اندرون ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر گزشتہ تین دن سے جو ایک ذہنی ہیجان اور اضطراب طاری تھا۔ خدا خدا کر کے آج اٹھایئس نومبر دو ہزار انیس کو پاکستانی وقت کے مطابق تین بج کر پچاس منٹ پر اس امید کے ساتھ ختم ہوا کہ عمران خان کی موجودہ حکومت اتنی ندامت کے بعد کم از کم اب ہوش کے ناخن لے گی اور اس حکومت کے کپتان ایک مرتبہ اپنی چارپائی کے نیچے جھاڑو پھیریں گے اور اپنے ارد گرد موجود سیاسی جاہل مشیروں اور وزیروں کو واپس ان کی اوقات پر لاتے ہوئے ان کی مشترکہ الوداعی تقریب کریں گے اور ملک میں موجود صآحبان فکرو فہم اور اپنے شعبوں کے ماہرین کو حکومت میں شامل کر کے کسی حد تک اس ندامت ک ااذالہ کیا جائے گا جو صرف ملکی سطح پر ہی نہیں بلکلہ عالمی سطح پر بھی برداشت کرنی پڑی ہیں ۔
یہ معاملہ بری فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا تھا جسے چیف جسٹس کھوسہ کے بقول پنگ پونگ بنا دیاگیا۔ سب سے پہلے تو ملکی قوانین اور اصولوں سے نا آشنا وزیر اعظم نے ایک کاغذ پر خود ہی جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی ۔ جب توجہ قوانین کی جانب دلوائی گئی کہ اس کی منظوری صدر پاکستان دیں گے اور آپ صرف نام تجویز کریں گے تو وزیر اعظم نے ایک مختصر سی سمری اسی موضوع پر بنا کر صدر کو بھیجی اور صدر نے اگلے ہی لمحے اسے پڑھے بغیر ایک فرمانبردار صدر کا ثبوت دیتے ہوئے اس پر دستخط کر دیئے ۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ صدر نے یہ بھی نہیں پڑھا کہ وہ جس کاغذ پر دستخط کر رہے ہیں وہ مدت ملازمت کی توسیع کا ہے یا کسی نئے ملازمت کی تعنیاتی کا ہے ۔ ہائے کیسے کہوں کہ وطن عزیز سے چودھری فضل؛ الہی مرحوم کی صدارت کی تشبیح ختم ہی نہیں ہو رہی کہ اسلامی کانفرنس کے زمانے میں جب انہیں پروٹوکول والوں نے یہ کہا کہ آپ صدر مملکت ہیں وزیر اعظم سے آگے چلیئے تو انہوں نے پروٹوکول آفیسر کو نہایت معصومیت سے کہا “ دیکھو کہیں مروا نہ دینا“ ۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ دانتوں کے ماہر ڈاکٹر موجودہ صدر مملکت عارف علوی کو اگر کسی نے اس سقم کی طرف توجہ دلوائی بھی ہو گی تو انہوں نے کہا ہوگا “ دیکھو یار مروا نہ دینا“ ۔ دکھ بھی ہوتا ہے اور افسوس بھی کہ مملکت کا سربراہ صدر اس ملک میں کیسا بے وقعت عہدہ ہے کہ سال میں تین سرکاری تقریبات پر پرچم لہراتا ہے اور فوج کی پریڈ کی سلامی لیتا ہے ۔
جنرل باجوہ کی مدت ملاذمت کی توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ میں تین دن سے ہونے والی بحث کے دوران حکومت کی نا اہلی در نا اہلی بار بار کھل کر سامنے آتی رہی ۔ ملک کے اٹارنی جرنل ماشاللہ خؤد بھی فوج سے ریٹائرڈ کپتان ہیں لیکن تین رکنی سپریم کورٹ بنچ کے سامنے ہر لمحے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس کپتان نے لڑے بغیر ہی ہتھیار پھینک دیئے ہوں ۔ میری نظر میں اس سارے شاخسانے کا دوسرا مجرم ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والا جنرل مشرف کا وزیر قانون اور اب عمران خان کا چند روز پہلے تک رہنے والا وزیر قانون اور اب جنرل باجوہ کا وکیل “ فروغ نسیم “ ہے جس نے کسی اور چیز کو فروغ دیا ہو یا نہ دیا ہو حکومت کے لئے ندامت اور شرمندگی کو خوب فروغ دیا ہے ۔ موصوف وزارت سے دو دن پہلے استعفی دے کے جنرل باجوہ کی وکالت کے لئے جب سپریم کورٹ پہنچے تو اس وقت ان کاوکالت کا لائینسس معطل تھا۔ اس لیئے عدالت نے انہیں جنرل کی نمایئندگی سے منع کر دیا۔ عمران خان کے پاس ایسے ایسے ہیرے ہیں جو منڈی میں کوئلے کے بھاؤ بھی فروخت نہ ہوں ۔ ان میں سے ایک اور ہیرا جو غلط مشورے دینے کا ماسٹر ہے وہ فردوس عاشق اعوان کےبعد دوسرا اعوان “ بابر اعوان “ ہے ۔ یہ وہی بابر اعوان ہے جس نے نواز شریف کے لئے ایک ارب روپے کے بانڈ کا مشورہ دے کے حکومت کو شرمندگی سے دوچار کیا تھا۔
یہ نوحہ بڑا طویل ہے ۔ ہم سب گزشتہ بہتر برس سے یہی نوحہ پڑھتے ہوئے سینہ زن ہیں لیکن ایسے میں ہماری عدلیہ جس پر ہمیشہ نابالغ بچہ ہونے کا الزام لگا ۔ جس کے بارے میں ہر کس و ناکس یہ کہتا تھا کہ ان میں ہمت نہیں کہ فوج کو کچھ کہیں انہوں نے ایک مرتبہ اس سوچ کو شکست دی ، حکومت کی نااہلی کے بخیئے ادھیڑے اور سماعت کے دوران سخت سے سخت تبصرے ہوئے اور چیف جسٹس کو یہاں تک کہنا پڑا کہ وزارت قانون اور اس مسلے میں ملوث دیگر لوگوں کی ڈگریاں چیک کروائی جایئں ۔ میرے خیال میں عدالت نے ابھی بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور ملک کو ایک قانونی اور آیئنی عذاب سے بچا کر ایک نہایت معتدل مختصر فیصلہ سنایا ہے جس کے مطابق جنرل باجوہ کو چھ ماہ تک ملازت میں توسیع دی گئی ہے اور حکومت کو چھ ماہ میں تمام مطلوبہ قانونی اور آئینی تبدیلیوں کا پابند کیا گیا ہے ۔ اور ان چھ ماہ میں مذید اضافے کو ناممکن اور حتمی بنایا گیا ہے ۔
چھ ماہ کا عرصہ بہت کم عرصہ ہے کہ ایسی حکومت جو اپنی سب سے بڑی دشمن خود ہے اسے اپوزیشن کے ساتھ اپنے تعلقات اس حد تک بہتر کرنے ہونگے پارلیمان میں ان تبدیلیوں کو کرنے کے لیئے مطلوبہ حمایت حاصل ہو سکے ۔ اس حکومت کو نا اہل وزیروں مشیروں سے خلاصی حاصل کر کے اہل لوگوں کو سامنے لانا ہوگا کہ مقررہ مدت میں یہ تمام کام سر انجام پا سکیں ۔ عدالتی کاروائی کے دوران یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کہ باجوہ سے پہلے فوج کے سربراہ اپنی مدت ملازمت میں خؤد ہی توسیع دیتے رہے ۔ جنرل کیانی کے بارے میں آسٹریلیا کے ایک اخبار نے انکشاف کیا ہے دروغ برگردن راوی انہیں نے آسٹریلیا میں ایک جزیرہ ساڑھے چار ڈالر میں خریدا ہے ۔ جرنل راحیل کو عرب حکمران مسلم کشی کے انعامات سے مسلسل نواز رہے ہیں ۔
کیا ملک میں موجود کوئی فوجی ، غیر فوجی، مبصر، دانشور میری راہنمائی کر سکے گا کہ اس ملک میں تین افواج ہیں ، بحریہ ، فضائی اور بری فوج ۔ کیا کسی نے آج تک فضائی اور بحری فوجوں کے سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع سنی ہے ۔ ان کے ساتھ یتیم بچوں جیسا سلوک کیوں ؟
اور آخری سوال آپ سب کے لئے چھوڑے جا رہی ہوں کہ چیرمین جوایئنٹ چیفس آف اسٹاف کا عہدہ ان سب سربراہوں پر بھاری ہے مگر کیا وجہ ہے یہ عہدہ صرف دکھاوے کا عہدہ ہے اور ملک کی سیاست اور معشیت سے لے کر ہر شعبے پر بری فوج کا سربراہ ہی غالب نظر آتا ہے ؟
ڈاکٹر نگہت نسیم













