یہ طوطا کہانی نہیں سو فیصد سچ ہے۔ سید کوثر کاظمی

0
181

صحافت کی دنیا خاص طور پر اردو صحافت کی دنیا اور مزید خاص طور پر لندن میں اردو صحافت کی دنیا ایک بڑی حد تک اب کثافت کی دنیا بنتی چلی جا رہی ہے اور اسکی ایک بڑی وجہ غیر صحافی بلکہ تجارتی ذہن کے لوگوں کا اس شعبے میں آنا اور اس پر قبضہ کرنا ہے اور اسمیں پاکستانی میڈیا ہاوسز کا اپنا بہت عمل دخل ہے

پھر پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے مختلف رخ سے منسلک نام نہاد صحافیوں نے اس صورت حال کو مزید مکروہ بنا دیا ہوا ہے۔ میری پیشہ وارانہ مصروفیات نے جب ذرا سی بھی فرصت دی تو اس موضوع پر پوری کتاب لکھ کر شائع کرونگا

طوطا کہانی کی اصطلاح تو اکثر آپ نے سنی ہو گی لیکن بہت کم احباب کو علم ہو گا کہ اب تو خود طوطا بھی اپنی داستان کو طوطا کہانی کہتا ہے۔ لیکن میں اسوقت جس بہت سنجیدہ اور قابل توجہ موضوع پر لکھ رہا ہوں وہ طوطا مینا کی کہانی ہر گز نہیں بلکہ سو فیصد سچ ہے۔ ایسا تلخ اور ظالم سچ کہ اسکی سزا کچھ بھی ہو سکتی ہے

واقعہ یوں ہے کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جب لندن سے پاکستان روانہ ھو رہے تھے تو وزیر اعلی پنجاب لندن میں ہوتے ہوئے بھی ساتھ موجود نہیں تھے اور وہ چند قدم دور چرچل ہوٹل میں اپنے مقرب خاص افضال بھٹی کے ساتھ موجود تھے اور کافی نوش فرما رہے تھے ۔افضال بھٹی کی ذمیداریاں کیا ہیں اور اسکے ذمے کونسے اہم اور مخصوص کام ہوتے ہیں انکا ذکر شاید زلزلہ پیدا کر دے لیکن ایک دو نہیں متعدد افراد افضال بھٹی اور اسکے کاموں اور شہباز شریف کے لیئے اسکی خدمات سے واقف ہیں

چرچل ہوٹل میں بھی شہباز شریف اور افضال بھٹی کے ہمراہ تیسرا فرد کون تھا یہ بظاہر کوئی راز نہیں کیونکہ کچھ لوگوں کے پاس تینوں افراد کی تصاویر بھی موجود ہیں لیکن شاید اس موقع پر تیسرے فرد کو افشا نہ کرنا ہی مناسب ہے حالانکہ یہ طے ہے کہ افراد تین ہی تھے

چرچل ہوٹل میں اسی دوران وزیر اعلی ہنجاب کو کسی کی جانب سے مسلسل 4 مرتبہ فون کیا گیا لیکن وزیر اعلی پنجاب نے کال موصول نہیں کی .

جب بیگم کلثوم نواز کو ہارلے سٹریٹ کلینک لیجایا گیا اس وقت وزیر اعلی پنجاب پاکستان ہائی کمیشن لندن میں موجود تھے جب وہ وہاں سے فارغ ہوے تب بھی شریف خاندان بیگم کلثوم نواز کے ہمراہ ہارلے سٹریٹ کلینک میں موجود تھا تاہم وزیر اعلی پنجاب بیگم کلثوم نواز کی تیمار داری کے لیے وہاں نہیں گئے

اب یہ کون بتائے گا کہ یہ آپسی اختلافات ہیں یا لندن میں وزیر اعلی کی مصروفیت

اس بات کی وضاحت شریف خاندان کا کوئی فرد ہی دے سکتا ہے کیوں کہ جب نیب میں پہلی پیشی کے لیے سابق وزیر اعظم پاکستان روانہ ھو رہے تھے اس وقت بھی وزیر اعلی لندن میں موجود تھے اور جب روانگی سے قبل میاں نواز شریف میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے تو وزیر اعلی ان کے ساتھ کھڑے تھے اور بڑے بھائی کو گلے لگا کر رخصت کیا تھا

اسی لیئے اب محاورہ بھی بدل گیا ہے اور نئے صورت حال میں نیا محاورہ ہے

اسپغول تے سب کُج کھول

سید کوثر کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY