اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے تقرر کا صدارتی نوٹی فکیشن معطل کرتے ہوئے کہا کہ جو چیز پارلیمنٹ کی ہے وہ پارلیمنٹ میں ہی طے ہونی چاہیے، کیس کی آئندہ سماعت تک دو نئے ارکان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل رہے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کے تقرر ی کے خلاف جہانگیر جدون کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پارلیمنٹ میں منتخب نمائندوں کو ایسے فیصلے خود کرنے چاہیے، پارلیمنٹ کی توقیر ہمارے لیے مقدم ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ہی یہ معاملہ حل کیا جائے گا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے دوران مزید کہا کہ اسپیکرقومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ پر پورا اعتماد ہے، آئندہ سماعت تک ممبران کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل رہے گا، جو چیز پارلیمنٹ کی ہے وہ پارلیمنٹ میں ہی طے ہونی چاہیے۔
کیس کی سماعت کے دوران وکیل نے دلائل دیئے کہ تین میٹنگزہوئی ہیں لیکن حالات خراب ہونے کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہوسکی جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ جس معاملےکا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس کو بھی پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سے استفسارکیا کہ قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو کتنا وقت چاہئے؟ جس پر وکیل نے استدعا کی کہ 4 ہفتے کا مزید وقت دے دیا جائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ بھی قریب ہے آپ جلد اس کو حل کرلیں، الیکشن کمیشن اس وقت تقریباً غیر فعال ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے عدالت میں ریمارکس دیئے کہ 7دسمبر سے پہلے یہ معاملہ حل کر کے عدالت کو آگاہ کریں جس کے بعد کیس کی مزید سماعت 5 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔












