یہ فتنہ انتہا پسندی اور ہم ۔ شمس جیلانی۔اشاعت مکرر

0
1913

Published on: 17 Dec 2021 

 انتہا پسندوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے آج تمام دنیا بیزار ہے پرنس سلیمان اس میں مصروف ہیں کہ ان کےاجداد نے جو شدت پسندی اپنائی وہ اسپراب سیائی پھیرنا چاہ رہے اگر ان کے اجدادیہ کام پہلے نہ کرتے تو نہ خارجی ہوتے اور نہ ہی اسلام کے اتنے نامور فرزند اور مزارات بدت کے نام پر شہید ہوتے؟ چونکہ کسی تائب کے کارناموں کو توبہ کےبعد دہرانا اسلام پسند ی نہیں ہے؟لہذا پرنس سلیمان اجدادکی غلطیوں کو بھی قوم معاف کردےگی؟ کیوں کہ یہ اس لیئے کہ اس کی پیدائش پر اس کا گلا نہیں گھوٹا گیا، جبکہ نفرت پھیلانا آسان ہے مگر محبت کابیج بونا مشکل ہے۔ ماچس کی ایک تیلی پوری امارت کو تباہ کرسکتی ہے ۔ لیکن اس جھونپڑی کی تعمیر میں کتنا وقت درکار ہو تا ہے، جو نئے سرے سے بنا ئی جائے یہ بنانے والا ہی جانتا ہے جب کہ کوئی بھی بے ضمیر بہ آسانی چند ٹکوں یا صرف واہ واہ کے لیے ماچس دکھا سکتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہوجہاں وہ ہمیشہ جلتا رہے گا۔ اسے ڈرنا چاہیے اگر اس کا اللہ پر یقین ہے۔ جبکہ ہم ایسے کام کبھی صرف تفریح کے لیئے، کبھی دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کبھی، ڈالروں کے لیے کرڈالتے ہیں ۔اگر مسلمان ہوتے تو سب سوچتے کہ جن مسجدوں کو ہم بم سے ا ڑا رہے ان کا گناہ پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے کیونکہ قرآن کہتا ہے کہ“ ایک بے گناہ آدمی کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اور ایک جان کابچانا پوری دنیا کو بچانا ہے “یہ ہی بات اس وقت ہمارے ہمسایہ سوچتے جن کہ دھرم میں ایک کیڑے کو بھی مارنا پاپ سمجھتا ہے؟ تو یہ بر اعظم آج ننگا بھوکا نہیں ہوتا۔ قابل ِ عزت ہیں وہ لوگ جو بلا تفریق رنگ و نسل حق کی بات کرتے ہیں ۔چند دن پہےایک خبر میری نظر سے گزری ، پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ کہ ایک شخص نے وہ جراءت کر دکھا ئی کہ خود اپنے منہ پرکالک ملوانا پسند کیا مگر راہِ حق سے ہٹنا پسند نہیں کیا؟ ایسے ہی لوگ مہان، سورما اور حق پرست کہلانے کے مستحق ہیں۔ ان کے نام ایک دن ضرور سنہرے لفظوں میں تاریخ میں لکھے جائیں گے، جبکہ انسان امن کی قدر محسوس کرےگا؟بھارت سے این ڈی ٹی وی نے یہ خبر نشرکی ہے کہ سدھیندرکلکرنی نامی ہندوستانی جوکہ ایک تقریب کے میزبان تھے انہوں نے الز ام لگا یا ہے کہ شیو سینا تنظیم کے دس پندرہ لو گوں نے جب وہ جناب خورشید قصوری سابق وزیر ِ خارجہ پاکستان کی کتاب کی رونمائی کی تقریب میں بطور میزبان اپنے فرائض انجام دینے جا رہے تھے تو انہیں گھیر لیااور جواب طلب کیا کہ ہم نے جب تمہیں حکم دیا تھا کہ خورشید قصوری کی کتاب کی رو نمائی مت کروتو تم نے ہمارا حکم کیوں نہیں مانا ؟ اور یہ کہہ کر ان کے سرپر سیاہ رنگ سے بھری بالٹی انڈیل دی اور چلے گئے۔ خیر ہوئی کہ انہوں نے کالک کی بالٹی انڈیلنے پر ہی اکتفا کیا ،ہمارے یہاں تو ایک عرصہ تک یہ رواج رہا ہے کہ جو شر پسندوں کے حکم کی خلاف ورزی کرتااس کا سر اتار کرکے پہلے اس کے ہاتھ میں دیتے اور بعد میں بے سر کی لاش کوبوری میں بند کر کے کہیں کوڑے میں پھینکوا دیتے۔ مگر آفریں ہے سد ھندر صاحب کو کہ وہ بھی دُھن کے پکے نکلے کہ اسی حالت میں تقریب گاہ میں پہونچے اور خورشید قصوری صاحب کی کتاب کی رونمائی کی تقریب کو انجام دیا۔ اگر یہ ہی اسپرٹ تقسیم سے پہلی کی اکثریت اپناتی، تو آج اکھنڈ بھارت ننگا بھوکا نہیں، بلکہ خوش حال ہوتا۔ اور سرحدوں کے دونوں طرف جعلی تاریخ ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ نہ بنتی؟ ہم نے وہ کتاب تو نہیں پڑھی ہے ؟ مگر اس میں ضرور کوئی سچ ہی ہو گا جو لوگو ں کو کڑوا لگا اور انہوں نے شیو سینا کی خدمات حاصل کر لیں؟
اگر آج سے ایک صدی پہلے شدھی تحریک اعلیٰ ذات کے ہندؤ شروع نہ کر تے اور اس وقت کے لوگ ان کی مذمت کرتے ،تو آج بھارت خوشحال اور اکھنڈ ہو تا کیونکہ اس کو نہ تو فوج پر مال خرچ کرنا پڑتا نہ تین جنگیں آپس میں لڑنا پڑتیں اور نہ کشمیر کا مسئلہ ہو تا اور یہ رقم عوام کی بھلائی پر خرچ ہوتی۔ اس کی اکھنڈتا کو تار تار کرنے والے خود وہاں کے بر ہمن اور ان جیسے دوسرے تھے۔ جبکہ گناہ لکھا مسلمانوں کے نام گیا؟ اس کی ابتدا یہاں سے ہو تی ہے کہ 1905 میں برطانیہ نے اپنے مفتوحہ مشرقی علاقے کو انتظامی ضرورت کے تحت تقسیم کیا تو اس میں برما ، آسام ، اوڑیسہ ،ویسٹ بنگال ، ایسٹ بنگا ل اور بہار کے صوبے قائم کیے ۔ ان میں کسی پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہوا اگر اعتراض ہوا تو صرف مسلم اکثریتی صوبے ایسٹ بنگال پر ؟ کیونکہ اکثریت نے مسلمان بنگالیوں کو ہر طرح پسماندہ رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے جواب میں اپنے بچاؤ کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیئے اور باقی ہندوستان کے مسلمانوں کو آواز دی کے ہماری مدد کرو؟ اس وقت مسلمان با لکل غیر منظم تھے جبکہ پہلے تنظیم ان کی خوبی تھی۔ ڈھاکہ میں ان کا نمائندہ اجلاس ہوا جس میں علی گڑھ مسلم ایجوکیشنل سو سائٹی پیش پیش تھی ۔ نواب سر سلیم اللہ مرحوم نے سلیم اللہ ہال میں منعقدہ میٹنگ میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی؟ وہ ابتدا ءتھی ہندوستان کی تقسیم کی۔ بنگال کی تقسیم تو اکثریت کے دباؤ کی بنا پر قائم نہ رہ سکی 1911 ء میں ختم ہوگئی۔ مگر مسلمان چوکنے ہوگئے اور دوسری راہیں ڈھونڈنے لگے ، ان کی مخالفت رد عمل کے طور پر اور بڑھی توتقسیم کے نعرے لگنے لگے ۔ مگر گاندھی جی کے آنے تک مسلمان کانگریس میں اچھی خاصی تعداد میں تھے، اور قائد اعظم کو تو سفیر ِ اتحاد کہا جا تا تھا۔ مسز سرو جنی نا ءیڈو نے ان پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جس میں انہیں ،، سفیرِ اتحاد،، کا خطاب دیاتھا۔یہ وہ دور تھا کہ ابھی گاند ھی جی ہند وستان نہیں پہنچے تھے اور لٹل ما سٹر“ جو “ جنہیں ہم جوا ہر لال نہرو کہتے ہیں عہد طفو لیت سے بھی نہیں نکلے تھے اور نہ ہی آکسفو رڈ میں پہنچ کر لٹل ماسٹر “ جو “ بنے تھے۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ مسلمانوں کو کیا ہوا کہ وہ اتحاد سے مایوس ہو کر الٹی سمت میں چل پڑے؟ جبکہ شروع سے ہی تمام مسلمان بڑے جو ش و خرو ش سے اتحاد کے لیے آگے بڑھے اور پھر بد د ل ہوکر مسلم لیگ میں شامل ہو تے چلے گئے ،یا تھک کر بیٹھ گئے ان میں ڈاکٹر انصاری اور مو لانا حسرت مو ہانی اور علی برادران قابلِ ذکر ہیں۔بلکہ مولانا محمد علی جوہر تو یہا ں تک گئے کہ گاند ھی جی کو مسجد لے جاتے تھے اور خود مندر میں جاتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے خلافت تحریک کو اچانک روکد یا، تو مو لانا کو شا ید اصل چہرہ نظر آگیا اور انہو ں نے لکھنؤکے ایک جلسے عام میں یہ تک کہد یا کہ میرے نزدیک ایک چور اور بد چلن مسلمان ،گاند ھی جی سے بہتر ہے۔ وجہ کیا تھی کہ یہ سب اتحا د کی کوششو ں میں کیوں ناکام ہوئے؟ وجہ یہ تھی کہ جمہو ریت نے اقدار بد ل دی تھیں اور اگر خوفِ خدا نکل جائے تو انسان اپنی تمام ترخو بیا ں بھو ل کر خود غرض ہو جاتا ہے اور سیکو لر ازم کا پہلا اصول یہ ہے کہ مذ ہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے؟ اس میں اکثریت ہمیشہ قابل ِ تر جیح ہے تو جن کو اکثر یت حاصل ہے وہ اقلیت کی بات کیو ں سنیں اور دوسری طرف اقلیت کو ہر وقت اپنی بقا کی فکر رہتی ہے ۔ بات بنتی تو بنتی کیسے ،جبکہ وہاں صرف سکولر ازم نہیں بلکہ لینن کے چیلے کر شنا مینن اور جواہر لال نہرو اور انکے بہت سے دو سرے ساتھی بھی تھے ۔ یاد رہے کہ کانگریس میں شامل ہو نے سے پہلے نہرو جی لیبر یوتھ یو نین کے پورے ہندو ستان کی سطح پر صدر ہی نہیں بلکہ فاؤنڈر تھے ۔ اور اس مرض میں وہ آکسفورڈ کے زمانے ہی میں مبتلا ہو گئے تھے جبک اپنے والد مو تی لال نہرو کے لئے سو ہانِ رو ح بنے ہوئے تھے ۔ پھر دو سرے شوق اور اصراف کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ مقروض رہتے تھے ۔ آخر ان کے والد نے تنگ آکر انہیں واپس بلانے کا فیصلہ کیا ۔انہو ں نے ایک سال کی مہلت مانگی جو دیدی گئی ۔مگر آخر آ نا پڑا ،اب یہا ں شادی کا مسئلہ تھا انکے والد اور والدہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، کہ انکی بہو کوئی غیر ذات کی ہو ، یہ کہیں اور چاہتے تھے جبکہ وہا ں عام پنڈتن کی بھی گنجائش نہیں تھی ،صرف کشمیری پنڈت خاندان میں ہی شادی ہو سکتی تھی۔شادی تو ہو گئی مگر وہ بیوی کو کبھی پسند کا در جہ نہیں دے سکے ؟آ خر وہ بری طرح تپِدق کا شکار ہو کر سورگ باشی ہو گئیں۔ و ہ کس کرب سے گزریں آ پ اس سے اندا زہ لگا لیں کہ تپِدق کھا تے پیتے گھرانوں کا کبھی مرض نہیں رہا۔میں نے تفصیل اس لئے بتائی کہ اگر آپ کسی کی نفسیات اور عقا ئد نہ جانتے ہو ں تو بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے؟ موتی لال نہرو کو ایک مرتبہ انہوں نے اور مایو س کیا جب انہو ں نے چا ہا کہ یہ ان کی پریکٹس سنبھا ل لیں، مگر وہ ابھی تازہ بہ تازہ کمیو نسٹ کانفرنس میں شر کت کر کے یورپ سے واپس آئے تھے، لہذا یو نین سازی کو تر جیح دی جبکہ موتی لال نہرو پینسٹھ سال کے ہو گئے تھے اور اس دکھ سےگھلتے ہوئے اپنی صحت بری طرح کھو تے جارہے تھے۔وہ مد د کے لئے بیٹے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ دوسرادھچکا جب لگا کہ انہو ں نے اور گاند ھی جی نے انہیں کانگریس کا صدر بنانا چا ہا تو انہو ں نے یہ کہہ کرانکارکردیا کہ یہ میرے مشن کے ساتھ غداری ہو گی اور یہ قدامت پسند لو گ اپنے بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔بہت دباؤ کے بعد بہت بعد میں وہ راضی ہو ئے،جہاں سے تا ریخ کا رخ مڑنا شروع ہوا ،پہلی دفع جب وہ نظر آئے تو اس کمیٹی میں نظر آئے جو کہ زیرِ صدارت ڈاکٹر انصاری کانگریس نے بنائی تھی جس کے وہ اور لالہ لجپت رائےاور مدن مو ہن مالو یہ وغیرہ رکن تھے ۔ اس کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا البتہ تلخی اتنی بڑھی کہ لالہ لجپت رائے جو کہ کبھی کانگریس کے صدر تھے ، انہوں نے کمیو نل ہندونیشلٹ پارٹی کے نام سے پارٹی بنالی اوروہ 1928 ءمیں یہا ں تک چلے گئے کہ انہوں نے کہدیا کہ اب اسکے سوا دستور ی مسائل کاکو ئی حل نہیں ہے کہ مسلمانوں کے اکثر یتی علا قوں کو علیحدہ کرکے ان سے جان چھٹائی جائے اور اس طرح پہلی دفعہ خود اکثریت کے ایک رہنما نے یہ بات منہ سے نکالی۔ خیر وہ تو کبنیٹ مشن کا بائیکاٹ کرتے ہوئے لاٹھی چار ج میں کام آگئے۔ مگر تاریخ میں نام چھوڑ گئے اور مسلمانو ں نے جو بات پہلے کبھی نہیں کہی تھی وہ ان کے منہ سے نکل گئی، نتیجہ یہ کہ پریس کو ایک مو ضو ع مل گیا جبکہ انہوں نے اسے پاکستان کا نام طنزیہ طور پر دیا تھا یعنی “ پاک لوگوں کی سر زمین “مسلمانوں نے اس نام کو بہت بعد میں استعمال کیا اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ 1940 ء کی قرار داد میں جو مینار پاکستان لاہور پرلکھی ہوئی ہے، مملکت کانام مو جود نہیں ہے ۔بلکہ مسلم صو بوں کی یو نینز ہیں ۔ سر کاری طور پر پاکستان کا نام قرارداد پاکستان 1946ء میں ہے۔ جو کہ تمام ہندوستان کے مسلم لیگی منتخب نمائندوں نے پاس کی تھی۔ چونکہ اس کے محرک حسین شہید سہروردی مر حوم تھے اس لیئے ہماری تاریخ میں اس کو کوئی خا ص اہمیت نہیں دی گئی؟
موتی لال نہرو کے دباؤ میں آکر انہو ں نے مشہور زما نہ نہرو رپورٹ تو تیار کی ،لیکن جب یہ ہی رپور ٹ کانگریس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئی تو انہوں نے اس کے خلاف تقریر کی اور صاف ،صاف کہدیا کہ میں کسی مذہبی تقسیم کو نہ ہی تسلیم کر تا ہوں، نہ اس کے حق میں ہو ں کہ مذہب کی بنیاد پر الیکشن یونٹ بنائے جائیں ۔میں سو شلٹ نظا م کے حق میں ہوں ،آپ لوگ کیا چا ہتے ہیں کہ “ ہم ایک فرد جناح یا اقلیت کے سامنے جھک جا ئیں“ وہ قرارداد تو گاندھی جی اور موتی لال نہروکی کو ششوں سے کانگریس سے پاس ہوگئی۔ مگر اس کے مصنف چو نکہ بظاہر نہرو تھے اور انکے شوق خود نمائی نے پہلے ہی میڈیا کے ذریعے کافی غلط فہمیاں پیدا کردی تھیں۔ لہذا مسلم لیگ نے جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس کاکنوینر ر ا جہ صاحب آف پیر پور، را جہ مہدی علی خان مرحوم کو مقرر کیا اور انہو ں نے عبدالحئی عباسی مرحوم کی معیت میں ترائی کی ایک اسٹیٹ ڈھکیامیں بیٹھ کراسکا جائزہ لیا اور اس کی روشنی میں لکھنؤ کے اجلاس میں مسلم لیگ نے نہرو رپورٹ رد کردی۔ چونکہ دستور ساز ی کی ساری اساس ڈو مینین پر تھی۔ نہرو سو شلسٹ وحدانیت کے حامی تھے جبکہ مسلم اقلیت بطور سیف گارڈ ایک تہائی سیٹیں مانگ رہی تھی ،بات بنتی تو بنتی کیسے؟ 1945 ءمیں الیکشن ہوئے کیبنٹ مشن نے دونوں پارٹیوں کو قریب لانے کی کوشش کی ، مشن کامیاب بھی ہوا معاملات طے پاگئے قاعدِ اعظم نے “ آل انڈیا ریڈیو پریہ کہہ کر بات ختم کردی کہ جو قوم کو میں زیادہ سے زیادہ لے کر دے سکتا تھا لے کر دیدیا “ اسی دوران نہرو کانگریس کے صدر ہو گئے۔ انہوں نے یہ کہہ کر اس معاہدہ کو رد کردیا کہ تمام معاملات آنے والی پارلیمنٹ طے کریگی۔ پھر وہ ساری بات رد کرکے اس پر اڑ گئے کہ میں تو پاکستان بناؤگا ۔ جبکہ مسلمانوں نے اپنی سیاسی شکست کی جھینپ مٹانے کے لیے ان کا کیا بھی اپنے نام لکھ لیا، جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان دونوں میں اب وہ نہیں پڑھایا جاتا ہے؟ اس کو بہت پہلے میں نے ایک شعر میں بیان کیا تھا۔رہی غیروں کی کوشش یہ، ہمیں بد نام کر تے ہیں ہماری اپنی عادت یہ ،کیا ان کا بھی اپنے نام کر تے ہیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY