جسٹس سنجیو کھنہ نے پیر کو سپریم کورٹ کے 51 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر دروپدی مورمو نے راشٹرپتی بھون (ایوانِ صدر) میں ان سے حلف لیا۔

سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی جانب سے ان کا نام چیف جسٹس کے لیے تجویز کرنے پر حکومت نے 24 اکتوبر کو ایک نوٹی فکیشن جاری کرکے ان کو اگلا چیف جسٹس نامزد کیا تھا۔

جسٹس سنجیو کھنہ کی مدت چھ ماہ کی ہوگی۔ وہ اگلے سال 13 مئی کو اپنے عہدے سے سبک دوش ہو جائیں گے۔

خبروں میں بہت زیادہ رہنے والے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ 10 نومبر کو اپنے عہدے سے سبک دوش ہوئے۔ سبک دوشی سے عین قبل انھوں نے کئی اہم فیصلے کیے جن میں اتر پردیش کے مدارس کے حق میں دیا جانے والا فیصلہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کی بحالی کا فیصلہ قابلِ ذکر ہیں۔

جسٹس سنجیو کھنہ دہلی کے قانون دانوں کے ایک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد جسٹس دیو راج کھنہ دہلی ہائی کورٹ جب کہ چچا ایچ آر کھنہ سپریم کورٹ کے جج رہے ہیں۔ ایچ آر کھنہ کو کافی شہرت حاصل ہوئی تھی۔

جسٹس سنجیو کھنہ نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے پارلیمانی انتخابات سے قبل دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجری وال کو عبوری ضمانت اور بعد میں مکمل ضمانت دی تھی۔

انہوں نے دہلی کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سسودیا کو بھی ضمانت دی اور کہا کہ کیسز میں تاخیر ضمانت کی جائز بنیاد ہے۔

وہ اس بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے الیکٹورل بانڈز کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا۔

اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا تھا کہ گمنام چندے سے انتخابی فنڈنگ میں شفافیت کی کمی ہوتی ہے اور اس سے جمہوری طرز عمل متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے بلقیس بانو معاملے میں دو قیدیوں کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ پٹیشن غلط ہے۔ ان کو اپنی سزا پوری کرنی ہوگی۔

یاد رہے کہ گجرات حکومت کی جانب سے تمام قیدیوں کی سزا معاف کرنے اور جیل سے رہا کیے جانے کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر کے ان کو دوبارہ جیل بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد ہی دو قیدیوں نے درخواست ضمانت داخل کی تھی جنہیں سنجیو کھنہ نے خارج کر دیا تھا۔

ممبئی کے ایک نجی کالج کی جانب سے مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی کا معاملہ جب سپریم کورٹ میں آیا تو سنجیو کھنہ نے کالج کے اس سرکلر کو خارج کر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کالج میں حجاب پہننے یا کسی مذہبی علامت کے اظہار کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے مسلم طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت دی۔

انہوں نے پابندی کو جائز ٹھہرانے والے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے پر اظہار حیرت بھی کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا طلبہ کو اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کا حق نہیں۔ کیا بچوں کو ان کے رول نمبر سے پہچانا جائے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY