سوشل میڈیا: آزادی، احتیاط اور ہماری بیٹیاں ، زاہدہ خوشی

0
3371

سوشل میڈیا: آزادی، احتیاط اور ہماری بیٹیاں

زاہدہ خوشی

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ ہماری زندگی کا ایک مستقل حصہ بن چکا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا نے دنیا کو ہماری ہتھیلی پر لا رکھا ہے۔ چند لمحوں میں تصویر، ویڈیو، رائے اور ذاتی زندگی کا کوئی پہلو ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ سہولت بلاشبہ جدید دور کی ایک بڑی نعمت ہے، مگر ہر نعمت کی طرح اس کے درست اور غلط استعمال کا فرق بھی ہماری سمجھ داری سے وابستہ ہے۔

پاکستان میں کم عمر بچیوں اور نوجوان خواتین کا سوشل میڈیا استعمال ایک اہم سماجی موضوع بنتا جا رہا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری بچیاں اور خواتین سوشل میڈیا استعمال کیوں کرتی ہیں۔ تعلیم، معلومات، کاروبار، تخلیقی اظہار، روزگار اور دنیا سے رابطے کے لیے سوشل میڈیا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس قدر احتیاط، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں؟

کم عمری میں انسان اپنی شخصیت کی تعمیر کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی ایک معمولی سی تصویر، ویڈیو یا ذاتی معلومات مستقبل میں کس طرح استعمال ہو سکتی ہے۔ ایک بار کوئی چیز آن لائن چلی جائے تو اسے مکمل طور پر واپس لینا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ بچی کے ہاتھ سے موبائل لے لیں یا اس کے استعمال پر پابندی لگا دیں، بلکہ انہیں اپنی بیٹیوں کو ڈیجیٹل شعور بھی دینا ہوگا۔

ہمیں اپنی بچیوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ ہر آن لائن دوست حقیقی دوست نہیں ہوتا۔ ہر خوب صورت پروفائل کے پیچھے ایک اچھا انسان ضروری نہیں۔ ہر پیغام کا جواب دینا ضروری نہیں اور کسی اجنبی کے اصرار، تعریف یا جذباتی گفتگو کو اعتماد کی بنیاد نہیں بنانا چاہیے۔

خصوصاً ذاتی تصاویر، گھر کا پتا، اسکول یا کالج کی تفصیلات، فون نمبر، سفری معلومات، پاس ورڈز اور دیگر نجی معلومات شیئر کرنے میں غیر معمولی احتیاط ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود بعض لوگ جعلی شناخت استعمال کر سکتے ہیں، اور کم عمر صارفین کو جذباتی طور پر متاثر کرکے ان سے ایسی معلومات یا تصاویر حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جنہیں بعد میں دباؤ یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جائے۔

لیکن یہاں ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے: اگر کوئی لڑکی آن لائن دھوکے، ہراسانی یا بلیک میلنگ کا شکار ہو جائے تو اسے قصوروار قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ایسے وقت میں سب سے پہلے اسے تحفظ، اعتماد اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’’تم نے تصویر کیوں بھیجی؟‘‘ یا ’’تم نے اس شخص سے بات ہی کیوں کی؟‘‘ جیسے سوالات اکثر متاثرہ بچی کو مزید خاموش کر دیتے ہیں۔ ہمیں اسے یہ یقین دلانا ہوگا کہ غلطی ہو جانے کے بعد بھی مدد مانگنے کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔

والدین کو بھی اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔ نگرانی ضروری ہے، مگر جاسوسی اور مسلسل ڈانٹ ڈپٹ ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتی۔ اگر بچی کو یہ خوف ہو کہ کوئی مسئلہ بتانے پر اسے ہی سزا ملے گی تو وہ مشکل وقت میں والدین سے مدد لینے کے بجائے کسی اجنبی آن لائن شخص پر اعتماد کر سکتی ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ گھر میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں بچیاں اپنے آن لائن تجربات بلا خوف بیان کر سکیں۔

اسی طرح تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں صرف نصابی تعلیم کافی نہیں؛ طالبات کو ڈیجیٹل سیفٹی، آن لائن پرائیویسی، سائبر ہراسگی، جعلی اکاؤنٹس، فراڈ اور بلیک میلنگ سے بچاؤ کے بنیادی اصول بھی سکھائے جانے چاہئیں۔ جس طرح ہم بچوں کو سڑک پار کرنے کے اصول سکھاتے ہیں، اسی طرح انہیں ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رہنے کے اصول سکھانا بھی وقت کی ضرورت ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کا غیر محتاط استعمال صرف لڑکیوں کا مسئلہ نہیں۔ لڑکے بھی اس کے غلط استعمال، آن لائن فراڈ، ہراسگی اور نقصان دہ مواد کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا گفتگو کا مرکز کسی ایک جنس کو الزام دینا نہیں بلکہ ذمہ دار ڈیجیٹل معاشرہ تشکیل دینا ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا سے فرار ممکن نہیں، اور شاید ضروری بھی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس دنیا میں محفوظ طریقے سے جینا سکھائیں۔ موبائل چھین لینا آسان ہے، شعور دینا مشکل؛ مگر اصل حل شعور ہی ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہ کہیں کہ ’’احتیاط کرو‘‘ بلکہ یہ بھی بتائیں کہ احتیاط کیسے کرنی ہے۔ انہیں ڈرانے کے بجائے باخبر کریں، روکنے کے بجائے سمجھائیں، اور غلطی پر تنقید کرنے کے بجائے اعتماد کا ہاتھ تھامیں۔

کیونکہ ہماری بیٹیوں کو ایک ایسی دنیا میں زندگی گزارنی ہے جہاں حقیقی زندگی اور ڈیجیٹل زندگی کی سرحدیں روز بروز دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ انہیں اس دنیا سے دور نہیں، اس دنیا میں محفوظ اور باوقار طریقے سے جینا سکھانا ہوگا۔

اور شاید یہی آج کے والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

زاہدہ خوشی

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

آپ کو ہوائی جہاز میں کبھی بھی شارٹس یا اسکرٹ کیوں نہیں پہننی چاہیے

لباس سے متعلق مشورہ:
فلائٹ اٹینڈنٹس کا مشورہ ہے کہ ہوائی سفر کے دوران لمبی پینٹ پہنیں۔ شارٹس، اسکرٹس یا ایسے لباس سے گریز کریں جن سے ٹانگوں کی جلد سیٹ کے براہِ راست رابطے میں آئے، کیونکہ سیٹ پر جراثیم یا آلودگی موجود ہو سکتی ہے۔

سیٹ بیلٹ اور دوسری سطحیں:
سیٹ بیلٹ اور دیگر ایسی جگہیں جنہیں بہت سے مسافر چھوتے ہیں، انہیں صاف یا جراثیم کُش کرنا بہتر ہے۔ ان پر پچھلے مسافروں کے جسمانی مائعات، کھانے پینے کی چیزوں کے داغ اور جراثیم موجود ہو سکتے ہیں۔

طیارے کے واش روم میں احتیاط:
واش روم استعمال کرتے وقت ہمیشہ جوتے پہنیں۔ صرف جرابوں میں فرش پر قدم نہ رکھیں، کیونکہ فرش گیلا اور غیر صحت بخش ہو سکتا ہے۔

ایک فلائٹ اٹینڈنٹ نے تمام ہوائی مسافروں کے لیے ایک اہم عوامی صحت سے متعلق مشورہ دیا ہے: صفائی اور حفظانِ صحت کے پیشِ نظر ایسا لباس نہ پہنیں جس سے جہاز میں آپ کی ٹانگیں کھلی رہیں۔

سابقہ  مقابلہ کنندہ اور گزشتہ 11 سال سے فلائٹ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کرنے والی  نے لوگوں کو ہوائی سفر کے دوران شارٹس، اسکرٹس اور ڈریسز پہننے سے خبردار کیا۔

“میں آپ کو ایک فلائٹ اٹینڈنٹ کی حیثیت سے بتا رہی ہوں کہ میں نے سیٹوں پر ایسی ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔”

“پینٹ پہنیں۔ شارٹس، اسکرٹس اور ڈریسز بالکل نہیں۔ لمبی پینٹ پہنیں۔ آپ کی جلد کا کوئی حصہ اس سیٹ کے براہِ راست رابطے میں نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جہاز میں آنے کے بعد سیٹ کو جراثیم کُش کر لیں۔ نہیں، نہیں، نہیں۔ لمبی پینٹ پہنیں۔ مجھ پر بھروسہ کریں، میں نے بہت خوفناک چیزیں دیکھی ہیں۔”

ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں مقیم ایک اور فلائٹ اٹینڈنٹ  نے بھی سفر کے دوران شارٹس پہننے کے حوالے سے اسی طرح کا مشورہ دیا۔

“اندازہ لگائیں کہ گزشتہ روز میری ایک پرواز کے دوران کتنے ڈائپرز سیٹوں پر تبدیل کیے گئے؟ چار۔ اور اندازہ لگائیں ان میں سے کتنے گندے تھے؟ چاروں۔ انہوں نے انہیں سیٹ پر ہی تبدیل کیا۔ اور آپ اپنی جلد وہاں رگڑنا چاہتے ہیں؟”

زیادہ تر ہوائی جہازوں کو ہر پرواز کے بعد مختصر صفائی سے گزارا جاتا ہے، جسے عموماً  کہا جاتا ہے۔ صفائی کی یہ کارروائی بنیادی طور پر جہاز کے کچن  واش روم، اور کیبن و مسافروں کے حصوں سے کچرا ہٹانے پر مرکوز ہوتی ہے۔

“اس صفائی میں مسافروں کے بیٹھنے والے علاقوں اور سیٹوں کے آس پاس کی جگہوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، جبکہ کچن اور واش رومز کی صفائی بھی جاری رہتی ہے۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام ہوائی جہازوں کی وقتاً فوقتاً گہری صفائی بھی کی جاتی ہے، جسے انہوں نے گاڑی کی تفصیلی صفائی سے تشبیہ دی۔

ان کے مطابق:

“سیٹوں کے حصوں اور بہت سی سطحوں کو ہٹا کر سیٹ کے اندرونی حصوں، خانوں، کیبنٹس اور اسٹوریج ایریاز تک رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ بعض ایئرلائنز گہری صفائی کے لیے خصوصی آلات بھی استعمال کرتی ہیں۔”

تاہم، اس قسم کی مکمل صفائی باقاعدگی سے ہر پرواز کے بعد نہیں ہوتی، بلکہ اس کا شیڈول ایئرلائن کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

 نیلم نے گوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایسی لمبی پینٹ پہن کر سفر کریں جو ٹانگوں کو مکمل طور پر ڈھانپے۔

انہوں نے وضاحت کی:

“سیٹ بیلٹ کا وہ دھاتی حصہ، کیونکہ ہر کوئی اسے چھوتا ہے۔ اور آپ کو سیٹ بیلٹ کے کپڑے والے حصے کو بھی صاف کرنا چاہیے، کیونکہ ہر کوئی اسے کھینچتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:

“الٹی، بچوں کی الٹی، جسمانی مائعات، گرے ہوئے مشروبات اور طرح طرح کی چیزیں ان سیٹ بیلٹس پر لگ سکتی ہیں۔ انہیں صاف کر لیں۔”

  لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ہوائی جہاز کے واش روم میں صرف جرابیں پہن کر نہ جائیں۔

انہوں نے کہا:

“واش روم کے فرش پر جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ ہمیشہ صرف پانی نہیں ہوتا، اور آپ کی جرابیں دو بڑے اسپنج کی طرح ہوتی ہیں۔ میری جلد کا کوئی حصہ اس واش روم کے فرش سے رابطے میں نہیں آتا۔”

ہوائی سفر کے دوران کچھ اضافی احتیاط کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے:

لمبی پینٹ پہنیں تاکہ ٹانگوں کی جلد سیٹ کے براہِ راست رابطے میں نہ آئے۔
سیٹ بیلٹ کو صاف کریں، خاص طور پر وہ حصے جنہیں بار بار چھوا جاتا ہے۔
واش روم میں جوتے پہنیں اور صرف جرابوں میں فرش پر نہ چلیں۔
یاد رکھیں کہ ہوائی جہاز کی صفائی مختلف مراحل میں ہوتی ہے، لیکن ہر سطح کو ہر پرواز کے بعد مکمل طور پر جراثیم سے پاک کرنا ضروری نہیں ہوتا۔

فلائٹ اٹینڈنٹس کا بنیادی مشورہ یہ ہے کہ ہوائی جہاز میں صفائی کے معاملے میں محتاط رہیں، کیونکہ آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ سے پہلے اس سیٹ یا دوسری سطحوں پر کیا کچھ ہوا ہے۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

قائد اعظم کا یومِ وفات — ہم کہاں کھڑے ہیں؟
از قلم: زاہدہ خوشی

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا یومِ وفات ہر سال آتا ہے، ہم عقیدت سے انہیں یاد کرتے ہیں، ان کے لیے فاتحہ خوانی کرتے ہیں، اخبارات میں خصوصی مضامین شائع ہوتے ہیں، سرکاری سطح پر تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور ان کی تقاریر کے اقتباسات دہرائے جاتے ہیں۔ مگر شاید اس دن کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہم قائد اعظم کو کتنا یاد کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟

قائد اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا۔ وہ ایک ایسا ملک چاہتے تھے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، جہاں ریاست شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہو، جہاں مذہب انسان کے ضمیر کا معاملہ ہو اور کسی شہری کے ساتھ اس کے عقیدے، زبان، نسل یا علاقے کی بنیاد پر امتیاز نہ کیا جائے۔ وہ ایک ایسی مملکت کے خواہاں تھے جہاں آئین کی بالادستی، جمہوریت، دیانت، نظم و ضبط اور میرٹ ریاستی نظام کی بنیاد ہوں۔

آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو دل میں ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے واقعی وہ پاکستان بنایا جس کے لیے قائد اعظم نے جدوجہد کی تھی؟

یہ سوال کسی ایک حکومت، ادارے یا سیاسی جماعت سے نہیں، ہم سب سے ہے۔

ہم نے قائد اعظم کی تصویر نوٹوں پر تو محفوظ کر لی، مگر ان کے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں محفوظ نہ رکھ سکے۔ ہم نے ان کے اقوال کو نصاب، تقریروں اور جلسوں کا حصہ تو بنا دیا، لیکن ان کی روح کو اپنے کردار کا حصہ بنانے میں ناکام رہے۔

ہم قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، مگر اکثر قانون کو اپنی ضرورت اور حیثیت کے مطابق دیکھتے ہیں۔ ہم جمہوریت کے نعرے لگاتے ہیں، مگر اختلافِ رائے برداشت کرنے کا حوصلہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم میرٹ چاہتے ہیں، لیکن جب فائدہ اپنے کسی عزیز، دوست یا پسندیدہ شخص کو پہنچ رہا ہو تو میرٹ ہمیں یاد نہیں رہتا۔ ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی انصاف اپنے حق میں اور احتساب دوسروں کے لیے چاہتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قائد اعظم کی یاد ہمیں محض غمگین نہیں بلکہ شرمندہ اور خود احتساب کرتی ہے۔

پاکستان بنانے کی جدوجہد آسان نہیں تھی۔ لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی، بے شمار خاندان اجڑے، جانیں قربان ہوئیں اور لوگوں نے اپنے مستقبل کے لیے ایک ایسے وطن کا انتخاب کیا جس کے بارے میں ان کے دل میں ایک امید تھی۔ یہ امید صرف زمین حاصل کرنے کی نہیں تھی؛ یہ ایک بہتر معاشرے کی امید تھی۔

مگر آزادی کے بعد ہم رفتہ رفتہ اس بنیادی مقصد سے دور ہوتے گئے۔ صوبائیت، لسانیت، طبقاتی تقسیم، سیاسی عدم برداشت، اداروں کی کمزوری، معاشی ناانصافی اور مفادات کی سیاست نے قومی وحدت کو نقصان پہنچایا۔ ہم نے ریاست کو مضبوط بنانے کے بجائے اکثر اپنی اپنی طاقت کے مراکز مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

ایک طرف پاکستان کے عام شہری کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور روزمرہ ضروریات کے مسائل میں گھری ہوئی ہے، دوسری طرف معاشرے میں دولت اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے ریاست سے انصاف حاصل کرنا مشکل محسوس ہو تو اس کے دل میں ریاست کے ساتھ تعلق کمزور پڑنے لگتا ہے۔

قائد اعظم نے جس پاکستان کے لیے جدوجہد کی، اس میں شہری کو ریاست سے خوف نہیں بلکہ اعتماد ہونا چاہیے تھا۔

ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ قائد اعظم کی وفات کے بعد پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا رہا، وہ غیر معمولی تھے۔ ایک نوزائیدہ ریاست، محدود وسائل، مہاجرین کی آبادکاری، انتظامی مشکلات اور سیاسی بحرانوں نے ملک کو مسلسل آزمائش میں رکھا۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ موقع بھی دیتی ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔

قائد اعظم کا یومِ وفات دراصل ایک آئینہ ہے۔

اس آئینے میں ہمیں صرف قائد اعظم کا چہرہ نہیں، اپنا چہرہ بھی دیکھنا چاہیے۔

ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ اگر آج قائد اعظم ہمارے درمیان ہوتے تو کیا وہ ہمارے سیاسی رویوں سے مطمئن ہوتے؟ کیا وہ میرٹ کے بجائے سفارش کو فروغ پاتے دیکھ کر خوش ہوتے؟ کیا وہ اداروں کے درمیان کشمکش، معاشرتی تقسیم اور عدم برداشت کو دیکھ کر اسے اپنا پاکستان کہتے؟ کیا وہ اس بات سے مطمئن ہوتے کہ ہم ان کے اقوال تو یاد رکھتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل کرنا بھول گئے ہیں؟

شاید اس کا جواب ہمارے ضمیر کے پاس ہے۔

تاہم مایوسی ہی آخری راستہ نہیں۔ پاکستان آج بھی ایک ایسا ملک بن سکتا ہے جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم قائد اعظم کو صرف قومی دنوں کا قائد نہ بنائیں بلکہ انہیں اپنی قومی زندگی کا رہنما بنائیں۔

اس کے لیے کسی نئے نعرے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف وہی بنیادی اصول واپس لانے ہوں گے جن پر قائد اعظم کا یقین تھا: ایمانداری، اتحاد، قانون کی بالادستی، جمہوریت، برداشت، میرٹ اور شہری مساوات۔

پاکستان کو بدلنے کا آغاز ہمیشہ حکومت سے نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی ایک عام شہری سے ہوتا ہے۔ ایک استاد جب دیانت داری سے پڑھاتا ہے، ایک ڈاکٹر جب مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے، ایک افسر جب سفارش کے بجائے میرٹ پر فیصلہ کرتا ہے، ایک صحافی جب سچ کو مصلحت پر ترجیح دیتا ہے، ایک سیاست دان جب قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھتا ہے اور ایک عام شہری جب قانون کی پابندی کرتا ہے تو دراصل وہ قائد اعظم کے پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔

قائد اعظم کا یومِ وفات ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف اپنے بانیوں کے مجسمے بنا کر، ان کے نام پر عمارتیں رکھ کر اور ان کے اقوال دہرا کر زندہ نہیں رہتیں۔ قومیں تب زندہ رہتی ہیں جب وہ اپنے بانیوں کے اصولوں کو زندہ رکھتی ہیں۔

ہم شاید قائد اعظم کے بنائے ہوئے پاکستان کو مکمل طور پر قائم نہ رکھ سکے، لیکن ابھی دیر نہیں ہوئی۔

ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم قائد اعظم کی تصویر کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں سلام کرنے کے بجائے کبھی اپنے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آپ کو سلامتی کا امتحان دیں۔

شاید اسی خود احتسابی سے ایک دن وہ پاکستان دوبارہ جنم لے سکے جس کا خواب ایک عظیم رہنما نے دیکھا تھا۔

اور شاید تب قائد اعظم کے یومِ وفات پر ہماری آنکھوں میں صرف آنسو نہیں، اطمینان بھی ہوگا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

سوشل میڈیا پر فحاشی کا ذمہ دار کون؟

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ موبائل فون کی ایک چھوٹی سی اسکرین نے پوری دنیا کو انسان کی ہتھیلی پر لا رکھا ہے۔ جہاں اس نے علم، آگاہی، کاروبار، تعلیم اور باہمی رابطوں کے بے شمار دروازے کھولے ہیں، وہیں اخلاقی زوال، بے حیائی اور فحاشی جیسے مسائل کو بھی پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی فحاشی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟

اگر صرف سوشل میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے تو یہ حقیقت کا ادھورا رخ ہوگا۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا، بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ اصل سوال اس کے استعمال کا ہے۔ جس طرح ایک قلم سے علم بھی لکھا جا سکتا ہے اور نفرت بھی، اسی طرح سوشل میڈیا سے اصلاح بھی ممکن ہے اور بگاڑ بھی۔

سب سے پہلی ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوتی ہے جو زیادہ سے زیادہ توجہ، شہرت یا مالی فائدے کی خاطر اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے فحش اور اشتعال انگیز مواد تخلیق کرتے ہیں۔ جب مقصد صرف “ویوز”، “لائکس” اور “فالوورز” بن جائے تو اقدار پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

دوسری بڑی ذمہ داری ان صارفین کی ہے جو ایسے مواد کو دیکھتے، پسند کرتے اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اگر ناظرین غیر اخلاقی مواد کو نظر انداز کر دیں تو اس کی طلب خود بخود کم ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کی مانگ ہوتی ہے، وہی زیادہ پیدا کی جاتی ہے۔

والدین بھی اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ بچوں کو مہنگے موبائل فون تو دے دیے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال، وقت کی پابندی اور آن لائن سرگرمیوں پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی۔ اخلاقی تربیت اور اعتماد پر مبنی گفتگو کی کمی نوجوانوں کو غیر محفوظ ڈیجیٹل ماحول میں تنہا چھوڑ دیتی ہے۔

تعلیمی اداروں کا کردار بھی اہم ہے۔ اگر نصاب کے ساتھ ڈیجیٹل اخلاقیات، میڈیا لٹریسی اور آن لائن ذمہ داری کا شعور پیدا کیا جائے تو نئی نسل سوشل میڈیا کو زیادہ مثبت انداز میں استعمال کر سکتی ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد کریں، غیر اخلاقی مواد کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ایسے الگورتھمز کو بہتر بنائیں جو صرف سنسنی خیزی کی بنیاد پر مواد کو فروغ نہ دیں۔

ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ آزادیِ اظہار اور اخلاقی ذمہ داری کے درمیان متوازن قانون سازی کریں۔ ایسی قانون سازی جو نہ تو جائز اظہارِ رائے کو دبائے اور نہ ہی فحاشی، استحصال اور نفرت انگیز مواد کو کھلی چھوٹ دے۔

آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ سوشل میڈیا پر فحاشی کا ذمہ دار کوئی ایک فرد یا ادارہ نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ ہے۔ مواد بنانے والے، اسے دیکھنے والے، والدین، اساتذہ، سوشل میڈیا کمپنیاں اور ریاست، سب اپنی اپنی سطح پر اس کے ذمہ دار ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک باوقار، مہذب اور اخلاقی معاشرہ چاہتے ہیں تو صرف شکایت کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری بھی ادا کرنا ہوگی۔ کیونکہ معاشرے کی اخلاقی سمت کا تعین صرف ٹیکنالوجی نہیں کرتی، بلکہ انسان کا کردار، شعور اور اجتماعی رویہ کرتا ہے۔

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

گھر صرف عورت کا نہیں، مرد کا بھی ہے

ہمارے مشرقی معاشرے میں ایک عجیب تضاد صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ مرد صبح سے شام تک محنت کرکے گھر کا خرچ اٹھانے کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے، جبکہ گھر کے اندر ہونے والے تمام کاموں کو عورت کا فرض قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ مرد، چاہے وہ پڑھے لکھے ہوں یا اعلیٰ عہدوں پر فائز، باورچی خانے سے لے کر بچوں کی دیکھ بھال اور گھر کی صفائی تک، ان کاموں میں شریک ہونا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟

اس کی پہلی وجہ ہماری روایتی تربیت ہے۔ ایک لڑکے کو بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ گھر کا “سربراہ” بنے گا، جبکہ لڑکی کو باورچی خانے، صفائی اور خدمت کے آداب سکھائے جاتے ہیں۔ یوں ذمہ داریوں کی تقسیم فطری نہیں بلکہ سماجی روایت بن جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ہی گھر میں پلنے والے بہن بھائیوں کی سوچ بھی مختلف ہو جاتی ہے۔

دوسری وجہ مردانگی کا وہ غلط تصور ہے جس نے گھریلو کاموں کو کمتر بنا دیا ہے۔ اگر کوئی مرد برتن دھو دے، کھانا بنا لے یا بچوں کے کپڑے تہہ کر دے تو بعض حلقوں میں اس پر طنز کیا جاتا ہے۔ حالانکہ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں گھر کے کام کرنا ذمہ داری، محبت اور شراکت داری کی علامت سمجھا جاتا ہے، کمزوری کی نہیں۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی عورت صرف گھریلو خاتون نہیں رہی۔ وہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، صحافی، کاروباری شخصیت اور سرکاری ملازم بھی ہے۔ جب میاں بیوی دونوں ملازمت کرتے ہوں تو کیا گھر کے تمام کام صرف عورت کے ذمے رہنے چاہئیں؟ انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ دونوں اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی مل کر نبھائیں۔

دینِ اسلام کی تعلیمات بھی اسی توازن کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں مستند روایات میں آتا ہے کہ آپؐ اپنے گھر کے کاموں میں اہلِ خانہ کی مدد فرمایا کرتے تھے۔ آپؐ نے کبھی گھریلو خدمت کو اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھا۔ اگر پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹا سکتا ہے تو آج کا مسلمان مرد ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟

حقیقت یہ ہے کہ گھر کے کام عورت کی ملازمت نہیں بلکہ خاندان کی مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ اگر شوہر کبھی کھانا بنانے میں ہاتھ بٹا دے، بچوں کا ہوم ورک کرا دے، برتن دھو دے یا گھر کی صفائی میں شریک ہو جائے تو اس سے اس کی عزت کم نہیں ہوتی، بلکہ بیوی کے دل میں اس کا احترام اور محبت بڑھ جاتی ہے۔ ایسے گھروں میں جھگڑے کم، سکون زیادہ اور بچوں کی ذہنی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم “یہ عورت کا کام ہے” اور “یہ مرد کا کام ہے” جیسی دیواریں گرانا شروع کریں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کام کون کرے، بلکہ یہ ہے کہ خاندان خوشحال کیسے رہے۔ جب ذمہ داریاں بانٹی جاتی ہیں تو تھکن بھی تقسیم ہو جاتی ہے اور خوشیاں بھی۔

مشرقی معاشرے کو اپنی روایات پر ضرور فخر ہونا چاہیے، مگر ایسی روایات پر نہیں جو انصاف اور توازن کو ختم کر دیں۔ مرد اگر گھر کے کاموں میں شریک ہوگا تو اس کی مردانگی کم نہیں ہوگی، بلکہ اس کی انسانیت، محبت اور کردار کی عظمت ضرور نمایاں ہوگی۔ ایک مضبوط خاندان وہی ہے جہاں ذمہ داریاں بھی مشترک ہوں اور احترام بھی۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

کربلا کا ذکر آتے ہی ذہن میں حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کا تصور ابھرتا ہے، مگر اگر یہ کہا جائے کہ کربلا کا پیغام خواتین کے کردار کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو یہ حقیقت کے عین مطابق ہوگا۔ میدانِ کربلا میں جہاں مردوں نے تلوار کے ذریعے حق کا دفاع کیا، وہیں خواتین نے صبر، استقامت، شعور اور خطابت کے ذریعے اس قربانی کو ابدی حیات عطا کی۔ اگر شہادت کربلا کا پہلا باب ہے تو اس پیغام کی اشاعت دوسرا باب ہے، اور اس باب کی سب سے نمایاں شخصیت حضرت زینبؑ ہیں۔

واقعۂ کربلا نے ثابت کیا کہ خواتین صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں بلکہ جب دین، انسانیت اور حق کی بقا کا سوال ہو تو وہ تاریخ کا دھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حضرت زینبؑ نے اپنے بھائی کی شہادت کے بعد جس صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ انسانی تاریخ کی بے مثال مثال ہے۔ انہوں نے غم کے پہاڑ تلے دبنے کے بجائے ظلم کے ایوانوں میں حق کی صدا بلند کی اور ظالم حکمرانوں کے چہروں سے نقاب اتار دی۔

کوفہ اور شام کے درباروں میں حضرت زینبؑ کے خطبات نہ صرف اسلامی تاریخ کا سرمایہ ہیں بلکہ ہر دور کے مظلوموں کے لیے حوصلے اور مزاحمت کا استعارہ بھی ہیں۔ انہوں نے اسیری کو کمزوری نہیں بننے دیا بلکہ اسے ظلم کے خلاف مؤثر احتجاج میں بدل دیا۔ ان کے الفاظ نے وہ کام کیا جو کبھی کبھی تلواریں بھی نہیں کر پاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ اگر عاشورا امام حسینؑ کا کارنامہ ہے تو اس پیغام کی حفاظت حضرت زینبؑ کا معجزہ ہے۔

حضرت ام کلثومؑ نے بھی اس سفرِ اسیری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے خطبات نے اہلِ کوفہ کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور انہیں اپنی بے وفائی کا احساس دلایا۔ اسی طرح حضرت ربابؑ نے صبر و رضا کی ایسی تصویر پیش کی جو رہتی دنیا تک اہلِ ایمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر اور اپنے شیر خوار بچے کی شہادت کے باوجود اللہ کی رضا پر سرِ تسلیم خم رکھا۔

کربلا کی ننھی شہزادی حضرت سکینہؑ کی مظلومیت بھی اس داستان کا اہم باب ہے۔ ان کی معصومیت نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ ظلم صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ بچوں اور خواتین تک بھی پہنچتا ہے۔ ان کے مصائب نے تاریخ کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور یزیدی ظلم کی سفاکی کو ہمیشہ کے لیے بے نقاب کر دیا۔

کربلا کی خواتین نے یہ بھی ثابت کیا کہ حقیقی قیادت صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار، بصیرت اور اخلاقی جرات سے جنم لیتی ہے۔ انہوں نے اپنے دکھ کو ذاتی غم نہیں بننے دیا بلکہ اسے امت کی اصلاح اور بیداری کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی حق کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے اور ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا تاریخ کے سامنے جواب دہی سے فرار نہیں ہو سکتا۔

آج جب دنیا انصاف، انسانی حقوق اور اخلاقی قیادت کی بات کرتی ہے تو کربلا کی خواتین کا کردار ایک روشن مثال بن کر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عورت معاشرے کی خاموش تماشائی نہیں بلکہ حق و باطل کی جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والی ایک مؤثر قوت ہے۔

کربلا کا پیغام صرف شہادت کا نہیں بلکہ شعور، صبر، استقامت اور حق گوئی کا پیغام ہے، اور اس پیغام کی سب سے مؤثر علمبردار خواتین تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ کربلا کو پڑھتے ہوئے ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر میدان میں حسینؑ تھے تو قافلے میں زینبؑ تھیں، اور اگر ایک نے خون دے کر دین کو زندہ کیا تو دوسری نے اس خون کی حفاظت کر کے اسے رہتی دنیا تک امر کر دیا۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

جون کا مہینہ آتے ہی پاکستان میں بجٹ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ حکومتی حلقے اسے عوام دوست، ترقی پسند اور معیشت کی بحالی کا ضامن قرار دیتے ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے عوام دشمن اور مہنگائی میں اضافے کا نسخہ قرار دیتی ہے۔ لیکن ایک سوال جو دہائیوں سے اپنی جگہ قائم ہے، وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کے کسی بھی بجٹ میں واقعی غریب عوام کا بھی خیال رکھا جاتا ہے؟

پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ متوسط اور نچلے طبقے پر مشتمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں، چھوٹے کاروبار چلاتے ہیں یا محدود تنخواہوں پر اپنے خاندانوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ بجٹ پیش ہوتے ہی ان کی نظریں اس بات پر مرکوز ہوتی ہیں کہ شاید اس بار ان کے لیے کوئی ریلیف ہو، شاید اشیائے خورونوش سستی ہو جائیں، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی آ جائے یا روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ مگر اکثر ایسا نہیں ہوتا۔

ہر بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں، بڑے بڑے اعداد و شمار اور معاشی اہداف کا ذکر تو بہت ہوتا ہے، لیکن عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کم ہی نظر آتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، بجلی کے نرخوں میں بڑھوتری، نئے ٹیکسوں کا نفاذ اور بالواسطہ محصولات کا بوجھ بالآخر غریب طبقے ہی پر منتقل ہو جاتا ہے۔ امیر آدمی مہنگائی کا اثر کسی نہ کسی حد تک برداشت کر لیتا ہے، مگر غریب کے لیے آٹے، دال اور سبزی کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی زندگی کو مشکل بنا دیتا ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، مالیاتی خسارہ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی شرائط حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مشکلات کا بوجھ ہمیشہ غریب ہی کیوں اٹھائے؟ کیا کبھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مراعات یافتہ طبقے، بڑے جاگیرداروں اور طاقتور کاروباری حلقوں سے بھی ان کی حقیقی استطاعت کے مطابق حصہ لیا جائے؟

ایک فلاحی ریاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کمزور اور محروم طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ بجٹ صرف اعداد و شمار کی کتاب نہیں بلکہ حکومت کی ترجیحات کا آئینہ ہوتا ہے۔ اگر بجٹ میں تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی تحفظ کو اولین ترجیح نہ دی جائے تو معاشی ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔

پاکستان کے عوام اب محض وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسا بجٹ درکار ہے جو مہنگائی میں کمی، بنیادی ضروریات کی فراہمی اور آمدنی میں اضافے کا سبب بنے۔ جب تک بجٹ سازی کے عمل میں غریب آدمی کی ضروریات کو مرکزیت حاصل نہیں ہوگی، تب تک ہر سال یہی سوال دہرایا جاتا رہے گا کہ کیا پاکستان کے کسی بھی بجٹ میں کبھی غریب عوام کا بھی خیال رکھا جائے گا؟

وقت کا تقاضا ہے کہ بجٹ کو صرف معاشی دستاویز نہیں بلکہ عوامی فلاح کا منشور بنایا جائے، کیونکہ کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی کا پیمانہ اس کے امیروں کی دولت نہیں بلکہ اس کے غریب شہریوں کا معیارِ زندگی ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوشل میڈیا پر لوگ جانوروں کو ذبح کرنے اور انہیں باندھ کر گرانے کی ایسی ایسی ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔ دیکھ کر سخت مایوسی ہوتی ہے ۔ایسا لگتا ہے ہم ابھی تک آدم خور معاشرے کی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ کوئی رحم ، سلیقہ یا طریقہ نظر نہیں آتا۔

آج انسانوں کی خوراک کے لیے جانوروں کا مہذب طریقے سے ذبح خانوں میں بامطابق ضرورت ذبح کرنا ، جس سے انسانوں کی آبادیاں مشکلات کا شکار نہ ہو، یہ تو قابل قبول ہے۔

لیکن خدا کو خوش کرنے کے لئے گلی محلوں میں اس قدر بھیانک کام کو سرانجام دینا، جو خصوصی بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے،قطعی قابل قبول نہیں۔

قربانی کا اصل مقام، حج کا مقام ہے، جو زمانہ قدیم میں حاجیوں کے اجتماع کی ضروریات پوری کرنے کے لیے رائج ہوا تھا۔ اب تو حاجیوں کو اس کی ضرورت بھی نہیں۔۔خود سعودی عرب واقعی زندہ جانور ذبح کرنے کی بجائے حاجیوں سے جانوروں کی قیمتیں وصول کرلیتے ہیں۔ چلا ک عربی بھلا کیوں زاید زبحہ شدہ جانوروں کو صحرا میں دفن کرنے، یا ان کو غریب ممالک میں بھیجنے کے لیے کارگو کا کرایہ ادا کریں ۔ مذہبی لوگوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے، صرف ایک دن میں ہم بہترین جانور بلا ضرورت کاٹ دیتے ہیں اور پھر سارا سال لاغر، بیمار اور حتی کہ کتے اور گدھے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے اصول کے مطابق سارا سال جانوروں کی قیمتیں بڑھیں رہتی ہیں۔۔

اور اس پر طرہ یہ کہ تقریبا 200 ٹرک ،روزانہ ،جانوروں سے بھرے، افغانستان اسمگل ہوتے ہیں۔۔ پاکستان کو کوئی ٹیکس وصول نہیں ہوتا۔

اسلامی نظریاتی کونسل کو بزریعہ جدید اجتحاد کی روشنی میں اس عظیم ضیاع کو روکنا چاہیے۔

زاہدہ خوشی

SHARE

LEAVE A REPLY