خیبر پختونخوا میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے حالیہ اقدامات کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان محاذ آرائی کی سی کیفیت ہے۔

اس وقت مردان، صوابی، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، کرک، مانسہرہ، بٹگرام، دیر، لکی مروت، ہنگو، بنوں، ٹانک سمیت صوبے بھر میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ بجلی کی بندش کی جا رہی ہے۔ دور دراز علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے بھی زائد ہے۔

واپڈا حکام کے مطابق زیادہ لوڈشیڈنگ صرف ان علاقوں میں ہو رہی ہے جہاں لائن لاسز یعنی بجلی کی چوری زیادہ اور ریکوری بہت کم ہے۔

بجلی کی بندش پر معاملات اس وقت بگڑنا شروع ہوئے جب گزشتہ ماہ کے وسط میں وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ جن علاقوں میں بائیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اگر وہاں ریلیف نہ دیا گیا تو وہ پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (پیسکو) چیف کے دفتر جا کر لوڈشیڈنگ کا شیڈول خود جاری کریں گے۔

اور وزیرِ اعلیٰ بدھ کو اپنے بیان کے مطابق آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع ایک پاور اسٹیشن میں داخل ہوئے اور مقامی حکام کو بظاہر لوڈشیڈنگ کا شیڈول تیار کر کے دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY