جہاں نفرت پنپتی ھو محبت خاک پھوٹے گی
لہو سے آبیاری کر کے اُلفت بانٹنے والو!
بتاؤ کب تلک یوں بے کفن لاشے اٹھاو گئے
بلکتے روتے بچوں کو یقیں کیسے دلاؤ گے
کہ اُنکے جانے والے لوٹ کر واپس نہ آئیں گے
جواں بیٹی سے ماں کا زرد پلو چھٹ گیا کب کا
یہاں پر پتھروں پہ عصمت کے پھول بکھرے ھیں
جوانی جن کی شرماتی تھی سورج کو
شہیدوں کے لبوں پہ سنیئےکچھ شکوے مچلتے ھیں۔
کہو تو کب تلک یوں آسماں سے خون برسے گا
چناروں میں لگی یہ آگ کیا
بجھ بھی پائے گی
کوئی آ کر یتیموں کو دلاسہ دے گا کیا کہہ دو
یا پھر ان بے کفن جسموں کو ہر بار
اسی طرح سے اغیار اپنے بوٹوں سے ہی روندیں گے
یہ مسند پہ حکومت کی جو بونے آج بیٹھے ہیں
انہیں کیا قتل گاہوں کی خبر ہے
مدینے کی ریاست کا یہ دعوی صرف دعوی ہے
سنو اے گونگے بہرے حاکمو
اس سے پہلے کہ یہ آتش تم کو اور تمہارے گھروں کو چاٹ جائے
ستم کو ظلم کو ظالم کو جڑ سے ہی اکھاڑو
مجھے اتنا بتا دو
ماہتابی نوجواں کب دف بجا کر
سلگتی بانسری پہ امن کے پھر گیت گائیں گے
وطن سے دور یہ بچھڑی ھوئی کونجیں
فلک سے درد کی آواز میں پیغام دیتی ھیں
یزیدوں کی یہ نسلیں آج بھی دشمن ہماری ہیں
مقدسہ بانو













