بھارت کی جیل میں قید علیحدگی پسند کشمیری رہنما یاسین ملک کی جانب سے کی گئی بھوک ہڑتال کے باعث طبیعت ناساز ہونے پر اُنہیں نئی دہلی کے ایک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔
جیل حکام اور اسپتال ذرائع کے مطابق 56 سالہ یاسین ملک گزشتہ چھ روز سے دہلی کی تہاڑ جیل میں تادمِ مرگ بھوک ہڑٹال پر تھے جس کی وجہ سے اُن کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔
طبی ماہرین کے مطابق یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر اُنہیں بدھ کو جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا۔
یاسین ملک کو جو قوم پرست جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین ہیں رواں برس مئی میں نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے ٹیرر فنڈنگ کے ایک معاملے میں عمر قید کی سزا سنانے کے بعد تہاڑ جیل کے سیل نمبر سات میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔
انہوں نے اپنا یہ مطالبہ منوانے کے لیے کہ انہیں اُن کے خلاف بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں پیش ہونے اور استغاثہ کے گواہوں سے جرح کرنے کی اجازت دی جائے۔
جیل حکام نے بتایا کہ انہوں نے یاسین ملک کی میڈیکل ہسٹری جو بالکل حوصلہ افزا نہیں ہے کو مدِنظر رکھتے ہوئے انہیں غیر معینہ عرصے کے لیے بھوک ہڑتال پر نہ جانے کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ اپنے فیصلے پر بضد رہے۔
انہوں نے کہا بھوک ہڑتال کے دوران جب اُن کی صحت بگڑنے لگی تو انہیں جیل کے طبی تفتیشی کمرے میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال بھیجنے سے پہلے اُنہیں ابتدائی طبی امداد دی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق یاسین ملک نے ڈاکٹروں کو تحریری طور پر مطلع کردیا ہے کہ وہ اپنا علاج نہیں چاہتے لیکن تادمِ مرگ بھوک ہڑتال جاری رکھنا چاہتے ہیں۔












