*ریڈیو پاکستان کی بقا میں اپنا حصہ ڈالیں۔*،سردار علی زئی

0
1240

جی ہاں، نصف صدی سے زیادہ پہلے ایک وقت تھا، جب پرنٹ میڈیا کے علاوہ ریڈیو پاکستان معلومات، تعلیم اور
تفریح ​​کا واحد الیکٹرنک ذریعہ تھا۔ نہ کوئی ٹی وی چینل تھا نہ ہی کوئی موبائل ڈیوائس یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمزتھے تب آپ کے آباؤ اجداد ریڈیو سننے کا لائسنس (براڈکاسٹ ریسیور لائسنس) حاصل کیا کرتے تھے ۔

ماضی گزر گیا اور ماضی کبھی برقرار نہیں رہاہے۔ لیکن زمانے کی کروٹ بدلنے کے ساتھ ریڈیو نے بھی وقت
سے ہم آہنگ کروٹ بدلی ۔ سال 2000 کی پہلی دہائی کے دوران اور اس سے پہلے 90 کی دہائی کے اواخر میں،
متعدد نجی ٹی وی چینلز کے علاوہ حکومت کے زیر کنٹرول پی ٹی وی/ریڈیو پاکستان اے ایم اور ایف ایم ریڈیو چینلز
کے ساتھ ساتھ حکومتی اور نجی شعبوں نے زمینی اورمواصلاتی سیاروں کے سیٹلائٹ ٹرانسمیٹرز کے ذریعے جدید
ٹیلی کاسٹنگ اور ریڈیوبراڈکاسٹنگ کو جدت دی ۔

الیکٹرانک میڈیا کے افق پر ابلاغیات میں زبردست انقلابی تبدیلیاں
رونما ہوئیں ، پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں نمایاں ترقی اور بہتری کے باوجود ریڈیو پاکستان اب بھی قومی
اور بین الاقوامی معاملات میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تفریح اور تعلیم کے علاوہ، یہ 28 سے زائد زبانوں میں
اپنے مقامی اور بیرونی نیٹ ورکس کے ذریعے ملک اور دنیا بھر میں ہونے والی تازہ ترین سماجی سیاسی/سماجی
اقتصادی پیش رفت کی صوتی تصاویر فراہم کرتا ہے۔ فی زمانہ ٹیکنالوجی نے کئی گنا ترقی کی ہے، ریڈیو کو اب
موبائل فون/ ڈیوائسز، کلائی گھڑیوں سڑکوں اور ریل ہٹڑیوں پر چلنے والی ریل گاڑیوں، موٹر گاڑیوں اور ٹرکوں
میں بھی سنا جا سکتا ہے۔

عوام کو سہولیات کے حصول کے لیے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ ریڈیو پاکستان عام لوگوں
کو فراہم کی جانے والی سہولیات میں سے ایک ہے اور یہ حقیقی طور پر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کی مالی
معاونت کے لیے وضع کردہ طور طریقے کےعین مطابق ریاست کی طرف سے مالی امداد کا مستحق ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY