باب اول: ” اس کی ماں کے گناہ” ۔۔ چوتھی قسط
مرد اونٹ کو اپنے دروازے پر لایا۔۔۔اسے نیچے بٹھایا اور اپنی زنگ آلودہ بندوق کی نال کو صاف کیا اور کندھے پر لٹکا لی۔ جونہی وہ کمرے سے باہر اونٹ پر سوار ہونے کے لئے آئی۔۔۔وہ رکی۔۔۔اس نے دروازے میں پیچھے مڑ کر اندر لپے پتے فرش کو دیکھا۔۔۔کھجور کے پتوں سے بنی چٹایوں کو دیکھا۔۔۔جو اس نے سالہا سال کی مشقت سے بنائی تھیں۔۔۔اس نے چولہے میں آدھ جلی لکڑیوں کو دیکھا۔ اس کا چہرہ ایسے پر سکوں اور سپاٹ تھا جیسے وہ آج کے سفر کے لئے برسوں سے تیاری کر رہی تھی۔ اکیلا اونٹ اپنے تین سواروں سمیت، پہلے بیس میل ٹیلی گراف کی لائن کے ساتھ ساتھ چلتا گیا۔ پھر اس نے اونٹ کو مشرقی جانب بلکل ویران اور ان دیکھے دشت کی طرف موڑ دیا۔
وہ اپنی عقل اور علم کا بہترین استعمال کر رہے تھے۔ کبھی وہ رفتار کم کرتے کبھی بڑھاتے۔ اکثر اپنی سمت بدل لیتے اور سفر کے وقت میں بھی فرق ڈالتے۔ انھوں نے کسی بھی چشمے پر کم سے کم وقت گزارا۔ جب وہ آرام کرنے کی غرض سے رکتے تو وہ ویران ترین جگہ کا انتخاب کرتے اس پر بھروسہ نہ کرتے ہوے اپنے آپ اور اپنے اونٹ کو جھاڑیوں کے ڈھیر میں چھپاتے۔۔۔بنا حرکت آرام کرتے۔
پانچویں روز عورت کے چہرے پر کچھ اطمینان کی سرخی نظر آئی۔ کیوں کہ انھیں اپنے پیچھے آتا کوئی بھی نظر نہ ایا۔ وہ ایک موہوم سی امید پر بولی۔” شاید اس ناقہ سوار نے ھماری قلعے میں موجودگی کا کسی کو نہ بتایا ہو؟ شاید انھوں نے ہماری تلاش کا ارادہ ہی ترک کر دیا ہو؟ شاید وہ ہماری تلاش سے تھک ہار کر واپس چلے گئے ہوں؟”
مرد بولا۔ “نہیں! ہرگز نہیں! وہ ہمارے پیچھے ہیں۔ مجھے ہوا سے ان کی خبر مل رہی ہے۔” اور وہ مرد بلکل درست تھا۔ چھٹے دن کی صبح سویرے، جب وہ ایک چشمے سے پانی بھر رہے تھے انھیں افق پر اپنے تلاش کرنے والے نظر آ گئے۔
وقت چونکہ بلکل ہی صبح دم کا تھا اس لئے مطلع بلکل صاف تھا۔ فضا میں شیطانی قاتل ہواؤں کے سنگ ریت کے ذرات نہیں اڑ رہے تھے۔ وہ تلاش پارٹی بھلے کافی دور تھی لیکن انھیں پہچاننے میں غلطی نہ لگی کہ وہ کون تھے۔ اس عورت کا سابقہ خاوند اور اس کا باپ باقی گروہ کی نسبت کچھ آگے آگے بڑھے آ رہے تھے۔
مرد نے عورت سے کہا۔” گل بی بی ذرا قریب آ جاو۔” اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” ہمارے لئے کہیں بھی پناہ نہ تھی۔ اب بھی بھاگ کر ہم کہیں نہیں جا سکتے۔ تمھیں پتہ ہے نہ کہ ہم نے کیا کرنا ہے؟” اس مریل آواز میں جواب دیا۔” ہاں! مجھے پتہ ہے۔” ہم اس موضوع پر دن میں کئی کئی بار بات کر چکے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن میرے محبوب مجھے ڈر لگتا ہے۔” مرد بولا۔ ” مت ڈرو۔ میں تمھارے پیچھے ہی ہوں گا۔ بہت جلد تمھارے ساتھ ہوں گا۔” عورت اس سے چند قدم دور جا کر رک گئی۔ اس نے مرد کی آنکھوں میں ایسے دیکھا جیسے ساری زندگی جئیے ہوے لمحات اور اچھے برے وقتوں کی فلم دیکھ رہی ہو۔ چند ثانیے بعد ایک لمبی آہ بھر کر وہ مرد کی طرف پشت کر کے کھڑی ہو گئی۔ پھر یکدم بولی۔ “لڑکے کو نہ مارنا۔ شاید وہ اسے معاف کر دیں۔ میں تیار ہوں۔”
وہ ابھی بات کر ہی رہی تھی کہ مرد نے اسے گولی مار دی۔ اس نے بندوق دوبارہ بھری اور لڑکے کی طرف دیکھا جو اسے پلکیں جھپکاے بغیر دیکھے جا رہا تھا۔ کندھے اچکا کر وہ لڑکے سے پرے ہٹ گیا اور بیٹھے ہوے اونٹ کے سر میں گولی مار کر اسے بھی موت دے دی۔ پھر وہ لڑکے کے برابر آ کر کھڑا ہو گیا اور تعاقبین کی راہ دیکھنے لگا۔
تعاقبین کا قافلہ چشمے تک آ پہنچا اور اونٹوں سے اتر آیا۔ بوڑھا سردار سب سے آگے تھا۔ اس کی آواز ٹھنڈی اور کسی بھی جذبے سے خالی تھی۔ سیاہ پٹکے میں اس کا آدھا چہرہ چھپا ہوا تھا۔۔۔لیکن اس کی بوڑھی آنکھیں چمکدار تھیں۔۔۔جن سے اس کے قبیلے کا ہر فرد واقف تھا۔ وہ نگاہیں۔۔۔وہ آنکھیں جو محبت، نفرت، ہنسی،مزاح یا تجسس میں اظہار کرنے پر کسی بھی فرد سے زیادہ قادر تھیں۔۔۔آج کسی بھی تاثر سے خالی۔۔۔محض دو آنکھیں تھیں۔
“یہ لڑکا کون ہے؟” سردار کی سپاٹ تھی حتاکہ اس میں شکار مل جانے پر بے صبری کا بھی شائبہ تک نہ تھا۔ مرد نے جواب دیا۔ “تمھاری بیٹی کا پتر ہے۔” لڑکا ان دونوں کی گفتگو کے دوران کھڑا بس کانپ رہا تھا۔ وہ گھبراہٹ میں اپنے گلے میں لٹکتے چاندی کے تعویذ کو انگلیوں میں گھماے جا رہا تھا۔
مردہ عورت کا سابقہ خاوند آگے بڑھا۔ نفرت سے غراتے ہوے بولا۔ ” کس کا بیٹا؟ تیرا یا میرا؟” عاشق نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر بوڑھے سردار کی آنکھوں میں دیکھا۔ “یہ تمھاری ہی بیٹی کا پتر ہے۔” اس نے دھشت زدہ بچے کی طرف انگلی کر کے کہا۔” یہ تمھاری بیٹی کا ہی تعویذ ہے جو تم نے اسے بلاوں سے دور رکھنے کے لئے پہنایا تھا۔ اب اس نے مرنے سے پہلے اسے پہنا دیا۔ کیا تم اس تعویذ کو پہچان نہیں رہے؟ وہ اکثر کہا کرتی تھی یہ تم نے اسے دیا تھا آفات سے دور رکھنے کے لئے۔”
بوڑھا کچھ نہ بولا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا۔ اس کے ساتھیوں نے اس کی اتباع میں اچھے وزنی پتھر اٹھا لئے۔ عاشق با وفا سیدھا کھڑا رہا اور اس پر پتھروں کی پہلی بارش برس گئی۔ اس کے چہرے،سر اور کنپٹیوں سے خون بہنے لگا۔ پھر پتھروں کی بارش ہوتی رہی حتاکہ وہ گھٹنوں پر جھک گیا۔ پھر وہ ایک کہنی کی ٹیک پر پہلو کے بل لیٹ گیا۔ آخر کار بہادری اور غرور کی آخری ادا بھی جواب دے گئی اور وہ بے رحم دشت کی پتھروں سے اٹی زمین پر چت ہو گیا۔ اس کا سارا لباس خون بہنے سے سیاہ پڑ چکا تھا۔ خون کی چھوٹی چھوٹی دھاریں اس کے چاروں طرف ازل سے پیاسی ریت میں جذب ہونے لگیں۔ پتھر مارنے والے دائرے کی شکل میں قریب سے قریب آتے چلے گئے۔ وہ درد و دہشت اور وحشت کا منظر تب ہی ختم ہوا جب انھیں یقین ہو گیا کہ وہ مر چکا تھا۔ اس کی ہر ہڈی ٹوٹ چکی تھی اور چہرہ ناقابل شناخت ہو چکا تھا۔ عاشق کو مارنے کے بعد سابقہ شوہر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔” اب لڑکے کی باری ہے۔” لڑکا مردہ اونٹ کے پاس کھڑا۔۔۔یہ بات سن کے بنا آواز منہ بسورے بری طرح کانپنے لگ گیا۔ بوڑھے سردار نے سرزنش کرتے ہوے کہا۔” نہیں! بچے کی موت ضروری نہیں۔ ھمیں جیسا یہ ملا ھم اسے ویسا ہی چھوڑ جائیں گے۔” ساری پارٹی ہی مشاورت میں پڑ گئی۔ پھر وہ یک زبان بولے۔ “سردار ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ھمارا لڑکے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔”

انھوں نے دونوں مردہ جسموں کو کچھ دور تک گھسیٹا اور چشمے کے گرد بکھرے پتھروں سے ان کو ڈھانپ کر ان پر مینار کھڑے کر دئے۔ انھوں نے گارا تیار کرکے قبر نما میناروں پر پتھروں کے درمیان درزوں کو خوب ٹھوک ٹھوک کر بھر دیا۔۔۔تاکہ وہ تادیر کھڑے رہیں اور غیرت مندوں کے لئے اور عام لوگوں کے لئے سیاہ پادوں میں بھاگ جانے والوں کی سزا اور عبرت کے نشان بنے رہیں۔ وہ چاھتے تھے کہ دیکھنے والے دیکھتے رہیں کہ سیاہ پاد کس طرح اپنی ذلت کا انتقام لیتے تھے۔ بوڑھے سردار نے تدفین کے عمل میں کوئی حصہ نہ لیا۔ بلکہ ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔ البتہ وہ کبھی کبھی اس جگہ کھڑا ہو جاتا جہاں قبر بننے سے پہلے اس کی بیٹی کی لاش پڑی تھی۔
جونہی مردوں نے اپنا کام ختم کر لیا وہ اونٹوں پر سوار ہوے اور واپس اپنے رستے پر چل نکلے۔ کچھ دور جا کر مردہ عورت کے باپ نے اونٹ کی نکیل کھینچی اور رک گیا۔ ” میرا خیال ہے بچے کو لے ہئ آوں!” اور دائیں ہاتھ سے آنکھوں پر سایہ کرتے ہوے چشمے کی طرف دیکھنے لگ گیا جہاں بچہ چشمے کے قریب مرے ہوے اونٹ سے ٹیک لگاے کھڑا تھا۔ سابقہ شوہر چلایا۔”ایسوں کے لئے موت بہترین ہے۔ جانور کے بچے مین اس کے جانور باپ کا ہی خون ہوتا ہے۔” بوڑھا سردار دھاڑا۔ “تمھارا اسے جانور کہنے سے مطلب؟ اس کا آدھا خون میرا بھی ہے۔ ایک قبیلے کے سردار کا خون۔” ” میں نے پہلے جو کہا وہی اب بھی ہے۔ اس گندے خون سے کبھی خیر کا کام نہ ہو گا۔” سابقہ شوہر چلایا! سردار اپنا اونٹ چلاتا ہوا اس کے سامنے گیا اور سب کو مخاطب کر کے بولا۔” سب سنو! جب میری بیٹی پیدا ہوئی وہ گنہگار نہ تھی۔ جب وہ بڑی ہوئی وہ گنہگار نہ تھی۔ میں نے اس کی شادی کی تب وہ گنہگار نہ تھی۔ وہ گنہگار بننے پر مجبور ہو گئی جب میں نے اس کی شادی ایک “مرد” سے نہ کی۔!!!” ساتھ ہی اس نے اپنی کپکپاتی ہوئی انگلی اپنے داماد کی طرف کی۔ وہ گرجا۔ “منحوس! تم جانتے ہو اور سمجھ رہے ہو جو میں کہہ رہا ہوں۔ ایک عورت سے شادی کر لو، جتنی سے مرضی کر لو، سبھی گناہ کی طرف جائیں گی۔ تم جانتے ہو۔ کیوں؟؟؟”
قبیلے کے اتنے مردوں کے سامنے اتنی بڑی ذلت کے بعد اس کا چہرہ غیض و غضب سے سیاہ پڑ گیا۔ وہ غرایا۔ “بڈھے! بھلے تم قبیلے کے سردار ہو لیکن تمھیں ان مردوں کے سامنے یہ سب نہیں بولنا چاھئیے تھا۔” اس نے تیزی سے تلوار نکالی اور تین بار بوڑھے سردار کے سینے میں گھونپ دی۔ بوڑھا اونٹ پر ہی مر گیا اور ایک گڑیا کی طرح اونٹ سے نیچے جا گرا۔
اس کی موت کے ساتھ ہی مردوں کا قافلہ ادھر ادھر بکھر گیا۔ انھوں نے اپنے سردار کی باقاعدہ تدفین کی بھی زحمت نہ کی بلکہ متوقع طوفان کے پیش نظر اسے ویسے ہی چھوڑ بھاگے۔
تنہا رہ جانے پر بچہ دونوں قبروں کے درمیان پتھروں سے کھیلنے لگ گیا۔ اس نے اپنے ننھے ہاتھوں سے قبروں کے پتھر ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ بہت مضبوطی سے ایک دوسرے میں بٹھاے گئے تھے۔
جوں جوں سورج بلند ہوتا گیا تو لڑکے نے دیکھا صحرائی بٹیرے غول در غول آ کر چشمے سے پانی پیتے اور اڑ جاتے۔ ان کے گلوں سے نکلتی آوازوں اور پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سے پیدا ہونے والے شور نے بچے کی توجہ وقتی طور پر اس دھشت سے ہٹا دی جس کا وہ تھوڑی دیر قبل ہی گواہ بنا تھا۔ ہزاروں پرندوں کی معیت بھی ختم ہو گئی۔ اب اس کے شغل کے لئے کچھ بھی نہ رہ گیا۔ اسے سخت بھوک اور پیاس محسوس ہوئی۔ اس نے اونٹ کے ساتھ پڑے تھیلے سے نکال کر کھایا۔ چشمے سے پانی پیا اور مردہ اونٹ کے ساتھ چپک کر لیٹ گیا کیونکہ وہ دیکھ سکتا تھا ریت مہیب طوفان دیو کی مانند ادھر امڈا آ رہا تھا۔
غلام حسین غازی
جاری ہے












