بہت اچھی بات ہے کہ زرداری صاحب کی مستقبل کی خواہش پر عمل ہو رہا ہے کہ نواز اور زرداری خاندان ایک ہو رہا ہے یعنی چارٹر آف دوستی پر دستخط ہو گئے ہیں ۔سارے گلے شکوے اور وہ تمام الزامات جن پر دونوں والد جیل میں ہیں بُھلا دئے گئے ہیں ۔اس سے زیادہ درگزر کی مثال ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔کیونکہ ہم نے بیٹوں اور بیٹیوں میں یہ جزبہ بہت ہی کم بلکہ نا پید دیکھا ہے کہ گھسیٹنے والے بلائیں اور گھسیٹے جانے والے ہر قسم کے الزامات لگانے والوں کا نمک کھائیں اور جس طرح اپنا نمک انہیں کھلایا تھا ۔اور پھر جھوٹوں پر اعتماد کریں ،یہ کہہ کر کہ ہمیں امید ہے کہ صاحبزادی ہمیں دھوکہ نہیں دیں گی ۔؟کیسے معصوم ہوتے ہیں میرے ملک کے سیاست دان جن سوراخوں سے ڈسے جاتے ہیں ان پر ہی پیر رکھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ڈ سا نہ جائے ۔ویسے ہم نے سوچا تھا کہ غیرت مند بیٹی اور بیٹا اتنے بڑے بڑے الزامات کو شاید ہضم نہیں کریں گے ۔شاید توبہ کر کے اچھی اچھی باتیں اور اچھے اچھے کام کریں گے ،جب کہ یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ سب مقدمے خود ان کے ہی ایک دوسرے پر بنائے ہوئے ہیں سوائے پاناما کے ۔اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کس سے شکوہ ہے ؟ کیا خود اپنے اآپ سے ؟
ہم تو سمکجھے تھے کہ دونوں جوان جنہیں لیڈر کہا جارہا ہے ۔ہم نہیں کہیں گے ،کیونکہ ہمیں اُن میں لیڈری کی کوئی رمق دور دور دکھائی نہیں دیتی ،یہ اعلان کریں گے کہ ہم اپنی وراثت میں ملی ہوئی ساری دولت اپنے عوام کے لئے دے رہے ہیں ،کیونکہ ہماری عوام مہنگائی کا شکار ہے ،بے روزگاری کا شکار ہے ۔لیکن ہمیں اپنی سوچ پر خود ہی غصہ آیا کہ ہم کتنے بے وقوف ہیں کہ اُن سے یہ توقع کرتے ہیں جنہوں نے اپنے ادوار میں کبھی غریب کی طرف دیکھا بھی نہیں ۔کراچی کو کچراچی بنا دیا ۔اسپتالوں کو گندگی اور تکلیفوں کی اآمجگاہ بنا دیا ۔اسکولوں کو طویلے بنا دیا ۔یہ کس منہ سے غریب کی بات کرتے ہیں ۔ہمیں اپنےملک کے غریبوں سے بھی شکوہ ہے کہ ایک قیمے کے نان پر انہیں اسمبلی کی زینت بنا دیتے ہیں ۔بھئی بھوکے تو ایسے بھی ہو ویسے بھی ہو ایک دن نان کھا کر پانچ سال تک روتے ہو لیکن یہ نان تمہیں کتنا مہنگا پڑتا ہے اس کی طرف کبھی توجہ نہیں دیتے ۔
اگر ہم سب مل کر ایسے تمام لوگوں کا بائیکاٹ کریں جو اپنے مفاد کے خاطر ہم سے ووٹ لیتے اور صرف برساتی مینڈکوں کی طرح ایلکشن میں ہی نظر آتے ہیں تو شاید ہم اپنے مسائل کا کچھ حل پا لیں گے ورنہ جب تک ہم سب مل کر ملک سے ان بے کار لوگوں کو نہیں کم کریں گے۔ ہمارے مسائل اٹکے رہیں گے ۔ کیونکہ اب اپنا حق چھین لینے کی بات ہے ،جب تک ہم اپنے حقوق کو ان سے چھینینگے نہیں یہ ہمیں یوں ہی لوٹتے کھسوٹتے رہیں گے ۔کیونکہ رونا بھی اُسی وقت تک کارگر ہوتا ہے جب تک کوئی اُس کا ازالہ کرے اُس کے بعد وہ بے کار ہوجاتا ہے کوئی نہ چُپ کراتا ہے نہ اُس کی طرف توجہ کرتا ہے ۔
اب تو حال یہ ہے کہ ٹی وی دیکھ کر نفسیاتی دبائو بڑھنے لگتا ہے نہ اینکر سمجھ آتا ہے نہ مہمان ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنی بولی بول رہا ہے اور ملک کے مسائل صرف اور صرف یہ ہیں کہ بلاول نے کیا کہا اور مریم کیا کر رہی ہیں ۔مولانا کدہر جا رہے ہیں اور مینگل کس سے ہاتھ ملا رہے ہیں ۔کاش ہم نے ان سب کو ہی رَد کر دیا ہوتا کہ ہمیں تم سے کوئی اُمید نہیں ۔تم نے جو کچھ اب تک کیا ہم اُس سے نا خوش ہیں اس لئے اب کچھ بھی کرو ہمیں فرق نہیں پڑتا ،لیکن ہمیں بھی اپنے ملک سے اتنی محبت نہیں ہے شاید جتنی ان لوگوں سے جنہوں نے ملک کوکہیں کا نہ چھوڑا ،ہمیں اسمبلی میں خواتین کی اتنی زیادہ تعداد بھی پسند نہیں کیونکہ یہ کوئی کام نہیں کرتیں بس بناؤ سنگھار کر کے اسمبلی میں آبیٹھتی ہیں اور معمول کی طرح بچہ جمہورا بنی رہتی ہیں ۔کیا کبھی کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا کیا کام کئے ہیں اپنے حلقوں میں ،یا اپنے محل`وں میں ؟۔کتنے غریبوں کے مسائل حل کئے ہیں ویسے تو غریب ان کے گھروں سے میلوں دور رہتے ہیں کیونکہ یہ ڈیفنس میں رہنے والے کیا جانیں جھونپڑی کی مصیبت ۔
بلاول کہہ رہے ہیں کہ زرداری کو اسلئے پکڑا ہے تاکہ بجٹ پیش کیا جاسکے اور پاس کرایا جا سکے ۔بھائی مگر کسی ایک بات پر تو قائم رہو کبھی کوئی وجہ بتاتے ہو کبھی کوئی۔ کیا اعتبار کریں تمہارا ۔کم از کم اُن پرانے دماغوں ہی سے پیچھا چھڑا لو جو تمہیں اُلٹی سیدھی پٹی پڑھا رہے ہیں ۔یہ تو ہم جانتے ہیں کہ تمہیں ملک کی سیاست کی اور اس کے مسائل کے الف بے کی بھی خبر نہیں لیکن پھر بھی اگر اس راہ پر قدم رکھ رہے ہو تو اپنی شناخت خود بناؤ نہ باجی کی تقلید کرو نہ اپنی پارٹی کے پٹے ہوئے مہروں کی ۔خود کو پہچانو ۔اپنی طاقت سے سامنے آؤ تاکہ پتہ چلے کہ آپ کے اندر سیاست کرنے کے جراثیم ہیں ۔کیونکہ آپ کے بڑے تو صرف اور صرف مال کماؤ ،مال کھاؤ اور مال بناؤ کی اسکیمیں سوچتے تھے ۔آپ ملک کے لئے سوچیں
اپنے صوبے سے گندگی کو ہی کم کردیں جو کچروں کے ڈھیر آپ کے محل سے کچھ دور پر ہیں انہیں ہی صاف کرادیں ۔لوگوں کو صاف پانی دے دیں ۔کاش باجی کے پاس جانے کے بجائے آپ اُن لوگوں کے پاس چلے گئے ہوتے جو پانی حاصل کرنے کے لئے دھکے کھا رہے ہیں ۔معصؤم بچے ،کمزور بوڑھے، عمر رسیدہ خواتین پانی کی بوتلیں اُٹھائے پانی کے لئے سر گرداں ہیں ۔لیکن گورنر صاحب بھی سکون سے سوتے ہیں اور وزیرِاعلیٰ بھی کیونکہ اُن کے گھروں میں پانی وافر مقدار میں آتا ہے ،صدر صاحب کو بھی کوئی غرض نہیں کہ کوئی پیاسا ہو یا بھوکا ووٹ مل گئے کام ختم ۔۔۔۔ کاش ہمیں یہ نہ لکھنا پڑتا ؟؟؟؟؟
اٹھارویں ترمیم کی سب سے زیادہ بے قدری توبلاول آپکی پارٹی نے آپ نے کی ہے ،آپ کا صوبہ سب سے پس ماندہ ہو گیا ہے ایسی بیماریاں نکل رہی ہیں کہ سُن کر دل دکھتا ہے وہ معصوم بچے جنہوں نے ابھی جینا بھی نہیں سیکھا وہ اُن بیماریوں میں مبتلا ہیں جنکا نام لیتے ہوئے بھی کپکپی چڑھتی ہے ۔صرف اس لئے کہ آپ کی توجہ اس طرف نہیں ہے صرف اور صرف اپنی دولت کو بچانے اور حکومت کو گرانے کی طرف ہے ،
مولانا پھر نکل آئے ہیں اپنی کشتی اور پتوار لے کر کہ جو جو آنا چاہے آجائے ۔لیکن محترم مولانا نکلنے سے پہلے کشتی کو چیک ضرور کر لیجئے گا کہ کہیں سوراخ تو نہیں ہیں کشتی میں ورنہ ڈوبنے کا ڈر ہوگا ،کیونکہ جو لوگ ساتھ ہیں وہ تجربہ بھی نہیں رکھتے وہ تجربہ جو اُن کے والد کا ہے اور شاید قائم بھی نہیں رہتے اپنی بات پر ۔جو ہر روز ہی ٹی وی کے کسی نہ کسی شو میں دکھاتے ہیں پرانی ویڈیوز چلا کر ۔آپ کا زخم گہرا ہے کہ اتنے لمبے عرصے بعد آپ حکومت کا حصہ نہیں ہیں ۔مگر خدا را اس کی سزا اپنے طالبعلموں کو نہ دیجئے گا انہیں سڑکوں پر نکال کر ۔کہ اب ما حول وہ نہیں ہے جو آپ نے بنایا تھا ۔اب لوگوں میں شعور پیدا ہو رہا ہے وہ اپنا اچھا برا سمجھنے لگے ہیں ۔اور انہیں پرانا وقت بھی یاد ہے ۔کیونکہ مہنگائی ہر دور میں ہوئی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔
لوگ پکڑے جا رہے ہیں شاید دو سال سے گرفتاریوں کا موسم آیا ہوا ہے لیکن ابھی تک سزاؤں کا موسم نہیں آیا جس کا ہمیں شدت سے انتظار ہے ۔سخت سے سخت سزاؤں کا موسم آنا چاہئے تاکہ ملک کھڑا ہو سکے ۔انصاف اور عدل کی روشنی میں ،ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے اب مذید کی گنجائش شاید نہیں ہے ۔دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اُسے دیکھتے ہوئے ایک مستحکم پاکستان سب سے بڑی ضرورت ہے اگر ہم طاقتور نہ ہوئے تو کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ہوا کدہر چلے گی ۔اس لئے اپنی صفوں سے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو نکال دیں دیکھیں کون ملک کو ترقی دینے کی طرف گامزن ہے اور کون اسے کھوکھلا کر گیا ۔اب صرف اور صرف ملک کا ساتھ دیں نہ کسی پارٹی کا نہ کسی شخصیت کا ۔بہت دھوکے کھا لئے اب بھی نہ بدلے تو شاید پھر کبھی نہ بدل سکیں گے ۔
اسمبلی اس لئے چلنے نہیں دی جارہی کہ پروڈکشن آرڈرز ملزموں کے جاری نہیں کئے جارہے ،ہماری تجویز ہے اسپیکر صآحب اسمبلی کو سب جیل قرار دے دیں اور سب نیب زدہ لوگوں کو چھوٹ دے دیں کہ وہ جہاں چاہیں رہیں کوئی پوچھ نہیں ہوگی ؟؟ جھگڑا ہی مُک جائیگا ۔کیونکہ آج کل سارے معصوم دودھ کے دُھلے نیب کی گرفت میں ہیں ۔لیکن سوالوں کے جواب نہیں دیتے ۔
چیف جسٹس صاحب نے خوشخبری سُنائی ہے کہ عدلیہ نے کتنے کام کئے ہیں ۔اور ہماری دُکھتی رَگ پر ہاتھ بھی رکھا ہے کہ کہیں سے کوئی خوشی کی خبر نہیں ملتی ۔حقیقت ہے جس طرف بھی دیکھیں گہرے بادل نظر اآتے ہیں لیکن کاش یہ رحمت کی بارش کے بادل ہوں اور ان میں ہی سے خوشیاں نکل آئیں باقی اداروں کی طرف سے بھی ۔جیسے چیف جسٹس صاحب نے سُنائی ہے ۔کاش سب مجرمان ملک کی خاطر سچ بول دیں اور جو کچھ کھا گئے اُسے واپس کر دیں ۔ایک جج صاحب نے کہا ہے کہ سندھ میں جتنا کرپشن ہے اُسکی مثال نہیں ملتی
کیا یہ خبریں سندھ کے آقاؤں تک نہیں پہنچتی یا بے حسی عروج پر ہے ۔
اللہ ملک سے محبت کرنے والوں کی مدد فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY