لاہور کی عزاداری کی تاریخ وسن پورہ کی مسجد علامہ حائری کا کردار۔صفدر ھمٰدانی

6
2823

یہ تحقیق میں نے پہلی مرتبہ بارہ سال قبل دوہزار دس میں تحریر کی تھی جس میں پھر دوہزار بائیس میں کچھ اضافے کیئےہیں۔صفدر ھمدانی

……………………..

لاہور میں عزاداری کے میدان میں نواب قزلباش خاندان کی خدمات کے بعد لاہور میں عزاداری کا دوسرا بڑا تاریخی مرکز وسن پورہ میں ہے جہاں عزداری کی بنیاد مولاناسید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم نے ڈالی تھی اور انہیں کے گھر میں بعد ازاں پہلا جامعہ المنتظر کھلا تھا جو بعد میں ماڈل ٹاؤن منتقل ہو گیا۔

علامہ سید علی الحائری کے والد شمس العلما مولانا ابوالقاسم کو دراصل پہلی بار نواب قزلباشوں نے ہی مجلس خوانی کے لیئے لاہور مدعو کیا تھا اور یہ بات سن اٹھارہ سو کے درمیانی عشروں کی ہے۔ پھر اسی زمانے میں وسن پورہ میں جو ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا میرے دادا صفدر ھمدانی اور علامہ سید علی الحائری باہم دوستی کے رشتے میں منسلک ہونے کی وجہ سے ایک ہی جگہ سکونت پزیر ہوئے۔

علامہ حائری کےوالد ابوالقاسم نے وسن پورہ کی زمین خریدی تھی اور یہیں میرے دادا صفدر ھمدانی نے بھی انہی کے گھر سے متصل زمین خریدی اور یہیں پر اہل تشیح کی لاہور میں باقاعدہ پہلی جامع مسجد علامہ حائری کا قیام عمل میں آیا اور علامہ قاسم نے مختصر پیمانے پر ایک مدرسہ اور کتب خانہ بھی قائم کیا اور اسی مسجد میں عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا جہاں سات محرم کو علم غازی عباس اور نو محرم کو ذوالجناح کا جلوس نکلنا شروع ہوا اور یہ روایت آج تک قائم ہے۔

مجھ طالب علم نے بھی اپنی مجلس خوانی کی ابتدا پانچ چھ برس کی عمر میں یہیں سے کی کہ میرے والد مجھے میرا انیس کی رباعیات یاد کرواتے تھے اور پھر مجلس عزا کے آغاز میں مجھ سے پڑھوایا کرتے تھے۔ پھر اسی مسجد عزا خانے میں دن میں چونکہ خواتین کی مجالس ہوتی تھیں تو دوپہر میں بچوں کی مجالس کا سلسلہ بھی شروع گیا جس میں آغا اکبر شاہ کی بیٹی باجی حمیدہ کے بیٹے نجم رضوی کے علاوہ میں بھی مجالس پڑھنے لگا اور یہ منبر نشینی ہنوز جاری ہے

علامہ حائری کےوالد ابوالقاسم

سید ابو القاسم رضوی(1249ھ-1324ھ)برصغیر پاک و ہند کے شیعہ علماء میں سے ایک معروف ترین علمی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے ۔آپ 1249 ہجری قمری کو ہندوستان میں “فرخ آباد ” نامی جگہ پر پیدا ہوئے ۔آپ نے لکھنؤ کے جید علماء سے علوم دین کو حاصل کیا ۔ایران کے مشہور مراجع عظام نے آپ کیلئے اجتہاد کے اجازے تحریر کیے ۔آپ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ پاکستان کے معروف شہر لاہور میں بسر کیا ۔ آپ علوم آل محمدؐ کی نشرو اشاعت کے لیے دونوں ذرائع خطابت اور تحریر کو استعمال کرتے تھے جبکہ مذہب آل محمدؐ کی نشر و اشاعت اور مذہب حقہ کے دفاع کی غرض سے اردو ، فارسی اور عربی میں تقریبا 48 کے قریب تالیفات اور تصنیفات چھوڑیں۔جن میں سے 29 تالیفات شائع ہوئیں اور باقی شائع نہیں ہو سکیں ۔ان تمام تصانیف میں سے معروف اور شہرہ آفاق ترین تالیف قرآن پاک کی ایک تفصیلی تفسیر ہے جسے آپ نے “لوامع التنزیل سواطع التاویل” کے نام سے لکھنا شروع کیا اور بارہ جلدوں کو آپ نے اپنی زندگی میں مکمل کیا جن میں سے چھ جلدیں آپ کی زندگی میں چھپ چکی تھیں۔ باقی جلدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی ۔اسی تالیف کی وجہ سے آپ دنیائے تشیع کی ایک علمی شخصیت مانے جاتے ہیں ۔ 14 محرم الحرام 1324 ہجری قمری کو پاکستان کے شہر لاہور میں آپ کا انتقال ہوا اور آپ کو آپکی وصیت کے مطابق اسی شہر میں بھاٹی گیٹ کے باہر ” کربلا گامے شاہ” میں دفن کیا گیا۔
نام ونسب آپ کا نسب آپ کے فرزند سید علی حائری رضوی نے مرحوم کی تصنیف “سیادۃ السادہ” سے یوں نقل کیا ہے: سيد أبو القاسم بن الحسين بن النقى بن أبى الحسن بن الحاج سيد محمد (جو کشمیر کے گاؤں أحمد پوره میں مدفون ہیں) بن السيد حسين القمى بن السيد محمد بن السيد احمد بن السيد منهاج بن السيد جلال بن السيد قاسم بن السيد على بن السيد حبيب بن السيد حسين بن أبى عبدالله السيد احمد نقيب القم بن أبى على السيد محمد الاعرج بن أبى المکارم السيد احمد بن أبى جعفر السيد موسى المبرقع بن الإمام الهمام أبى جعفر محمد التقى عليه السلام بن الإمام على الرّضا عليه السلام بن الإمام موسى الکاظم عليه السلام بن الإمام جعفر الصادق عليه السلام بن الإمام محمد باقر عليه السلام بن الإمام زين العابدين عليه السلام بن الإمام أبى عبد الله الحسين عليه السلام بن الإمام أمير المومنين على ابن أبي طالب عليه السلام وأمهم (1)البتول فاطمه سيدة نسآء العالمين بنت محمد المصطفى رسول ربّ العالمين خاتم النبيين بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد المناف.
ابو القاسم رضوی کے دادا “سید حسین رضوی ” ایران کے شہر “قم” سے کشمیر میں تشریف لائے اور یہیں مقیم ہوئے جبکہ آپ کے والد “سید حسین”اون کی تجارت کی غرض سے ہر سال لکھنؤ جاتے اور بادشاہ سے ملاقات کرتے تھے ۔
(2)بعض محققین کا کہنا ہے کہ ابو القاسم کی تالیفات کے بعض پرانے خطی نسخے مثلا حق الیقین (3)یا مودۃ القربیٰ وغیرہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اصل نام ابو القاسم نہیں تھا بلکہ قاسم تھا بعد میں ابو القاسم معروف ہو گیا ۔اس نام کے معروف ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہے ۔ آپ کا نام قاسم تھا لیکن پھر آپ ابو القاسم کے نام سے معروف ہو گئے ۔
پیدائش اور تعلیمی مراحل ابو القاسم رضوی 1249ہجری قمری میں ہندوستان کے شہر فرخ آباد میں پیدا ہوئے ۔ بچپن سے ہی علوم دینی کی تعلیم کا شوق آپ پر غالب تھا ۔ سن بڑھنے کے ساتھ ساتھ عقل اور علوم دین سے لگاؤ بڑھتا گیا ۔ان کے والد چاہتے تھے کہ ابو القاسم رضوی تجارت میں نام کمائیں لیکن آپ نے اس کی طرف بالکل توجہ نہیں کی بلکہ تمام تر توجہ علوم دین کی طرف رہی ۔

ابتدائی دینی تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد اصول فقہ ، اصول عقائد ،علم تفسیر،علم حدیث اور دوسرے علوم کے حصول کیلئے لکھنؤ میں فخر مجتہدین آیت الله فی العالمین سلطان العلماء آقا سید محمد کے پاس علم دین حاصل کرنے میں مشغول ہوگئے جو حاکم وقت محترم واجد علی شاه کی جانب سے مفتی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے ۔سلطان العلماء کے پاس تعلیمی مراحل کے تمام ہونے کے بعد آپ “فاضل ابو القاسم ” کے لقب سے مشہور ہو گئے۔سلطان العلماء اور سید العلماء سید تقی صاحب سے امامت کا اجازہ حاصل کیا ۔
لاہور میں آمد اپنے بھائی سید احمد اور سید محمد، اہل خانہ ،والدین اور دیگر نزدیکی رشتے داروں کے ہمراہ عتبات عالیہ کی زیارت کی نیت سے جاتے ہوئے لاہور پہنچے ۔لاہور کے اس وقت کے نواب علی رضا خان قزلباش نے جیسے ہی آپ کے علم و فضل اور کما ل کا سنا تو اس نے لاہور کے اہالیان کی ہدایت اور تعلیم کیلئے آپ سے یہیں رہنے کی درخواست کی ۔ آپ نے وہاں چند دن قیام کیا تو اسی دوران سر آنریبل حاجی نواب نوازش علی خان نے اپنے بھائی نواب ناصر علی خان قزلباش کے ہمراہ حج ،مدینہ اور آئمہ طاہرین کی زیارات کا ارادہ کیا تو وہ حسب وعدہ علامہ کو مناسک حج کی تعلیم کی غرض سے اپنے ہمراہ لے گئے ۔

لاہور میں تبلیغ دین
نواب قزلباش طبیعت کے لحاظ سے ایک پاک و پاکیزہ شخصیت کے مالک تھے اور لاہور کے جاہل اور باغی معاشرے کے لوگوں میں شریعت محمدی کے احکامات اور مذہب آل محمد ؐ کی نشرو اشاعت کی ترویج ان کی زندگی مقصد تھا ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے علامہ کو اپنے شہر واپس جانے سے روک لیا نیز آپ کے اہل خانہ سمیت تمام افراد کے اخراجات اپنے ذمے لئے ۔ لاہور کا شہر عرصۂ دراز سے جہالت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن نواب صاحب اور علامہ صاحب کی کوششوں کی بدولت “دار الشریعہ و العلم ” معروف ہو گیا ۔

اہم دینی خدمات
زیارات مقدسہ سے واپس آنے کے بعد علامہ ابو القاسم نے تبلیغ دین کے بہت سے امور انجام دئے لیکن ان میں سے بعض کا ذکر کیا جانا ضروری ہے :

مدرسہ امامیہ کا قیام
سب سے پہلے آپ نے اس شہر میں ایک “مدرسہ امامیہ”کے نام سے دینی مدرسے کو قائم کیا جس کے طلاب ،اساتذہ ،کتب کی فراہمی اور دیگر تمام اخراجات کی فراہمی نواب صاحب نے اپنے ذمے لی تھی نیز لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں کے طلاب کی اعلی رہائش اور طعام کا انتظام بھی اسی مدرسے میں کیا گیا ۔ مدرسے کی بڑی کلاسوں کے طلباء آپ کے درس میں شریک ہوتے تھے ۔اس مدرسے میں فقہ ،حدیث ، تفسیراور… سے بہرہ مند ہونے والے بہت سے طلباء آج پنجاب کے مختلف شہروں میں دین کی تبلیغ میں مشغول ہیں ۔

چونکہ عام طور پر علامہ صاحب کا بیان قرآنی حقائق اور فریقین کی احادیث پر مشتمل لیکن تعصب سے خالی ہوتا تھا اس لئے ہر ملت و مذہب کے لوگ بڑے شوق سے ان کی تقاریر کو سنتے تھے اور یوں تقریبا پچاس سال کے عرصے میں پچاس ہزار (50,000) کے قریب لوگوں نے شیعت کو قبول کیا ۔

تصنیفات
ان تمام مصروفیات کے باوجود آپ ہمیشہ تحریر و تالیف میں مشغول رہے اور اپنے بعد 48 کے قریب علمی تالیفات کا ذخیرہ چھوڑا جن میں سے 29 کے قریب تالیفات آپ کی زندگی میں ہی چھپ گئیں تھیں ۔ آپ کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصنیفات کی فہرست درج ذیل اسماء پر مشتمل ہے :

چند مطبوعہ تالیفات
فارسی تالیفات
(5)ازالہ الغین
معارف ملت ناجیہ و ناریہ(فارسی)؛
ناصر العترة الطاہره (فارسی)؛
(6)برہان المتعہ (فارسی)
(7)کتاب البشری، شرح مودة القربی ہمدانی در دو جلد (فارسی)
حقائق لدنی، شرح خصائص امام نسائی (فارسی)؛
سیادة الساده (علم نسب)(فارسی)؛
تجرید المعبود در شبہہ یہود(فارسی)؛
(8)ابطال تناسخ(فارسی)
جواب لا جواب، اثبات تعزیہ داری (فارسی)؛
خیر خیر پوری در اجوبہ سنیان (فارسی)؛
رسالہ نفی الجبر (فارسی)؛
رسالہ نفی رویت الله (فارسی)؛
(9)اجوبہ زاہره جواب سنیان (فارسی)؛
جواب العین در وجہ کسوفین(فارسی)؛
(10)انوار خمس در فقہ (فارسی)؛
ہدایت الغالیہ، جواب غالیہ (فارسی)؛
برہان البیان، تحقیق آیہ استخلاف (فارسی)؛
جواب بالصواب در طعام اہل کتاب (عربی)؛
ہدایت الاطفال در علم عقاید درسی (فارسی)؛
تکلیف المکلفین، حصّہ اول در عقاید(فارسی)؛
تکلیف المکلفین، حصہ دوم در فروع دین؛
(11)ارض العتاق در اباحہ زمین کربلا (فارسی)؛
حکمت الایلام در اسباب ابتلا (فارسی)؛
رسالہ ابراز در اعجاز علی وقت خلافت (فارسی)؛
رسالہ تعبد ما لا بد وجہ سجده کردن بہ طرف کعبہ (فارسی)؛
رسالہ غروب الشمس (فارسی)
(12)اظہار الحقیقہ(مطبوعہ ہونے اور زبان کا علم نہیں ہے۔)(
عربی تصنیفات
(13)حجج العروج (عربی)؛
(14)شق القمر (عربی)؛

اردو تصنیفات
ارکان خمسہ در فقہ (اردو)؛
(15)برہان البیان (اردو)
غیر مطبوعہ تصنیفات
فارسی تالیفات
آپ کی غیر مطبوعہ کتابوں کی فہرست :

تذکره ملاء الاعلی در کلام (فارسی)؛
(16)زبدة العقاید (فارسی)؛
صیانۃ الانسان، اجوبۃ اسئلۃ نصاریٰ (فارسی)؛
رسالہ خمس سادات؛
رسالہ حرمت نوروز (فارسی)؛
تخریج الآیات (فارسی)؛
جُنّہ واقیہ در عقاید، جلد اول؛
جنہ باقیہ در فروع دین، جلد دوم.
عربی تصنیفات
(17)خلاصۃ الاصول (عربی)؛
تعلیقۃ بر شرح شیخ مقداد بر فصول طوسی؛
تعلیقۃ بر شرح تجرید علامہ (عربی)؛
تعلیقۃ بر تہذیب الاصول علامہ (عربی)؛
تعلیقۃ بر شرح باب حادی عشر (عربی)؛
تعلیقۃ بر شرح میر عبد الوہاب (عربی)؛
شرح تبصره فقہ علامہ (عربی)؛
(18)رسالہ ابانہ در مصاہره صحابہ (عربی)؛
براہین اللعنۃ (عربی)؛
تعلیقۃ بر شرح مبادی الاصول علامہ
(19)الاصابہ۔
(20)الایقان

شمس العلما مولانا ابوالقاسم کی وفات 1906میں ہوئی جس کے بعد یہ سب انتظام انکے بیٹے علامہ سید علی الحائری نے سنبھالا اور انکی وفات کے بعد علم کا یہ در اس خاندان میں بند ہو گیا لیکن علامہ حائری کے بیٹوں نے مسجد میں نماز اور عزاداری کا سلسلہ قائم رکھا۔

علامہ سید علی الحائری

میں ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جس نے علامہ حائری کے سب بیٹوں کو دیکھا اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھے کی سعادت بھی حاصل رہی۔ علامہ حائری کے بیٹوں میں آغا سید رضی ،آغا سید ذکی اور آغا سید تقی سب وفات پا چکے ہیں اور اب یہ خاندان لگ بھگ سارے کا سارا وسن پورہ چھوڑ کر لاہور کی جدید آبادیوں میں مقیم ہو چکا ہے۔

علامہ سید علی الحائری کی تین بیٹیاں تھیں جن میں خالہ سائرہ جن کے شوہر آغا سید رضی تھے جو ہمارے بچپن میں کالا شاہ کاکو کے حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ پھرخالہ ذکیہ جن کے شوہر آغا سید حامد حسین تھے جنہوں نے ستر کے عشرے میں لاہور گلبرگ میں مجالس کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

آغا حامد کے بیٹوں میں سلیم، نعیم اور حسنی ہیں۔ نعیم فلمی دنیا کے مقبول کیمرہ مین رہے ہیں جنہوں نے اپنے وقت کی مایہ ناز فلم سٹار دیبا سے شادی کی تھی۔ حسنی میرے ساتھ لاہور کے ایف سی کالج میں تھا اور اب شاید امریکہ میں مقیم ہے ۔

علامہ حائری کی سب سے چھوٹی بیٹی خالہ عالیہ تھیں جنکے شوہر سید تقی تھے جنہیں ہم سب آغا بابا کہتے تھے جو کراچی میں ہوٹل کے بزنس سے منسلک رہے اور پھر لاہور وسن پورہ میں ہی سکونت اختیار کر لی۔

ہو سکتا ہے کہ بہت سے احباب کو اس تفصیل سے کوئی دلچسپی نہ ہو لیکن میں نے اسے اس لیئے لکھ دیا کہ ایک بار یہ سب باتیں محفوظ ہو جائیں کہ اس سے قبل ایسے جید اصحاب کے خاندانوں کے بارے میں کہیں بھی کچھ نہیں لکھا گیا۔

یہاں ایک اور تاریخی حقیقت کی طرف صرف اشارہ کرتا چلوں جو مجھے میرے والد مرحوم مصطفیٰ علی ھمدانی نے بتائی تھی اور اس بات کا ذکر انہوں نے لاہور کی عزاداری کی تاریخ کے موضوع پر بنائی جانے والی ریڈیو لاہور کے اس واحد دستاویزی پروگرام میں کیا تھا جو شاید اب ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں بھی موجود نہ ہو حالانکہ اس پروگرام کو میں نے خود اپنے ہاتھوں سے سنٹرل پرڈکشن کے آرکائیو رجسٹر میں درج کیا تھا۔

یہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے دس محرم کے تاریخی جلوس کا جو راستہ ہم گزشتہ کئی عشروں سے دیکھ رہے ہیں دراصل یہ وہ (روٹ)راستہ نہیں ہے جو ابتدا میں تھا۔ 1850کے عشرے میں موچی دروازے سے دس محرم کے ذوالجناح کا پہلا جلوس مبارک حویلی سے نکلا تھا کیونکہ اسوقت نثارحویلی الگ نہیں تھی۔

یہ تو بعد میں 1928میں خاندانی تنازعوں اور جائیداد کی تقسیم کی وجہ سے عمل میں آئی اور یہ جلوس نثار حویلی سے نکلنے لگا۔ بر سبیل تذکرہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیئے عرض کرتا چلوں کہ کوہ نور ہیرا ایک زمانے میں اس مبارک حویلی میں بھی رکھا گیا تھا۔مرحوم شاہد نقوی نے بھی اپنی تحیقی کتاب‘‘عزاداری‘‘ میں اس تاریخی جلوس کا جو راستہ لکھا ہوا ہے وہ بھی موجودہ راستہ ہے۔

ابتدا میں دس محرم کی نصف شب میں نثار حویلی سے برآمد ہو کر نماز فجر تک محلہ شیعاں میں پہنچتاجہاں فجر کی نماز ادا کی جاتی اور پھر یہاں سے لال کھوہ سے ہوتا ہوا جلوس کیلیاں والی سڑک پر نکل جاتا جسے آج کل براندرتھ روڈ کہا جاتا ہے۔

اس کیلیاں والی سڑک سے جلوس سیدھا انار کلی کے باہر سے ہوتا ہوا بھاٹی دروازے پہنچتا تھا جہاں سے داتا دربار کے عقب میں کربلائے گامے شاہ میں اسی جگہ اختتام پزیر ہوتا تھا جہاں آج تک ہوتا ہے۔ اس طرح اس بڑے اور کشادہ راستے پر اس تاریخی عظیم الشان جلوس کی شان ہی کچھ اور ہوتی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ 1958میں جب نواب مظفرقزلباش اسوقت کے مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے تو حکومت کے ارباب بست وکشاد نے انہیں اس راستے کو تبدیل کرنے کو کہا۔ سیاست اور سیاست دانوں کی اپنی دنیا اور اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہمارے بزرگ بتاتے تھے کہ نواب مظفر علی خان قزلباش نے اپنی چیف منسٹری کے زمانے میں اس راستے کو تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی اور آج یہ تاریخی جلوس اندر ہی اندر تنگ و تاریک گلیوں اور بازاروں سے ہوتا ہوا کربلائے گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور باہر دنیا کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا بڑا اور کیساتاریخی جلوس ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد خاندان نواباں کے نواب مظفر علی خان واحد آدمی تھے جو سیاست میں آنے کے باعث معروف ہوئے اور انکے بعد انکی بیٹی افسر رضا قزلباش۔

نواب مظفر علی سیاستدان کے طور پر پہلے یونینسٹ،پھر مسلم لیگی اور پھر رپبلکن پارٹی میں رہے اور اسی پارٹی کے جھنڈے تلے 1957میں وزیر اعظم اسماعیل چندریگر کی کابینہ میں وزیر صنعت رہے۔اسی سن میں وزیر اعظم فیروز خان نون کی حکومت میں صنعت،تجارت اور
پارلیمانی امور کے وزیر رہے اور اٹھارہ مارچ 1958میں مغربی پاکستان کے چیف منسٹر مقرر ہوئے اور سکندر مرزا کے مارشل لا تک اس عہدے پر تھے۔پھر ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل یحییٰ کے مارشل لا میں نواب مظفر علی خان 4اگست1969سے 22فروری1971تک وزیر خزانہ رہے۔

پھر 1958 کے بعد سے اب تک اس جلوس کا راستہ یہ ہے کہ نثار حویلی سے نکلنے کے بعد محلہ چہل بیبیاں سے ہوتا ہوا محلہ شیعاں کی مسجد میں پہنچتا ہے جہاں اذان اور نماز فجر کے بعد زنجیر زنی ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ جلوس چوہٹہ مفتی باقر،چوک مسجد وزیر خان،کشمیری بازار،ڈبی بازار،چوک رنگ محل،گمٹی بازار،پانی والا تالاب، تحصیل بازار اور بازار حکیماں سے ہوتا ہوا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔

بازار حکیماں وہی جگہ ہے جہاں 1933اور1935 کے درمیان سر مراتب علی شاہ نے امام باڑہ سیدہ مبارک بیگم تعمیر کروایا جہاں لاہور کے قدیمی اور معروف مجالس منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے۔ اسی علاقے میں کوچہ فقیر خانے میں امام باڑہ فقیر سید حسن الدین بھی معروف ہے۔

شہر کے اندر ہی اندر اس جلوس کے نکلنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ تین یا چار بار بہت شدید شیعہ سنی فسادات اسی جلوس کے موقع پر اندرون شہر میں ہوئے۔1963میں بھاٹی دروازے کی اونچی مسجد ے ذوالجناح پر انیٹوں کی بارش کی گئی جس سے کئی ہلاکتیں بھی ہوئیں اور لاہور شہر کی فضا کافی عرصے تک خراب رہی۔

ایک زمانہ تھا جب لاہور میں واحد ذوالجناح نوابین کا تھا لیکن پھر الف شاہیوں اور آغا شاہ زمان نے بھی ذوالجناح رکھنے شروع کیئے اور پھر دو ہزار آٹھ میں لاہور میں ساٹھ سے زیادہ ذوالجناح برآمد ہوتے اور اب یہ تعداد مزید زیادہ ہو چکی ہے لاہور شہر میں سات محرم کو سات ذوالجناح نکلنے کی روایت بدستور قائم ہے۔

لاہورشہر کے طول وعرض میں ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر مجالس امام حسین کا سلسلہ محرم کی پہلی شب سے شروع ہوکرچہلم امام تک جاری رہتا ہے اور اسی طرح لاہور میں کربلا گامے شاہ بھی محرم کی مجالس کا ایک مرکزی نکتہ ہے۔

اسی طرح آہستہ آہستہ لاہور میں جو عزاداری کے مراکز قائم ہوئے ان کی تعداد بلا مبالغہ اتنی ہے کہ صرف یہ نام لکھنے کے لیئے ایک مکمل کتاب درکار ہے لیکن اسوقت میں نہایت اختصار سے چند عزا خانوں کی صرف فہرست لکھ رہا ہوں

موچی دروازہ میں مبارک اور نثار حویلی اور وسن پورہ کی مسجد علامہ حائری کے علاوہ ہزاروں عزا خانوں میں سے چند نام اس طرح ہیں۔ رباط حیدریہ موچی دروازہ، حسینہ حال جس کا پرانا نام امام باڑہ تکیہ نتھے شاہ تھا،امام باڑہ ارسطو جاہ رجب،امام باڑہ سید واجد شاہ،امام باڑہ کشمیریاں،امام باڑہ شیر گڑھیاں،امام باڑہ غلام علی اور ڈپٹی غلام حسن، امام باڑہ رضا شاہ صفوی،امام باڑہ ایوب شاہ،امام باڑہ لال حویلی،امام باڑہ خواجگان نارووالی، امام باڑہ جعفر علی میر،امام باڑہ قصر سکندر، امام باڑہ غریب نینوا، امام باڑہ امیر پہلوان اور اکبر شاہ، امام باڑہ سیدے شاہ اور خواجہ علی محمد، امام باڑہ بازار حکیماں اور تکیہ میراثیاں، امام باڑہ مائی عیداں، حسین منزل، مبارک بیگم،کاشانہ رضویہ، گامے شاہ،ایرانیاں، حسینیہ پاک نگر، مرزا نتھا، ڈاکٹر ریاض علی شاہ(جہاں لاہور میں صبح کی سب سے پہلی مجلس ہوتی ہے) امام باڑہ علی مسجد، قصر حسن، مسجد نور، رشی بھون، شیخ سعادت علی، سید اظہر حسن زیدی، عطیہ اہلبیت، دربار حسینی، بھوگیوال، ریلوے بیرکس، بی بی پاک دامناں، قصر زہرہ، آغا شاہ زمان، امام باڑہ مظفر علی شمسی،حافظ کفایت حسین، کرنل فدا حسین، سجادیہ، خواجہ ذوالفقار علی، امامیہ ہال،خیمہ سادات، بیت السادات، باغ گل بیگم، قصر بتول، سید شوکت حسین رضوی، سادات منزل،گلستان زہرا، خانہ زینبیہ، نجف منزل، شاہ نجف گلبرگ، اسد بخاری، میڈم نور جہان، مراتب علی شاہ، علی رضا آباد، کلسی ہاؤس،زیدی ہاؤس، پانڈو سٹریٹ، بلاک سیداں، بلتستانیہ، جامعہ المنتظر،سیٹھ نوازش علی، کوٹھے پنڈ، مرزا محمد عباس، مومن پورہ،باٹا پور، سید حسن عباس زیدی، وجاہر عطرے، عالم شاہ، سیدن شاہ، جیا موسیٰ، کٹرہ ولی شاہ، الف شاہ دلی دروازہ، سوڈیوال، شاہ خراسان، محلہ داراشکوہ،حویلی میاں خان، لال پُل مغلپورہ اور کاشانہ شیخ دولت علی۔

لاہورمیں اردو مجالس کے علاوہ فارسی،عربی ،پنجابی اور کشمیری مجالس کا بھی رواج رہا ہے جووقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ختم ہو چکا ہے یا پھر شاید کسی ایک جگہ پر جاری ہو۔ کشمیری مجالس کا رواج تو ابھی ستر کے عشرے کے اواخر تک خوب تھا اور کشمیری ذاکرین میں موسیٰ شاہ اور احمد علی کو بہت مقبولیت تھی۔

اسی طرح لاہور میں جن علما نے اپنے علم و فضل کے چراغ روشن کیئے ان میں مہدی خطائی، ملا ابراہیم، ملا معصوم، ملا فقیر اللہ، عماد الدین، راجو بن حامد، ابوالقاسم حائری، سید علی الحائری، شیخ عبدالعلی ہروی تہرانی، آغائے بارھوی، ارسطو جاہ سبزواری، شمس العلما سید سردار حسن، علامہ ابن حسن نو نہروی، علامہ ہندی، سید کلب حسین، ضمیر الحسن نجفی، حافظ کفایت حسین اور لکھنؤ کے علامہ نقی عرف نقن میاں حافظ ذوالفقار علی ،مولانا اظہر حسن زیدی، فاتح ٹیکسلا مولانا بشیر، ابن حسن نجفی، مرزا یوسف حسین اور ضامن حسین، مولانا ظفر مہدی، حافظ سیف اللہ، اسمعیل دیو بندی، مرتضیٰ حسین فاضل، نصیر الاجتہادی ، مفتی جعفر حسین ،مولانا اختر عباس، علامہ طیب الجزائری، مولانا اکبر عباس اور افسر عباس، سید محمد جعفر زیدی „ محبوب ھمدانی اور سید ظفر حسین کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اسی فہرست میں ایک نام غلام الحسنین ‘‘پنڈت نیک رام‘‘ کا ہے جنہیں سننے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ عشق شبیر کی لو کب اور کہاں بھڑک اٹھے کچھ علم نہیں ۔ اسی کا اعجاز پنڈت نیک رام تھے جو ہندو سے شیعہ ہوئے تھے اور پھر انہوں نے اپنی ساری زندگی فضائل و مصائب آل محمد بیان کرنے میں گزار دی۔

اسی طرح سے لاہور میں،ذاکرین، مرثیہ نگاروں، شعرائے اہلبیت، سلام ،سوز اور نوحہ خوانوں کی بھی ایک نہایت طوپل فہرست ہے جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ منظور حسین برا، ریاض حسین موچھ، سائیں اختر حسین، حامد علی بیلا، بشیر علی ماہی، رجب علی، سید ناصر جہان، نذر حسین، پرویز مہدی، میر ناظم حیسن ناظم، شکور بیدل، اداکار محمد علی، منظور جھلا،سید نازش رضوی، آفتاب حسین لکھنوی، فیروزعلی کربلائی، مشیر کاظمی، فیروز علی کربلائی، ظہور حیدر جارچوی ۔ کاظمی برادران۔ سہیل بنارسی۔ سید جرار حسین۔سید محسن علی۔امانت علی فتح علی، پیارے خان، حسین بخش گلو، چھوٹے غلام علی، شوکت علی، غلام علی، ڈاکٹر صفدر حسین، فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی حکیم احمد شجاع،قیصر بارھوی، وحید الحسن ہاشمی،پروفیسر مسعود رضا خاکی، میر ناظم حسین ناظم،سیف زلفی، ظفر شارب، جعفر طاہر، جوش ملیح آبادی اور ایسے ہی کتنے ناموں کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

مرثیہ تحت اللفظ کے بعد اب جیسے علما اور جید خطبا کا عہد ختم ہو چکا ہے اور مجالس پڑھنے والوں میں کمرشل ازم کے رواج نے علمی اور فکری مجالس کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب محرم کی مجالس میں مقبول ذاکروں، نوحہ خوانوں کی آڈیو اور ویڈیو کیسٹیں اور سی ڈیز بڑی تعداد میں رواج پاگئی ہیں اور پہلی محرم سے کیبل آپریٹرز نے چند چینلوں کو دن رات کے لیے مسلسل مجالس اور نوحہ خوانی کے پروگراموں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو محرم کی تقریبات میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اسی طرح ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی ریکارڈ شدہ مجالس کے ساتھ ساتھ براہ راست یعنی لائیو مجالس کا نشر کرنا بھی رواج پا گیا ہے۔

محرم کی مجالس کا بنیادی پہلو تو مذہبی ہے لیکن اس سےانکار نہیں کہ لاہور شہر کی تہذیبی روایات بھی اس میں گہری پیوست ہیں اور بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی نذر نیاز اور لاکھوں لوگوں کے شہر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے ٹرانسپورٹ کے استعمال سے کاروبار کو جو فروغ ملتا ہے وہ اس کا ضمنی پہلو تو ہے لیکن کم اہم نہیں۔

مجھے اس امر کا ادراک بھی ہے اور اعتراف بھی کہ میں موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر پایا۔ ابھی بھی صرف لاہور کے محرم کے اتنے پہلو باقی ہیں کہ جن پر لکھا جانا چاہیئے جیسے وہ مجالس جو صبح سے شروع ہو کر رات تک جاری رہتی ہیں۔

میں نے صرف پہلے سے کی گئی تحقیق میں بس ایک جرعہ تحقیق شامل کیا ہے۔ دعویٰ ھمہ دانی کا قطعی نہیں۔ اس تحریر میں اگر کوئی کمی یا خامی رہ گئی ہے تو وہ میری کم علمی ہے۔ علم میں اضافے کی دعا کے لیئے کوئی وقت یا دن معین نہیں۔ یہ دعا ہر کوئی ہر وقت اور ہر جگہ کر سکتا ہے۔

طالب دعا

احقر

صفدر ھمدانی

دنیا یہ نہ ہو گی مگر اسلام رہے گا
شبیر بہر حال تیرا نام رہے گا(نجم آفندی)

SHARE

6 COMMENTS

  1. ماشاءاللہ آج لاہور کی عزاداری کی تاریخ کا علم ہوا

  2. I am not agree with this history many of things are wrong sorry to say Khawaja Basharat Hussain karbali

  3. Masjid Allama Hairy ki Zameen Mary Great Grand Father Agha Muhammad Ali Khan or un k bhai Agha Ghulam Ali Khan nay Hadiya ke the. Or Phla Jamia tul Muntazir imambargah Husainia Hall , Mohalla Shiyan Mochi gate ma tha. Please correct the details.

    • یہ آپکا نکتہ نظر ہے لیکن میں نے یہ نام نہ حائری فیملی سے اور نہ ہی اپنے بزرگوں سے کبھی سنے

LEAVE A REPLY