یورپین شہری ہر سال 30 ارب یورو کی منشیات استعمال کرتے ہیں۔ یہ معلومات آج برسلز میں ای یو مانیٹرنگ سینٹر فار ڈرگز اینڈ ڈرگز ایڈکشن اور یورپین پولیس کے ادارے یوروپول کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ  میں بتائی گئی۔

اس رپورٹ میں منشیات کی تیاری، یورپ میں اس کی اسمگلنگ، تقسیم اور فروخت پر مشتمل ساری سپلائی چین کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینابیز Cannabis (جسے اردو میں بھنگ کہا جاتا ہے) یورپ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی منشیات ہے۔

اسے 15سے 64 سال کے 25 ملین شہری استعمال کر رہے ہیں اور جس کی ریٹیل مارکیٹ میں مالیت 11.6 ارب یورو سے زائد بنتی ہے، اسی طرح دوسرے نمبر پر 9.1 ارب یورو مالیت کی کوکین استعمال کی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق 40 لاکھ یورپین شہریوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے گذشتہ سال منشیات کا استعمال کیا۔

رپورٹ کے اجراء کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپین کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن دیمتری اوراموپولس نے کہا کہ یورپ میں منشیات کی اس پیمانے پر فروخت منظم جرائم پیشہ گروہوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

جس کی بین الاقوامی رسد کے لیے وہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع نقل و حمل اختیار کر رہے ہیں۔ اسی طرح یورپین شہریوں کے لیے منشیات تک رسائی بھی پہلے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کے لیے وہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ناجائز منشیات کی منڈی ہمارے شہریوں کی صحت اور ان کے تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اور اس رپورٹ میں جسطرح تمام صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اس کے ذریعے (Gang Violence) یعنی اجتماعی تشدد، منشیات سے جڑے قتل، دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے یورپین معاشرے کے عوامی اور معاشی اداروں پر موجود دباؤ کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس رپورٹ کے تناظر میں منشیات کی کمائی کی منی لانڈرنگ کے ذریعے حقیقی تجارت کرنے والوں کی مشکلات بھی آشکار ہو رہی ہیں۔

پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے MCDDA کے ڈائریکٹر الیکسس گوزڈیل نے کہا کہ یہ رپورٹ پالیسی میکرز کیلئے واضح اشارہ ہے کہ وہ یورپ میں ناجائز منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار کے خلاف جلد اقدامات کریں جو یورپ میں منشیات سے جڑے تشدد اور بدعنوانی کا بڑا ذریعہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY