سب سے پہلے تو مبارک ہو اُن تجزیہ نگاروں اور اینکرز کو جو نواز صاحب کی بیماری پر اس قدر پریشان تھے کہ شاید وہ خود اتنے پریشان نہیں تھے ۔یہ ہے درمیانی راستہ ۔واہ ۔۔اگلی خبر کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں زرداری صاحب دبئی روانہ ہوں گے اور مریم کے بغیر نواز جائینگے نہیں اس لئے ایک اور درمیانی راستہ اور اندر کی کہانی بیرونی لوگوں کی زبانی
ہم جب تک ان درمیانی راستوں اور اندرونی کہانیوں سے جان نہیں چھڑائیں گے کبھی بھی حال میں نہیں جئیں گے ۔ماضی میں کچھ اچھا نہیں ہے ،حال کی ہمیں فکر نہیں ہے، مستقبل کیا ہوگا خبر نہیں ہے ،قومیں بنتی ہیں کردار سے جنہیں ہم نے مٹا دیا ہے اپنی سلیٹوں سے ۔قومیں بنتی ہیں افکار سے جنہیں ہم نے چھوڑ دیا ہے ،قومیں بنتی ہیں عدل سے جس پر ہماری توجہ ہی نہیں ہے قومیں بنتی ہیں اخلاق سے جس کا ہمارے اندر فُقدان ہے ۔قومیں بنتی ہیں عمل سے جسے ہم نےچھوڑ دیا ہے ۔جھوٹ اتنا ہے کہ سچ کھو گیا ہے ۔دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔۔ ہر کوئی اپنے ملک کی طرف توجہ دیتا ہے جیسے ایک گھر بنانے کے لئے سارے گھر والے مل کر محنت کرتے ہیں جب گھر بنتا ہے ہم نے یہ سوچ ہی ختم کر دی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہم سب بے حس اور بے خوف ہیں ہمیں کسی جواب دہی کسی پکڑ کسی پریشانی کی فکر ہی نہیں بس اپنا اپنا سوچنا ہے جس نے ہم سے ہمدردی ،محبت ،خلوص جیسی نعمتیں چھین لی ہیں ۔خدا را یہ درمیانی راہیں نہ نکالو ادہر کرو یا اُدہر کرو ،اندرونی کہانیاں نہ سناؤ اُن میں شکوک اور شبھات بڑھتے ہیں جو کچھ ہے سامنے لاؤ
پاکستان بننے سے آج تک پاکستان کی سیاست اسکی ریاست اور اسکے مسائل میں لاکھوں موڑ آئے ،ہر موڑ دوسرے سے مُختلف تھا کبھی فوج تھی کبھی سیاست دان تھے لیکن ہلڑ بازی اس طرح کبھی نہیں تھی جس طرح اس تجربہ کار اپوزیشن نے اختیار کی ہے ۔ہر دور میں پڑھے لکھے اور برد بار لوگ سیاست میں تھے اسمبلیاں چلتی تھیں چلائی جاتی تھیں کیونکہ کچھ بھی تھا اپوزیشن اور حکومت ملک کے لئے چلتی تھی ۔سینٹ ملک کے کاموں کی بات کرتی تھیں لیکن اب اپوزیشن صرف اور صرف اپنے لیڈروں کی بات کرتی ہے انہیں اس سے کوئی غرض ہی نہیں ہے کہ ملک کدہر جا رہا ہے وہ صرف ایک مریض کو پر قسم کی خطرناک بیماری میں مبتلا بتانے اور اُسے کسی بھی قیمت پر باہر لے جانے کو ہی ملک کی خدمت سمجھتی ہے ،کیونکہ اُن کے لئے کوئی حکومت کبھی اتنی سخت نہیں تھی ماحول کبھی اتنا نا مناسب نہیں تھا جتنا آج ہے کیونکہ اُن کی ہر غلط بات سے پردہ اُٹھ رہا ہے اُن کی جائیدادیں ،اُن کے اثاثے نکل رہے ہیں کس طرح پیسے کھائے پتہ چل رہا ہے اُن کے پاس سوائے بیماری کے پیچھے چھپنے کے کوئی چارہ نہیں ہے ۔کاش وہ ملک کا لوٹا پیسہ واپس کرتے اور سیاست سے تائب ہوکر جہاں چاہے چلے جاتے ۔عوام پر رحم کرتے جو ان کے دور میں ان کی وجہ سے اور اب بھی اُن ہی کی وجہ سے مشکلوں کا شکار ہے ۔
قانون اور اُسکی بالا دستی جب تکل صرف تقریروں اور تجزیوں میں رہے گی ہمارا حال یہ ہی رہے گا ہم کبھی بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے کیونکہ عمل ضروری ہے جو ہمیں کہیں نہ کہیں سرد خانے میں نظر آتا ہے ہر کوئی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے ۔سوچا تھا کہ شاید ہم اب ان تکلیفوں سے کچھ نجات پا لیں گے لیکن ہمیں جس گورکھ دھندے میں پھنسا دیا گیا ہے اُس سے نکلنا دنوں اور مہینوں کا نہیں سالوں کا کام ہے ۔جب ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنا لیتا ہے تو نہ عبادت ہوتی ہے نہ ریاضت ہوتی ہے بلکہ ایک پھکڑ پن ہوتا ہے جیسا کہ آج کل ملک میں ہورہا ہے ۔
مجرم ملک سے باہر پورے اعزاز کے ساتھ جا رہے ہیں ہمیں ٹھینگا دکھا کر کہ لے لیا پیسہ واپس ؟باقی محاز بھی ہمیں اسی طرح منہ چڑائین گے کیونکہ ہم انسانی ہمدردی میں بہت آگے ہیں ۔اس طرح نہ قومیں بنتی ہیں نہ مسائل کم ہوتے ہیں بلکہ راہ ملتی ہے ہر غلط کام کو کیونکہ ڈر اور خوف ریاست کا ختم ہو جاتا ہے ۔ہمیں ان باتوں پر سنجیدگی اختیار کرنی پڑے گی ۔ہم کس طرح گھٹنے ٹیک سکتے ہیں اس سیاست کے سامنے جس نے اب تک جھوٹ اور دھوکے سے اپنے کام بنائے اور ہم نے انہیں ہر ہر قدم پر کامیاب کیا ۔ہر لوٹنے والا آرام سے باہر بیٹھا عیش کر رہا ہے اور ہم اُسے معصؤم ثابت کر رہے ہیں ۔کیسی تبدیلی جب ہم اپنے مجرم ہی نہ پکڑ سکیں اُن پر کچھ ثابت نہ کر سکیں پھر بس حکومت کرو اور پانچ سال تک عوام کو بے وقوف بنائو اور لوٹ جائو یا پھر مسلط ہو جائو ۔ہم ٹوٹ چکے ہیں جو بھی سنجیدہ طبقہ ملک میں ہے وہ سوچ رہا ہے کہ انجام کیا ہے صرف اور صرف بربادی اور لا قانونیت ۔عدل نہ ملنا اور عدل پر عمل نہ ہونا ۔باریک سے باریک نکتہ تلاش کرنا اور چھوٹ جانا ۔میں وکیلوں کی قائل ہو گئی وہ قاتل کو چھڑوا سکتے ہیں اور مقتول کو پھانسی دلوا سکتے ہیں ۔میرے ملک کا صرف ایک طبقہ ہے جو سب سے زیادہ زیرک اور فعال ہے اربوں کماتا ہے وہ ہے وکیل ۔نہ مقدمے ختم ہونے دیتا ہے نہ سزا دینے دیتا ہے نہ ثبوت دینے دیتا ہے اور نہ ہی اپنے موئکل کو رسوا کرتا ہے ۔بس اُسکی جیب بھری جانی چاہئے وہ موت اور زندگی کی بھی گارنٹی دیتا ہے نعو زُ باللہ
ہم کہاں جا کر دَم لیں گے خبر نہیں لیکن اتنا ضرور نظر آرہا ہے کہ ہمیں نہ کرپشن سے نجات ملے گی نہ انصاف ملے گا نہ حالات بدلیں گے اور نہ ہی ہم خود کو ان مشکلوں سےنکال سکیں گے کیونکہ ہمارے اندر وہ رمق ہی باقی نہیں بچی جو ترقی کرنے کی ہوتی ہے خود کو برائیوں سے بچا کر اچھائیوں کی طرف لےجانے کی ہوتی ہے ۔ہمارے اندر کا موجود دشمن ہمیں جب چاہے جیسے چاہے ازیت دیتا ہے اور ہم بے بس ہوتے ہیں اُس کے آگے ۔
اُس پیارے نبی کی آمد کا مہینہ ہے جس کے آنے سے دنیا کے اندھیرے چھٹ گئے تھے جس نے رحمت الللعالمین کا لقب پایا تھا اور ساری دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا تھا ہمارا سرمایہ ہمارا مُحسِن ہماری ہزار جانیں قربان اُس پیاری پاک ذات پر کروڑوں درود اور کروڑوں سلام اور ہم اُمتی کتنے بد قسمت کہ بجائے اُن کی سنتوں پر عمل کرتے اُن کی آمد کے مہینے میں بھی اختلافات کا شکار ،ھنگاموں میں گرفتار َ جلن حسد اور بُغض کی آگ میں جلتے ہوئے ۔کاش ہم غور کریں اپنے روئیوں پر اپنی حالت پر اور اپنے اعمال پر ۔
اللہ سے امید ہے کہ وہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے گا ۔عمل کی توفیق عطا فرمائے گا اور ہمیں سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے گا انشاءاللہ
اللہ میرے ملک کا حامی و ناصر ہو آمین
درمیانی راستے ،اندرونی کہانیاں,عالم آرا
546
0












