نینا اشرف عاصمی منفرد انداز کی مصورہ ٭گوہر تاج

1
1848

نینا اشرف عاصمی
منفرد انداز کی مصورہ
٭٭٭٭٭
گوہر تاج
مشی گن ، (ڈیٹرائیٹ) امریکہ

یہ سال تھا 1991 کا اور جولائ 24 سے 3 اگست تک کا دور،رنگوں والا کمیونٹی سنٹر کراچی کی آرٹ گیلری میں نئے ابھرتے ہوئے چار مصوروں کی مصوری کی نمائش منعقد ہوئی ۔ جس میں سب سے کم عمر، خداداد صلاحیتوں کی مالک نینا اشرف تھیں ۔اس نمائش میں ان کے کل 16 فن پارے شامل تھے ۔ دو منی ایچر، تین آئل پینٹنگ اور نقاشی کے گیارہ مزید نمونے ۔ غیر روایتی انداز میں بنائے ان جدید فن پاروں کی شگفتگی اور تازگی نے فن کے مداحوں کو چونکنے پہ مجبور کر دیا ۔
اس وقت کے مشہور ناقدِ فن انور عنایت اللہ نے انگریزی کے جریدے میں میں نینا اشرف میں نئی جہتوں کے امکانات اور فنی انفرادیت کو سراہتے ہوئے لکھا ۔
” نینا کے فن میں موضوع اور رنگوں کے امتزاج کے حوالے سے تنوع، گہرائی اور پختگی ہے۔ ” اپنے مضمون میں انہوں نے نینا کے کامیاب فنی مستقبل کی توقع کا اظہار بھی کیا ۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت کی کمسن مصورہ نے امریکہ ہجرت کے بعد بھی سنجیدگی سے فنِ مصوری کا سفر جاری رکھا ۔پاکستان میں کئی کامیاب گروپ اور سولو نمائشوں کے بعد امریکہ میں بھی اپنے فن پاروں کو شہری اور ریاستی سطح پہ ہونے والی نمائشوں میں پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔
خوبصورت اور سلجھے ہوئے انداز میں گفتگو کرنے والی حساس مصورہ نے کراچی کے ایک فن پرور گھرانے میں آنکھ کھولی ۔ ان کے والد بصیر اشرف تخلیقی ذہن رکھنے والے مصور اور مشہور اشتہاری کمپنی ” ابلاغ ” کے سربراہ تھے جبکہ والدہ صبیحہ اشرف
کا تعلق انگریزی کے اخبار اور رسائل سے رہا کہ جن میں وہ آرٹ پہ تنقیدی مضامین لکھا کرتی تھیں ۔ نینا نے بتایا، ” میں نے بچپن سے اپنے آپ کو آرٹ میں گھرا دیکھا ۔ ہمارا گھر ایک آرٹسٹ گیلری کے مانند تھا ۔ کہ جہاں برصغیر کے مشہور فنکاروں مثلاً ایم ایف حسین اور جمیل نقش کے فن پارے سجے ہوئے تھے ۔ ”
نینا کی مصوری کا باقاعدہ آغاز ان کی دسویں سالگرہ پہ ہوا کہ جب ان کے ابا کے مصور دوست نے آئل پینٹ کاسٹ، ٹرپنٹائن اور دو عدد کینوس تحفتاً دیے ۔ نینا نے آرٹ کی باقاعدہ سند تو حاصل نہیں کی لیکن پاکستان میں پی اے سی سی، گوئٹے انسٹی ٹیوٹ اور امریکہ کے مختلف اداروں سے آرٹ کی باریکیوں کے حوالے سے کئی تربیتی کورسز کیے ۔

مصوری کیوں پسند ہے؟ ” کے جواب میں نینا نے کہا ” مصوری کے عمل میں وقت کے کھونے کا احساس، آرٹ اور مصوری کے درمیان واضح حدود کا دھندلا پن، تخلیقی عمل کی مسرت، رنگوں اور لکیروں کے مابین کشمکش سے کچھ پانے کے احساس کی وجہ سے مجھے مصوری بہت پسند ہے ۔”
نینا نے اپنے فن کے اظہار کے لئے بنیادی طور پر آئل پینٹ، واٹر کلر اور ایکریلکس کا انتخاب کیا ہے لیکن وہ کسی ایک میڈیا یا ذریعہ میں اپنے فن کو قید کرنے سے گریز کرتی ہیں ۔
نینا کو روغنی رنگ (آئل پینٹ) اس کی شاندار چمک اور ابھار کی خوبی کے سبب پسند ہے تو واٹر کلر کی خوبی اس کے بہاؤ اور بے ساختگی میں ہے جس میں تازگی کا احساس ہے ۔آبی رنگوں کے بہاؤ کو آپ آسانی سے قید نہیں کر سکتے اور یوں پتہ نہیں کیا شے آپ کے سامنے بن کر آ جائے ۔ غرض مجھے اس میں درپیش چیلنجز، مضامین اور اظہار کی آماجگاہ سے بہت لطف آتا ہے ۔ نینا نے ہنستے ہوئے اظہار کیا ۔
یوں تو نینا کی مصوری کے مختلف موضوعات ہیں لیکن ایک موضوع جو واضح ہے وہ سندھ کی بستیوں میں رہنے والوں کی زندگی کی بھرپور عکاسی ہے ۔کراچی سندھ میں پیدا ہونے والی نینا نے کہا ” کراچی کے نواحی علاقوں میں رہنے والی دیہاتی عورتوں کے لباس کے رنگ اور ان کے پس منظر میں خشک، بنجر زمین کے مٹیالے رنگ کے امتزاج نے ہمیشہ ہی مجھے مسحور کیا ۔ انہوں نے دردمندی سے کہا ۔ ” میں نے نو عمری سے ہی دیہات کی زندگی کی پسماندگی اور غربت کے اثرات کو انسانی رنگوں پہ مرتب ہوتے دیکھا ہے ۔ میں ان افراد کے دکھوں کو محسوس کر کے اپنے فن میں سمونا چاہتی ہوں ۔ میں محض خوبصورت تصاویر ہی تخلیق کرنا ضروری نہیں سمجھتی بلکہ میرا فن اس کے سوا بھی اظہار کی صورت ہے ۔ میں یہ ضروری نہیں سمجھتی کہ کسی شے کی ہوبہو نقل کر دوں بلکہ میرا فن اس تصویر کے عکس کے آگے جمال کی کھوج ہے ۔ ” ان کے فن میں زندگی کے تمام تر دکھوں کے باوجود بھی پیلے، لال اور تاریخی رنگوں سے سورج کی تمازت اور توانائی کا بھرپور احساس ملتا ہے ۔ جو یقیناً خوشگوار مسقتبل کی نوید ہے ۔
مصوری کے شوق کے علاوہ نینا کا شوق فوٹو گرافی بھی ہے ۔ جس میں اس کا خاص موضوع ماں اور اولاد کا رشتہ ہے ۔ وہ خوبصورت اور منفرد پورٹریٹ بنانے میں کمال رکھتی ہیں ۔ نینا نے اس شعبے میں بے شمار انعامات حاصل کرنے کے علاوہ سولو نمائش کا انعقاد بھی کیا ۔ اسی طرح رنگوں اور برش کی مدد سے فنی اظہار کے ساتھ ساتھ کیمرے کی آنکھ سے دنیا کے مشاہدے کو تصویری قلب میں ڈھالنے کا عمل بھی نینا کو بہت اچھا لگتا ہے ۔ پوز بنے پورٹریٹ کی بجائے وہ لمحات کی بے ساختگی کو ترجیح دیتی ہیں اور یہی ان کا کمال ہے ۔
جنرل آف دی فوٹو گرافک سوسائٹی آف پاکستان میں نینا نے اپنے فن کے متعلق لکھا ہے ۔ ” فوٹو گرافی نے مجھے لوگوں اور اشیا کے حوالے سے سوچ کی نئی جہت عطا کی ہے ۔ اب میں وہ جذبات میں دیکھنے لگی ہوں جو عموماً نظر انداز کر دیتی تھی ۔
انسانی زندگی کے دکھوں اور ان کے جذبات کو اپنے برش اور رنگوں کی مدد سے مصوری کے قالب میں ڈھالنے والی نینا کے فن پاروں کا انتخاب امریکہ سے شائع ہونے والے مشہور فنی جریدے “اسٹرک آف جینئیس ” نے اپنے شمارے میں کیا ۔یہ جریدہ دنیا کے بہترین فن پاروں کا انتخاب شائع کرتا ہے ۔

نینا نے اپنے کام پہ کئی ایوارڈز حاصل کیئے جن کی فہرست طویل ہے ۔ چند چیدہ چیدہ ایوارڈز جو انہیں 2012 اور 2019 کے دوران دیے گئے ۔ حسبِ ذیل ہیں ۔

۔مارچ 2019 میں ڈی ایس ڈبلیو پی ایس ویلج فائن آرٹس ایسوسی ایشن ملفرڈ سٹی کا پہلا انعام
۔میڈونا یونیورسٹی میں 2018 میں منعقد ہونے والے شو میں بیسٹ آف شو کا پہلا انعام
۔ 2016 میں ایوا ہرگس ایوارڈ تجریدی آرٹ کا پہلا انعام
۔ 2015 میں ڈیٹرائٹ سوسائٹی آف ویمن پینٹرز اینڈ اسکلپچر میں پہلا انعام
۔ 2012 میں برمنگھم مشی گن نمائش میں گولڈ میڈل
۔ 2011 میں ایوا برگس ایوارڈ (تجریدی پینٹنگ ) ۔

ہمیں امید ہے کہ نینا اشرف عاصمی کا فنی سفر پوری تابناکی کے ساتھ جاری و ساری رہے گا کيونکہ اس میں انسان دکھوں کے رنگ ، امید کی خوبصورت کرنیں اور اظہار کی بھرپور سچائی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ : نینا دو بچوں نتاشا اور دانیال کی ماں اور عسکر عاصمی کی اہلیہ ہیں ۔ جوطبی معالج ہیں ۔ نینا کے فن کے حوالے سے ان کے انسٹو گرام پہ رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY