نفرت انگیز تقریر: الطاف حسین کی ضمانت میں پھر توسیع

0
662

برطانوی عدالت نے مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کیس میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی ضمانت میں ایک مرتبہ پھر توسیع کردی۔

الطاف حسین لندن سینٹرل کرمنل کورٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جج کے سامنے پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ آج ٹرائل کی تاریخ تھی جبکہ ابتدائی سماعت 20 مارچ 2020 کو ہوگی اور ٹرائل یکم جون کو شروع ہوگی۔

الطاف حسین اولد بیلی کے نام سے مشہور جسٹس سویینی کے سامنے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔

تاہم اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ ویڈیو لنک پر سماعت کس نوعیت کی تھی۔

خیال رہے کہ لندن میں اخراجات بچانے کے لیے ویڈیو لنک سے مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس نے الطاف حسین کے خلاف اگست 2016 میں اپنی تقریر کے دوران دہشت گردی کی حوصلہ افزائی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 2006 کی دفعہ 1 (دو) پر تحت فرد جرم عائد کیا۔

اگر الطاف حسین پر جرم ثابت ہوا تو ان پر جرمانے کے ساتھ 15 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانیہ کی پولیس نے مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق کیس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی ضمانت میں توسیع کردی تھی۔

گزشتہ سماعت کے بعد پولیس اسٹیشن کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا تھا کہ ‘مجھے برطانوی قانون پر بھروسہ ہے، میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور مجھے کسی چیز کا ڈر یا خوف نہیں’۔

انہیں مشروط اجازت ملی تھی جس کے تحت وہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔

خیال رہے کہ جب تک الطاف حسین ضمانت پر ہیں ان پر گھر سے باہر نہ نکلنے کی شرائط لاگو رہیں گی۔

اس سے قبل رواں سال جون میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کو مبینہ طور پر نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش کے سلسلے میں لندن میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تاہم بعد ازاں تفتیش سے متعلق الزامات عائد کیے بغیر ہی برطانوی حکام نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

2016 میں برطانوی حکام نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات ختم کردی تھیں اور انہیں وہ رقم واپس کردی تھی جو 2014 کے دوران الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر مارے گئے چھاپوں کے دوران برآمد کی گئی تھیں۔

یہی نہیں بلکہ الطاف حسین کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے دوران بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ 22 اگست کو کراچی پریس کلب پر کی گئی اشتعال انگیز تقریر کے بعد پاکستان میں ان کی پارٹی کو ان سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY