نو جولائی ،رضا ھمدانی کی برسی۔صفدر ھمدانی

0
1766

یوں خیال آتے ہی ہر سانس میں محسوس ہوا
غم محبوب تری عمر بڑی ہو جیسے
نو جولائی رضا ھمدانی کی برسی ہے

رضا ہمدانی

پیدائش 25 دسمبر 1910
پشاور

وفات. 9 جولائی 1994 ‎
پشاور

رضا ھمدانی ادب کے اُس خاندان کی ایک مضبوط کڑی ہیں جس میں مصطفی علی ھمدانی، فارغ بخاری، قمر علی سرحدی اور مختار علی نیئر جیسی نابغہ روزگار شخصیات شامل ہیں۔ میرے وہ بڑے ماموں تھے انکے چھوٹے بھائی محمد حسین ھمدانی جنہیں ہم چھوٹے ماموں کہتے تھے پشاور میں استاد تھے۔ فارغ بخاری رشتے میں رضا ھمدانی کے بہنوئی بھی تھے جنکی اہلیہ رقیہ بیگم رضا کی بہن تھی، انکی دیگر بہنوں میں میری والدہ ذکیہ خانم زوجہ مصطفی علی ھمدانی،بادشاہ بیگم زوجہ حکیم افتخار ھمدانی،اور صفیہ بیگم زوجہ قمر علی سرحدی تھیں۔ قمر علی سرحدی صوبہ سرحد میں آغا حشر کے ساتھ اسٹیج کے بانی تھے۔

کے پی کے اسوقت کے صوبہ سرحد میں رضا اور فارغ نے اردو کی ترقی و ترویج کے لیئے بے پناہ کام کیا جن میں اہم تراجم بھی شامل ہیں، ادب میں فارغ رضا کی جوڑی ایک منفرد گوڑی تھی اور انکے یک جان دو قالب ہونے کی ایک یہ دلیل بھی اہم ہے کہ دونوں اپنا نام بھی فارغرضا لکھتے تھے

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خاندان کی مذکورہ یہ تمام شخصیات دارالفنا سے دارالبقا جا چکی ہیں۔ پروردگار مغفرت فرمائے

رضا ھمدانی کی شعری اور تخلیقی زبانیں

اردو، فارسی، ہندکو، پشتو

 رضا حسین نام اور رضا تخلص تھا۔ شاعر اور ادیب۔ پشاور میں پیدا ہوئے اور وہیں میٹرک، منشی اور پشتو فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ اردو اور فارسی میں شعر کہے۔ بزم سخن پشاور، ادبستان پشاور کے ناظم رہے۔ اور انجمن ترقی اردوسرحد کے سیکرٹری بھی رہے۔1938ء میں ماہنامہ ندا 1939ء میں ہفتہ وار شباب پشاور سے اور 1940ء میں ہفتہ وار اخبار شباب لاہور سے نکالا۔ تصانیف میں مراۃ الاسلام، جمال الدین افغانی، خوشحال خان کے افکار، رحمان بابا کے افکار، ادیبات سرحد وغیرہ۔ افسانے، ڈرامے اور تنقیدی مضامین بھی لکھتے ہیں۔ اصنافِ سخن میں غزل ،نظم ،رباعی، قطعہ سب ہی میں طبع آزمائی کی ہے۔ پشتو ادب کو اردو دان دنیا سے متعارف کرانے میں بھی انہیں اولیت حاصل رہی۔ پشاور میں وفات پائی۔

رضا ھمدانی کو پہلا ایوارڈ 1977 میں یونیسکو کی جاپانی شاخ کی طرف سے انکی کہانیوں کے مجموعے “الول بلول” پر ملا۔ جبکہ انکی زندگی کا آخری ایوارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے “تمغہء حسن کارکردگی ” تھا۔
اس دوران انہیں انکی ادبی خدمات پر ان گنت ایوارڈوں سے نوازا گیا جن میں انکی تصانیف “رحمن بابا” پر پاکستان رائٹرز گلڈ ایوارڈ ‘
“سائیں احمد علی پشوری” پر اباسین آرٹس کونسل ایوارڈ ‘ آدم جی ‘ حبیب بینک ‘ ایران کلچرل سنٹر اور ھمدرد فاونڈیشن ایوارڈز شامل ھیں۔
مرحوم کو بیک وقت اردو’ پشتو’ ھندکو’ فارسی اور عربی زبانوں پر ملکہ حاصل تھا۔ شاعر’ ادیب’ محقق اور صحافت کے شعبے میں ایک مستند کالم نویس ھونے کے علاوہ بہت کم لوگوں کو علم ھے کہ وہ حافظ_ قرآن بھی تھے۔

نمونہ کلام فارسی
از پرتو رخسارش هر ذره مينا مست

وز تابش گيسويش روح يد بيضا مست
ناگاه بباغ آمد آن سرو تمنا مست

هر خار گلستان شد چو نرگس شهلا مست

اردو ٖغزلیں

حسن پابند حنا ہو جیسے

یہ وفاؤں کا صلہ ہو جیسے

یوں وہ کرتے ہیں کنارا مجھ سے

اس میں میرا ہی بھلا ہو جیسے

طعنہ دیتے ہیں مجھے جینے کا

زندگی میری خطا ہو جیسے

اس طرح آنکھ سے ٹپکا ہے لہو

شاخ سے پھول گرا ہو جیسے

سر کہسار وہ بادل گرجا

دل دھڑکنے کی صدا ہو جیسے

حال دل پوچھتے ہو یوں مجھ سے

تم مرے دل سے جدا ہو جیسے

یاد یوں آئی تری رک رک کر

کوئی زنجیر بہ پا ہو جیسے

اب جفا کو بھی ترستے ہیں رضاؔ

یہی تاثیر دعا ہو جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشک یوں بہتے ہیں ساون کی جھڑی ہو جیسے

یا کہیں پہلے پہل آنکھ لڑی ہو جیسے

کتنی یادوں نے ستایا ہے مری یاد کے ساتھ

غم دوراں غم جاناں کی کڑی ہو جیسے

بوئے کاکل کی طرح پھیل گیا شب کا سکوت

تیری آمد بھی قیامت کی گھڑی ہو جیسے

یوں نظر آتے ہیں اخلاص میں ڈوبے ہوئے دوست

دشمنوں پر کوئی افتاد پڑی ہو جیسے

جلوۂ دار ادھر جنت دیدار ادھر

زندگی آج دوراہے پہ کھڑی ہو جیسے

یوں خیال آتے ہی ہر سانس میں محسوس ہوا

غم محبوب تری عمر بڑی ہو جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس مقام پہ ٹھہرا ہے کاروان وفا

نہ روشنی کی کرن ہے کہیں نہ تازہ ہوا

ہوئی ہے جب سے یہاں نطق و لب کی بخیہ گری

سوائے حسرت اظہار دل میں کچھ نہ رہا

اس اہتمام سے شب خوں پڑا کہ مدت سے

اجاڑ سی نظر آتی ہے شہر دل کی فضا

تمام عمر اسی کی تلاش میں گزری

وہ ایک عکس جو آئینۂ نظر میں نہ تھا

یہ کس نے آج دبے پاؤں دل میں آتے ہی

خیال و فکر کا قفل سکوت توڑ دیا

کچھ اس طرح سے تری یاد کی مہک آئی

کہ جیسے دامن صحرا میں کوئی پھول کھلا

شکست دل پہ رضاؔ ہم بھی ٹوٹ کر روئے

مگر نہ اتنے کہ سو ہی سکے نہ ہم سایا

خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را

صفدر ھمٰدانی

 

SHARE

LEAVE A REPLY