ریڈیو پاکستان، پاکستان ٹیلی وژن اوربی بی سی لندن اردو سروس کی معروف و مایہ ناز نیوز کاسٹر،صحافی،کالم نگار، شاعرہ۔مبصر اورمصنفہ ماہ پارہ صفدر نے نومبر15 کو لاہور کے ایک انتہائی تعلیم یافتہ اورادب پرور گھرانے میں جنم لیا جہاں انکے والد سید حسن عباس زیدی ایک مستند شاعرتھے اور والدہ سوز خوانی کے حوالے سے ایک بڑا نام تھیں
انکا بچپن سرگودھا میں گزرااور ابتدائی تعلیم کے بعد کالج تک کی تعلیم بھی سرگودھا میں ہی حاصل کی جسکے بعد جامعہ پنجاب سے انگریزی ادب میں ایم اےکی ڈگری لی اور لندن جانے کے بعد وہاں سے ویمن سٹڈیز میں ایم اے کی دوسری ڈگری لی انہوں نے1975میں ریڈیو پاکستان لاہور جوائن کیا
اسی دوران پہلے مرحلے پاکستان ٹیلی ویژن لاہور مرکز سے بھی بطور نیوز کاسٹر اپنے صوتی سفر کا آغازکیا
اپنے دلکش انداز تکلم اور منفرد لب و لہجے کی بدولت ماہ پارہ صفدر کا شمار ان نیوز کاسٹرز میں ہوتا ہےجو پاکستان ٹیلی وژن کے لاکھوں ناظرین کی بہت پسندیدہ شخصیت رہی ہیں
اگست 1979ء میں ان کی شادی صفدر ہمدانی سے ہوئی۔ وہ ممتاز براڈ کاسٹر اور اولیں ناشر اعلان آزادی پاکستان مصطفی ہمدانی کے بیٹے ہیں اور نامور شاعر ہیں جو اس وقت ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھے
ان دنوں ماہ پارہ صفدر اپنی خود نوشت میرا زمانہ میری کہانی کے سلسلے میں پاکستان تشریف لائی ہیں اور پاکستان کے مختلف شہروں میں انکی اجرائے کتاب کے سلسلے میں تقاریب منعقد کی جارہی ہیں

یوں تو وہ ہمارے دوست صفدر ھمدانی کی اہلیہ کے حوالے سے وہ ہمیشہ ہماری یادوں میں رہیں اور فون پر بھی ان سے رابطہ رہا لیکن بالمشافہ ہماری پہلی ملاقات ان سے لاہورکے کتابی میلے میں ہوئی جہاں وہ اپنے پبلشر جہلم بک کارنر کے پر رونق اسٹال پر اپنے مداحین کو اپنی کتاب دستخط کے ساتھ دے رہی تھیں
ماہ پارہ صفدر بہت پر تپاک طریقے سے ملیں اور ہم انکی دلکش شخصیت کے سحر میں گرفتار ہوگئے ، پھر دوسری ملاقات
الحمرا کے ھال نمبر 3 میں میرا زمانہ میری کہانی کی تقریب میں ادب پرور دوستوں کی موجودگی میں ہوئی ۔ اس موقع پر الحمرا کا ہال اہل ادب سے بھرا ہوا تھا اور یہاں صاحب کتاب کا پرجوش استقبال دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔

اسکے بعد ماہ پارہ سے تفصیلی ملاقات کی خواہش ہوئی تو ہم نے انہیں اپنے گھر پر مدعو کرنا چاہا اور یہ خواہش بھی پوری ہوئی جسکی تفصیل جلد ہی ایک الگ تحریر میںن بیان کرونگی
انکی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی انکی خود نوشت ۔۔میرا زمانہ میری کہانی۔۔۔میں تفصیل سے موجود ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ خاص طور پر خواتین کو یہ کتاب ضرور مطالعہ کرنی چاہیئے تا کہ ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی آج کی خواتین کو یہ علم ہو سکے کہ ماہ پارہ جیسی خواتین نے کیسے آج کی اینکرز کے لیئے راستہ بنایا
ماہ پارہ کی شاعری دراصل انکی خبروں کی شہرت کی وجہ سے پس منظر میں چلی گئی ہے ورنہ انکی شخصیت کی طرح انکی شاعری بھی منفرد ہے
اک ادھورا سا خواب ہو جیسے
زندگانی کتاب ہو جیسے
میری آنکھوں کے ریگزاروں میں
اک مسلسل سراب ہو جیسے
منتشر منتشر رہی ایسی
بکھرا بکھرا گلاب ہو جیسے
تحریر، شاہین اشرف علی













