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی زندگی کی تاریخ کو بطور نصاب تعلیم اداروں میں پڑھایا جائے تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں انکی حیات طیبہ سے روشناس ہو سکیں













