سانحہ اے پی ایس کو 11 برس بیت گئے

0
842

سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) پشاور کو 11 سال مکمل ہوگئے، 2014ء میں آج ہی کے روز سفاک دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا تھا۔

16 دسمبر 2014ء کو سفاک دہشتگردوں آرمی پبلک سکول پشاور میں معصوم طلبہ پر حملہ کرکے 132 بچوں، خواتین اساتذہ اور سٹاف سمیت 147 افراد کو شہید کر دیا تھا، سانحہ اے پی ایس کا درد ہر والدین اور پوری قوم کا درد ہے، یہ ایک ایسا سانحہ ہے جس نے نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی گئی تھی، جو کہ آتشیں ہتھیار بھی افغانستان سے لے کر آئے تھے، 16 دسمبر 2014ء کو سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے سکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، خوارج نے بچوں کو چن چن کر قتل کیا۔

تھوڑی ہی دیر میں پاک فوج کے جوان سکول پہنچے اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام حملہ آوروں کو جہنم واصل کر دیا، اس کرب ناک دن کے اختتام پر پشاور کی ہر گلی سے جنازہ اٹھا، ڈیڑھ سو کے قریب شہادتوں نے پھولوں کے شہر کو آہوں اور سسکیوں میں ڈبو دیا۔

اسی دن نے پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی بنیاد رکھی اور ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا، دہشتگرد مسلسل افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم شہریوں کونشانہ بناتے ہیں۔

آج بھی پاکستان کی افواج اور عوام افغان دہشتگردوں سے نبرد آزما ہیں، ایک بار پھر پوری قوم کو مل کر ان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ پاک سرزمین کو سب کیلئے محفوظ اور جنت نظیر بنایا جا سکے۔

اس سانحے نے پوری قوم کو دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے متحد کیا اور سیکورٹی اداروں نے کامیاب کارروائیاں کرکے وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

پاکستان کی تاریخ میں 16 دسمبر 2014 وہ بدقسمت دن تھاجس نے ہر محب وطن پاکستانی کو دلگیر و اشکبار کیا، یہ وہ دن تھا جس کا سورج حسین تمناؤں اور دلفریب ارمانوں کے ساتھ طلوع ہوا، مگر غروب 132 معصوم و بے قصور بچوں کے لہو کے ساتھ ہوا۔

صبح دس سے ساڑھے دس بجے کے درمیان7 دہشت گرد اسکول کے قریب پہنچے اور اپنی گاڑی کو نذر آتش کیا۔ اس کے بعد سیڑھی لگا کر اسکول کے عقبی حصہ میں داخل ہوئے اور معصوم طالب علموں اور بےگناہ اساتذہ پر اندھادھند فائرنگ کی۔

سفاک دہشت گرد ایف سی کی وردیاں پہن کر اسکول میں داخل ہوئے، انسانیت سے سارے ناطے توڑ کر درندگی کو گلے لگانے والوں نے اسکول کے مرکزی ہال اور کلاس رومز میں گھس کر ان کلیوں کو بے دردی سے مسل ڈالا جو ابھی کِھل بھی نہ پائی تھیں۔

واقعے میں ا سکول پرنسپل طاہرہ قاضی بھی دیگر کئی اساتذہ کے ساتھ شہید ہوئیں اور ہمیشہ کیلئے امر ہوگئی۔ حملے میں 2 دہشت گردوں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا تھا۔

16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پشاور لہو لہو ہوا تو ریاست پاکستان نے رب ذوالجلال کو گواہ بنا کر یہ عہد کر لیا کہ جب تک عرض پاک سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہ ہو جائے حق و باطل اور بقا و فنا کی یہ جنگ جاری رہے گی۔

اے پی ایس پر لگے زخم نے حکومت وقت کو نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے اور کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو از سر نو فعال کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا۔

انہی اقدامات کے نتیجے میں دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، بلاشبہ اے پی ایس کے 132 بچوں سمیت 150 فرزندان وطن نے اپنے لہو سے وہ شمع روشن کی جس کی لو آج بھی تازہ و غیر متزلزل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY