حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تیسرا نوٹیفکیشن تیار کرلیا

0
625

وزیراعظم عمران خان، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور کابینہ کے سینئر اراکین آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سالہ کی توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش آنے والی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی توسیع کے لیے جاری کردہ دونوں نوٹفکیشن میں جو بھی اعتراض اٹھائے گئے شرکا نے ان سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے تیسرے نوٹفکیشن کا مسودہ تیار کرلیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بلوائے گئے ہنگامی اجلاس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ممکنہ فیصلے کے فوائد و نقصانات پر غور کیا گیا۔

اس سلسلے میں سابق وزیر قانون فروغ نسیم، اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وزیراعظم کے قانونی مشیر بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں بدھ کے روز ہونے والی 7 گھنٹے طویل سماعت کے تینوں سیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔

تاہم اس اجلاس میں اؔٓرمی چیف کی موجودگی غیر معمولی طور پر اہم تھی کیوں کہ عموماً وہ حکومتی اداروں کے اس قسم کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیا نوٹفکیشن مسودہ کابینہ کے اراکین سے منظور کروا کر ان کے دستخط لیے جائیں گے۔

اس کے ساتھ وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے 19 اگست اور 26 نومبر کو جاری کردہ گزشتہ دونوں نوٹفکیشنز میں موجود خامیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

اجلاس کے حوالے سے یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ وزیراعظم نے ایک نہیں دونوں مرتبہ غلطیوں سے بھرپور نوٹیفکیشن تیار کرنے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا بھی فیصلہ کیا ہے جس کے نتیجے میں وزیراعظم ہاؤس اور وزارت قانون کے کچھ سینئر عہدیداران کا تبادلہ متوقع ہے۔

…………………….

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے نیا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم مشاروتی اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے دوران قانونی ٹیم سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کرنے سے متعلق بریفنگ لی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے اعتراضات پر شق وار بریفنگ دی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اٹھائے گئے سوالات پر غور کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے اعتراضات کی روشنی میں نیا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نئے مسودے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ مسودہ تیار کرنے کے لیے معروف قانونی ماہرین کی خدمات لی گئیں جبکہ گزشتہ سمری پر اٹھائے گئے اعتراضات پر آرمی چیف سے بھی مشاورت کی گئی۔

وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے سمری ارکان کابینہ کو سرکولیٹ کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

رواں برس 19 اگست کو وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف مزید 3 سال کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

بعد ازاں ریاض حنیف راہی کی جانب سے اس نوٹیفکیشن کی معطلی سے متعلق درخواست سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی۔

26 نومبر کو سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے جب درخواست واپس لینے کی درخواست جمع کروائی گئی تو چیف جسٹس نے اسے 184(3) کے تحت ازخود نوٹس میں تبدیل کردیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے مذکورہ ازخود نوٹس پر سماعت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر مشاورت کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔

ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے سینئر اراکین اور لیگل ٹیم کو طلب کیا تھا، آرمی چیف اجلاس میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر وزیراعظم ہاؤس پہنچے تھے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس اہم اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ کی آج کی سماعت پر مشاورت کی جا رہی ہے۔

قانونی ٹیم وزیراعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ اراکین کو سماعت سے متعلق بریفنگ دے گی جبکہ عدالتی اعتراضات پر مشاورت کی جائے گی۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے سینئر وزرا نے ملاقات کی جس میں موجودہ ملکی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا حکومت پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صورتحال دیکھ کر کی۔

دوسری جانب فروغ نسیم نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں انھیں سپریم کورٹ میں ہونے والے سماعت سے متعلق آگاہ کیا، ملاقات میں اٹارنی جنرل انور منصور بھی موجود تھے۔

یاد رہے کہ فروغ نسیم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سپریم کورٹ میں کیس کی پیروی کرنے کیلئے گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY