اپوزیشن نے سینیٹ کے اجلاس میں صدارتی آرڈیننسز کو منظوری کے لیے ایوان میں پیش نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور ایوان کے اندر دھرنا دے دیا۔
سینیٹ کے ہال میں دیے گئے دھرنے کے دوران اپوزیشن ارکان نے شدید نعرے بازی کی، حزب اختلاف کے احتجاج پر پریذائڈنگ افسر ستارہ ایاز نے اجلاس کل تک ملتوی کردیا۔
اپوزیشن ارکان نے سینیٹ ہال میں آرڈیننس فیکٹری بند کروں، نامنظور نامنظور آرڈیننس نامنظور، پارلیمنٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے۔
سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ حکومت اپنے جاری کیے گئے 8 آرڈیننس ایوان میں پیش کرے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اپوزیشن کے ریکوزیشن اجلاس میں حکومت کا بزنس نہیں آتا، اجلاس میں آرڈیننس کیسے پیش کرسکتے ہیں؟
سینیٹر رضا ربانی نے اس پر کہا کہ پارلیمان کو حق حاصل ہے کہ اگر کوئی آرڈیننس ناجائز ہے تو وہ اسے مسترد کرنے کی قرار داد لائے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ سے بالاتر ہو کر قانون سازی کرنا جمہوریت میں جائز ہے؟
پی پی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے آرڈیننس فیکٹری لگائی ہوئی ہے، 8 آرڈیننس اسی اجلاس میں پیش ہوں گے اور سینیٹ انہیں مسترد بھی کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کو پاس یا مسترد کرنا پارلیمنٹ کا حق ہے، حکومت کو ہاؤس چلانا پڑے گا ورنہ ہم فلور پر دھرنا دیں گے۔
وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، وزیر قانون سینیٹر فروغ نسیم اور سینیٹر شبلی فراز نے حکومتی موقف پیش کیا اور اپوزیشن ارکان کے اعتراض پر جواب دیا۔
اعظم سواتی نے کہا کہ آپ کی حکومت میں آرڈیننس حلال اور ہمارے دور میں حرام ہو گئے؟
قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ مناسب وقت پر آرڈیننس ایوان میں پیش کر دیں گے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ آرڈیننس کو لائیں گے، لیکن اس سے پہلے اپوزیشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد میں اضافے کا بل منظور کرے۔













