اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی دوسری کتاب” قانون اورعوام “مارکیٹ میں دستیاب
اپنی نوعیت کی منفرد کتاب اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات اور قانونی نظائر کی عام فہم تشریحات کا مجموعہ ہے
لاہور( ) قومی زبان اردو میں پاکستان کے مروجہ قوانین کی تحقیق کے حوالے سے بہت کم لکھا گیا ہے۔ اِس حوالے سے انتہائی تحقیق پر مبنی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات اور قانونی نظائر کی عام فہم تشریحات کا مجموعہ کتابی صورت میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے تحریر کیا ہے۔ کسی بھی معاشرے میں اِس کے باسیوں کے مابین رہنے سہنے اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھے برے برتاو¿ کے کچھ اصول و ضوبط ہوا کرتے ہیں۔یہ اصول و ضوابط ہر معاشرے کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں۔ گویا ہر معاشرہ یا گروہ ایک دوسرے سے الگ الگ زندگی کے اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہوتا ہے۔اِسی رہن سہن کے نفاذ کے سبب ہی اِس معاشرے کی پہچان ہو پاتی ہے۔جو لوگ اپنے اپنے معاشرے کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ اِس معاشرے کے پ±رامن شہری کہلاتے ہیں۔ پر امن شہری سے مراد پرامن ماحول، پرامن ملک،اِسلئے عالمی سطح پر اقوام کے مابین طے پاجانے والے معاہدے عالمی اصول و ضوابط کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔جنہیں اقوام عالم کے مابین تعلقات کو پرامن بنانے کیلئے زیر مطالعہ لایا جاتا ہے۔گویا آج کا انسانی ذہن اِس بلند ترین سطح تک رسائی حاصل کر چکاہے جہاں سے آسانی سے ہر کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ قوانین سے عدم آگہی و عدم شناسی ناقابل قبول بہانہ ہے۔ یہ بات نہ صرف انسانی نقطہ نظر کی ترقی بلکہ معاشر تی ترقی کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ مگر وہ معاشرے جہاں لوگوں میں ناخواندگی کی شرح بہت زیادہ ہو، علم کی کمی ہو، سکولوں میں تعلیم ادھوری چھوڑنے کا رحجان بہت زیادہ ہو، بنیادی انسانی حقوق سے محرومی بلکہ ناواقفیت بھی عام ہو ، وہاں کون قانون طلب و رسد کی بات کرے اگر کوئی کرے بھی تو کس حد تک کرسکتا ہے۔جبکہ تیسری دنیا کے ممالک نو آبادیاتی نظام کا حصہ رہے ہیں۔اِس لیے اِن ممالک میں ایک بڑا مسئلہ قومی زبان کا بھی ہے۔ ایسے ممالک میں عام طور پر حکمران ممالک کی زبان میں کاروبار ِ حکومت چلایا رہا ہوتا ہے۔جس کے سبب اِن ممالک کے عوام علوم وفنون اور خصوصاً قانونی معاملات اور اپنے بنیادی حقوق سے نابلد رہتے ہیں یا انہیں بزور نابلد رکھا جاتا ہے۔ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کو گذشتہ تین دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی میں اپنے ہاں جو ماحول نظر آیاوہ انہوں نے سپردقرطاس کردیا ہے۔













