اقوام متحدہ اور بین الاقوامی صحافیوں کو کشمیر جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ

0
611

امریکی کانگریس کی ’ٹام لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن‘ میں کشمیر پر سماعت کے دوران بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گرفتار افراد کی فوری رہائی، غیر ملکی صحافیوں اور ماہرین قانون کو علاقے تک رسائی دینے اور خطے میں پانچ اگست سے جاری رابطے کے تمام ذرائع کی بندش کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ڈھائی گھنٹے تک جاری رہنے والی اس سماعت میں ، انسانی حقوق کے سات علمبرداروں، قانون دانوں اور دانشوروں نے اپنی شہادتیں پیش کیں۔ جمعرات کو ہونے والی یہ خصوصی سماعت امریکہ میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں ، دانشوروں اور یونیورسٹی پروفیسروں کی کوششوں سے منعقد کی گئی تھی۔ سماعت کو سننے کے لئے امریکی کانگریس کے ارکان ڈیوڈ ٹرون، ڈیوڈ سیسی لائین ، شیلا جیکسن لی، برائن کے فٹز پیٹرک، پرامیلا جیا پال، اور کرس سمتھ موجود تھے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی کشمیری نژاد امریکن قانون دان، شہلا اساہی نے اراکین کانگریس کو بتایا کہ ان کا خاندان کشمیر کا دیرینہ سیاسی گھرانہ ہے، جس کے کئی افراد ان دنوں جیل میں ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ’’ان افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ وہ اس امید کے ساتھ کمیشن میں پیش ہوئی ہیں کہ ’’ان کے خاندان اور ان جیسے دیگر ہزاروں لوگوں پر مظالم کا سلسلہ بند کیا جائے گا‘‘۔

شہلا اساہی نے کہا کہ امریکی کانگریس کی اس سماعت کی خبر جب کشمیر جانے والوں کے ذریعے انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا کر تےکشمیریوں تک پہنچے گی تو انہیں محسوس ہوگا کہ ‘ابھی امید ختم نہیں ہوئی’۔

انسانی حقوق کے وکیل اور واشنگٹن کی جارج ٹاون یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر ارجن سیٹھی نے سماعت کے دوران ہندو قوم پرستی کو ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا، جو بھارت کی دیگر مذہبی اقیتوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر کا نام لینے والوں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کا کوئی خفیہ ایجنڈا ہے۔ یہ وہ قیمت ہے، جو ہر وہ آدمی ادا کر رہا ہے،جو مودی حکومت امیت شاہ، بی جے پی ، آر ایس ایس کے سامنے سچائی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔آج کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوجی ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ کشمیریوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے، ان کے پاس علاج معالجے کی سہولت نہیں، وہ آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے، بھارت نے ان کا انٹرنیٹ بلیک آوٹ کر رکھا ہے۔ اگر بھارت اور اس ایوان میں موجود میرے ساتھی سچ بول رہے ہیں، تو کیوں نہیں غیر ملکی قانون سازوں ، یورپ کے غیر جانبدار مبصرین اور انسانی حقوق کے وکلاٗ کو کشمیر جانے دیا جارہا،کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے سچائی جانچ سکیں ۔ وجہ یہی ہے کہ انڈیا نہ صرف کشمیر میں بلکہ آسام میں بھی اپنی زیادتیاں اور نفرت پر مبنی تشدد چھپانا چاہتا ہے’۔

یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل ریلیجئیس فریڈم کی کمشنر انو رما بھارگوو نے کشمیر کے مسئلے کو بھارت میں آسام کے مسئلے سے جوڑ کر پیش کیا، جہاں بنگال سے آکر آباد ہونے والے بیس لاکھ سے زائد ہندو اور مسلمانوں کے بھارتی شہریت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔

پانچ اگست کے اقدام کے بعد، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گرفتار ایک نوجوان مبین شاہ کی کزن اور انسانی حقوق کی وکیل یسرا فاضلی نے بتایا کہ مبین شاہ کو ’پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت قید کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا کزن جیل میں ہے، اور بقول ان کے ’’پورے علاقے کو جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘‘۔

بھارتی امریکی کالم نگار اور کشمیری پنڈت سنندا ویششت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کشمیر میں انسانی حقوق کی بحالی کے مترادف قرار دیا۔ اور کشمیر سے بے گھر ہونے والے ہندو پنڈتوں کا کیس امریکی اراکین کانگریس کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘کشمیر میں گھر اور زندگیاں ‘ریڈیکل اسلامک ٹیررزم’ یا انتہاپسندی پر مبنی اسلامک دہشت گردی نے تباہ کر دیں’ ۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم نے کشمیر میں تیس سال پہلے ،جب مغرب ابھی انتہا پسند اسلام کے تصور سے متعارف بھی نہیں ہوا تھا،اُس درجے کی سفاکی دیکھی ہے،جسے آج داعش سے مخصوص کیا جاتا ہے، ۔ ہمیں خوشی ہے کہ یہ سماعت ہو رہی ہے۔ کیونکہ جب میرے خاندان نے اپنا گھر ، اپناذریعہ معاش اور اپنا طرز زندگی کھویا، اس وقت دنیا نے مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی تھی’۔

SHARE

LEAVE A REPLY