اٹلی کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 28 پاکستانی شہریوں سمیت 59 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی افراد لاپتا ہیں جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق کشتی میں لگ بھگ 200 افراد سوار تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ اتوار کی صبح جب کشتی ساحل کے قریب پہنچی تو چٹان سے ٹکرانے کے باعث ٹوٹ گئی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔
اقوامِ متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 100 کے لگ بھگ ہو سکتی ہے جب کہ 80 افراد کو بچا لیا گیا ہے جن میں سے بعض تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
ایجنسی کا کہنا ہے کہ کشتی میں افغانستان، پاکستان اور صومالیہ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن بھی سوار تھے۔
اٹلی کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکام نے ایک شخص سے پوچھ گچھ بھی کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان افراد کو یورپ پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔













