بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات نگر کرتن میں شرکت کے لیے 1100 بھارتی سکھ یاتری حسن ابدال میں واقع گردوارہ پنجہ صاحب پہنچ گئے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر گردوارے کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا جہاں یاتریوں نے ماتھا ٹیکی، غسل اور تحائف دینے سمیت مختلف مذہبی رسومات ادا کیں۔
متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی) کے ڈپٹی سیکریٹری برائے مزارات عمران گوندل نے بتایا کہ 1100 سکھ یاتریوں نے 31 اکتوبر کو لدھیانہ اور امرتسر سے واہگہ بارڈر پار کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سکھ یاتریوں نے گردوارہ جنم استھان، ننکانہ صاحب، گردوارہ سچا سودا فاروق آباد اور دیگر گردواروں کا دورہ کیا اور یہ یاترہ کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب میں اختتام پذیر ہوگی جہاں سونے کے ورقے کی ‘پالکی صاحب’ نصب کی جائے گی۔
ڈپٹی سیکریٹری نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی مقامات کے دورے سے متعلق 1974 کے پروٹوکول کے مطابق نگر کرتن کے لیے جاری کیے گئے 1300 ویزے ختم ہوگئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ‘ 1974 میں طے شدہ معاہدے کے تحت بھارتی سکھ یاتری مذہبی رسومات کے لیے کم از کم 4 مرتبہ پاکستان آتے ہیں لیکن ویزا ہونے کے باوجود پاکستان کو مذہبی رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دینا سمجھ سے باہر ہے’۔
عمران گوندل نے بتایا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے پاکستانی سکھ گردوارہ پربند کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مقامی اور بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے سیکیورٹی اور رہائش کے انتظامات کیے ہیں۔











