نیپرا حکام نے کراچی میں لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دے دیا ۔

ممبر نیپرا سیف اللہ چٹھہ نے قائمہ کمیٹی کابینہ کو بتایا کہ حکومت کو سفارش کی ہے کہ کے الیکٹرک کو گیس بھی دیں اور اس کے خلاف کارروائی بھی کریں، کے الیکٹرک کا 180 میگاواٹ کا پلانٹ پانچ ماہ سے بند ہے ،اگر سارے پلانٹ چلا دیئے جائیں تو 2900 میگا واٹ بجلی بن جائے گی جو اس وقت صرف 1100 میگاواٹ ہے ۔

اسد عمر نے کہا کہ کراچی کو اٹھاکر جی ٹی روڈ منتقل کردیں تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔

ممبر نیپرا سیف اللہ چٹھہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کی ذمہ دار کے الیکٹرک اور اس کی نااہلی ہے، کے الیکٹرک اس وقت صرف 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہی ہے، 650 میگاواٹ بجلی وفاق سے لی جا رہی ہے، 600 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، عوام کو 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، انڈسٹری میں بھی 6 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، کے الیکٹرک کو ایک سال میں 60 لاکھ تک کا جرمانہ کیا گیا ہے، نیپرا کے الیکٹرک کو 10 کروڑ تک جرمانہ کر سکتی ہے، کے الیکٹرک ماہانہ صارفین سے 10 ارب روپے وصول کرتی ہے۔

انہوں کہا کہ نیپرا نے حکومت کو سفارش کی ہے کہ کے الیکٹرک کوگیس بھی فراہم کریں اور اس کے خلاف کارروائی بھی کریں، ممبر نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک کا سوئی سدرن گیس کے ساتھ 220 ایم ایم سی ایف ڈی کا معاہدہ نہیں صرف بات ہوئی تھی، سوئی سدرن کے الیکٹرک کو 190 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دیتی رہی ہے، اس وقت 90 ایم ایم سی ایف ڈی گیس شارٹ فال ہے، کے الیکٹرک کو 100 ایم ایم سی ایف ڈی ملنی چاہیے، گیس سے 5 اور فرنس آئل سے 12 روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، کے الیکٹرک صرف ابراج کی ملکیت نہیں، 26 فیصد حکومت پاکستان کے شیئر بھی ہیں۔

کمیٹی چیئرمین رانا حیات نے کہا کہ صارفین سے 10 ارب روپے وصول کرنے والی کے الیکٹرک کو 60 لاکھ روپے جرمانہ کرنا مذاق کے مترادف ہے۔

کمیٹی رکن اسد عمر نے کہا کہ کراچی کو اٹھاکر جی ٹی روڈ منتقل کردیں تو سارے مسائل حل ہوجائیں گے، اگر علی رضا عابدی عوام کو جی ٹی روڈ پر لے آئیں تو بھی مسئلہ حل ہو جائے گا، کے الیکٹرک کو فوری طور پہ گیس فراہم کی جائے جبکہ اضافی لوڈ شیڈنگ کرنے پر مزید جرمانہ عائد کیا جائے، خواجہ آصف نے فلور پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ کراچی ہمارا مسئلہ نہیں ہے، نیپرا نے بھی خواجہ آصف کی طرح تہیہ کر رکھا ہے کہ کراچی ان کا مسئلہ نہیں ہے، پنجاب میں آر ایل این جی جا رہی ہے لیکن کے الیکٹرک کو کیوں نہیں مل رہی۔

SHARE

LEAVE A REPLY