غدار کون ہے ؟۔۔۔ از۔۔ شمس جیلانی

ہمیشہ سے ہمارے یہاں طریقہ کار چلا آرہا ہے ۔ کہ ہر ایک دوسرے کو چور کہتا ہے اور اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتا۔ لیکن تاریخ اتنی ہی بیدرد ہے کے تمام لیپا پوتی کے باوجود مورخ معاملہ کی انتی گہرائی میں اتر جاتا ہے ۔ کہ حقیقت سامنے لاکر رکھدیتا ہے؟ ہر دور میں لوگوں نے لوگوں نے جھوٹ کو ہی فلاح کا ذریعہ بنایا۔ مگر ہر جھوٹ کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وقت آنے پر بے نقاب کردیا؟ سن1945ءکے حالات مسلمانوں کو برِ صغیر ہندو پاک میں یہاں تک لے گئے۔ قائد اعظم نے چند مراعات کے مانے جانے پر ہندوستان میں رہنا قبول کر لیا اور اس کا با قاعدہ اعلان بھی ریڈیو پر جاکرکردیا کہ “ میں جو قوم کو زیادہ سے زیادہ لیکر دے سکتا تھا وہ لیکر دیدیا۔لیکن وہ جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے وہ کچھ اور سوچ رہا تھا اور اس کو چونکہ پاکستان بنا نا تھا وہ بنا کر رہا ؟ اور وہی اکثریتی لیڈرجو کبھی بھارت کو اکھنڈ رکھنے پر مصر تھے اتنے ہی ساتھ رکھنے سے بیزار ہوئے کہ خود کہنے لگے کہ ہم مسلمانوں کو ان کے اکثریتی علاقے دے کرپاکستان بنانا چاہتے ہیں۔کیوں! جواب طویل ہے۔

اب ان کی آخری خواہش یہ تھی کہ کسی طرح یہ بننے والی ریاست اتنی کمزور بنا دی جائے جو ہماری با لا دستی قبول کر لے اور ہماری جیب میں پڑی رہے؟ نتیجہ میں انہوں نے صوبے ہی نہیں بانٹے، بلکہ تحصیلیں تک بانٹیں؟ گورداس پور کا علاقہ داؤں پیچ سے ،لیکرکشمیر کے لیے زمینی راستہ لے لیا اور اپنے ایجنٹوں کی مدد سے وہاں تک پہونچنے اور قبضہ کر نے میں کامیاب ہو گئے؟ پاکستاں بنّے کے بعد اس کے حصے کی جو رقم انڈیا کو کو دینا تھی وہ اس نے نہیں دی، کہ یہ ملک پیدا ہوتے ہی مر جائے گا ،یا ہمارے سامنے ماتھا ٹیک دے گا مگر یہ ملک اس امتحان سے بھی گزرگیا اور اس کا محلِ وقوع وقت کے ساتھ اتنا اہم ہو تا گیا کہ اس کی دنیا کے ٹھیکداروں کو بیحد ضرورت اپنے لیے محسوس ہونے لگی؟ مگر اس کا دوحصوں میں ہونا انہیں کچھ پریشان کر رہا تھا۔ ٹھیکیدار کو اب اس کے مشرقی حصہ کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ لہذا کچھ ہماری اپنی غلطیاں تھیں کہ ہم نے انہیں موقعہ دیا انہیوں نے اسے انڈیا کے ہاتھوں دولخت کرادیا۔ سب سمجھ رہے تھے کہ یہ ملک ختم ہو گیا اور اب اگر رہا بھی تو بہت ہی کمزور رہے گا؟ لیکن قدرت اس کو اس سے زیادہ طاقتور بنا نا چاہتی تھی ۔جبکہ اسکا اکثریتی حصہ الگ ہوچکا تھا ۔ اور اس کی طاقت پکڑنے کی کوئی امید نہ تھی۔ لیکن حالات یہاں تک پہونچے کہ وہ حصہ جس کا نام اب پاکستان ہے اپنے محل ِ وقوع کی اہمیت کی بنا پر مزید اہمیت اختیار کر گیا اور ٹھکیداروں کو اپنی آنکھیں مجبورا بند کرنا پڑیں اور وہی ملک دنیا کے نہ چاہتے ہوئے ایٹمی طاقت بن گیا؟ اب وہی طاقتیں اس کو دوبارہ تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے چپہ چپہ پر ایجنٹوں کا راج ہے جو سارے کے سارے مقصد ایک ہو نے کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ملک اتنا کمزور کردیا ہے کہ جڑیں کھوکلی ہو گئیں۔ لیکن انشا اللہ آگے بھی نتیجہ وہی نکلے گا جو اب تک نکلتا آیا ہے ؟ اس لیے کہ اس کواللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ اس کے نا دیدہ منصوبہ کا حصہ ہے؟ اور جس کو وہ زندہ رکھناچاہے وہ ختم نہیں کیا جاسکتا؟

تاریخ لکھی جا رہی ہے اور مورخ لکھ رہا ہے ؟ کہ کون کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ اسی حساب سےآج کے کردار تاریخ میں آئندہ پہچانے جائیں گے اور یہ حقیقت آئندہ چل کر تاریخ طے کریگی کہ غدار کون تھا اور کون وفادار تھا۔ اس کے لیے ہمیں نتائج کا انتظار کر نا پڑیگا۔ جس طرح ابھی تک جعفر از بنگال اور صادق از دکن محاورہ تھا؟ دیکھئے موجودہ دور میں کون یہ سہرااپنے سر بندھتوا تا ہے اور تاریخ میں اپنا نام کس خانے میں لکھواتا ہے اور کون اپنی فرض شناسی کا ثبوت دیکر سلطان ٹیپو شہید کی جگہ لیتا ہے۔ تاریخ ایک مرتبہ پھر دیکھ لیجئے شطرنج کے مہروں کی طرح ایجنٹوں کے جال پو رے علاقے میں پھیلے ہو ئے ہیں۔ وہ لوگ جو کہ ہررڑ کی ایک گانٹھ لیکر کر پنساری بن گئے تھے اور جو ان خزانوں سے پر تھے وہ یہ عمل چھوڑ کر فکری طور پر کنگلے ہوگئے تھے ۔ “ وہ تھا عدل وانصاف “وہ بھی آج مصلحت کے ہاتھوں مجبور ہو چکے ہیں وجہ کوئی بھی ہو اسلام اس لیئے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے کامیاب ہوا تھا۔ کہ اس دور میں بھی ظلم وستم چاروں پھیلا ہوا تھا ، مظلوموں کو امید کی کرن اسلام میں نظر آئی؟ نتیجہ یہ ہوا کہ وطن پرستی، مذہب پرستی، اور شخصیت پرستی کے سارے بت اپنا اثر کھو بیٹھے، ان کے اپنے دشمن ہو گئے اور انہیں کے خلاف تلوار سونت کر کھڑے،ا سلام اپنے عدل و انصاف کی بنا پر ترقی کر تا چلا گیا اور صدیوں تک اسلام سرخرو رہا۔جب مسلمان اس طرف سے غافل ہوئے تو وہی صفات جو انکی آزمودہ تھیں دوسروں نےاپنا کر دنیا میں اپنی جگہ بنا لی۔ قرآن کے مطابق یہ ایک سائیکل ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم حالات بدلتے رہتے ہیں۔

دوسرے لوگ آئے انہوں نے صرف چند اصولوں کو لیکر جوکہ تھے انصاف اور فلاح انسانیت ۔ لیکن اب وہ بھی چھوڑ چکے ہیں ؟ نظام ِ قدرت کے مطابق دیکھئے اب کو ن ان کی جگہ لیتا ہے ۔ان کے بعد اب کس قوم کو قدرت دنیا پر مسلط کرے گی وہ کون ہو گا وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ اس وقت چاروں طرف فتنے ہی فتنے ہیں۔ اس کی سنت یہ ہی رہی کہ جب فتنے بڑھ جاتے ہیں تو کسی نئی قوم کو بھیج دیتا ہے وہ جو اقتدار میں کبھی نہ رہی ہو اور اپنے اندر اچھی صفات پیدا کر لے یا پھر کوئی پرانی قوم تائب ہو جا ئے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ بنانے والا بنا کر بھول جا ئے اور دنیا کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔ اس سلسلہ میں بہت سے اقوال ہیں ان میں ایک وہ نصیحت ہے کہ حضرت سعد (رض) بن وقاص کونصیحت کرتے ہو ئے حضرت عمر (رض) نے فرمائی تھی کہ یہ مت بھولنا اللہ سے سوائے اطاعت کے کسی کی کو ئی رشتہ داری نہیں ہے۔ اور حضور (ص) کا یہ ارشاد بھی ہے جو انہوں (ص) نے اپنے خاندان والوں سے فرمایا تھا۔ کہ ً سنو ! میری بات مان لو، ورنہ میں قیامت کے دن تمہارے کسی کام نہیں آسکونگا ً جبکہ خالق ِ کائینات فرمارہا ہے کہ اگر ہم رد و بدل نہ کریں تو دنیا کی تمام عبادت گاہیں ختم ہوجا ئیں اور جس کے ہاتھ جولگ جا ئے وہ کسی کو کچھ نہ دے؟ اس میں ۔ انسانی فطرت کی خالق کی طرف وہ تصویر ہے جو بنانے والے نے کھینچی ہے۔ جبکہ داعی ِ اسلام (ص) نے اس کے تدارک کا نسخہ اتنا آسان بتا دیا ہے کہ جو اپنے لیے چاہو وہی اپنے بھائیوں کے لیے چاہو! اور باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے قوم کویہ کہہ کر خبر دار کر دیا ہے۔ “انسان بھوکا تو رہ سکتا ہے مگر انصاف کے بغیر نہیں رہ سکتا“ لوگو ں کی سمجھ میں شاید یہ بات نہ آئے۔یوں سمجھ لیجئے کہ اگر دونوں بھائی بھوکے بیٹھے ہوں تو دونوں بخوشی برداشت کر لیں گے مگر ایک بھائی باپ کی وراثت پر قابض ہو اور پھل کہا رہا اور چھلکے دوسرے کی طرف پھینک رہا ہو تو وہ دشمن ہو جا ئے گا اور وہی بھائی جو اس کا خون ہے کبھی پر داشت نہیں کریگا۔

اسی فلسفہ کو اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ کہہ کر سمجھا یا ہے کہ پہلے یہ یقین کر لو تمہارا پڑوسی بھوکا تو نہیں ہے۔ اگر وہ بھوکا ہے تو تمہارے اوپر کھانا حرام ہے۔ یہ حکم ہے کہ تحائف کی تبدیلی سے محبت بڑ ھتی ہے اگر موسم کا کوئی نیا پھل لا ؤ تو پہلے پڑوسی کو بھیجو پھر خود کھاؤ۔ جبکہ ہم نے اسلام کو یہ سمجھا ہوا تھا کہ یہ بھی اور مذاہب کی طرح صرف عبادت کا نام ہے؟ اس کا نتیجہ ہوا کہ مسجدیں تو ہماری بھری ہو ئی ہیں ۔ بظاہر ہم مسلمان ہیں۔ مگر اندرونی حالت یہ ہے کہ وہ تمام خرابیاں ہم میں موجود ہیں جن میں سے کسی بھی ایک برائی کیوجہ سے پوری پوری قومیں تباہ ہو گئیں ۔ اس لیے کہ انہوں اپنے بڑوں کو برائی سے روکا نہیں ۔معاشرے کی فحاشی یہ ہے کہ برائی کھلے عام ہو رہی ہو اور اسے کو ئی روکنے والا نہ ہو؟ یزیدیت اور بے حیائی کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان احتساب یقین نہ رکھتا ہو؟ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ حضرت امام حسین (ع) سے شمر نے جب پوچھا کہ آپ یزید کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کر لیتے جو آپ چاہیں وہی ہو گا ؟ انہوں نے ہما ری طرح لفاظی کا وہ ذخیرہ استعمال نہیں کیا جو ہم کرتے ہیں، صرف یہ فرمایا کہ“ میں اس آدمی کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ کیسے دیدوں جو یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتا “ کیوں ؟ اس لیے کہ جو آخرت پر یقین نہ رکھتا ہو وہ صاحب ِ ایمان نہیں ہو سکتا؟ اور جو آخرت پر یقین رکھتا ہے اس میں کوئی برا ئی باقی نہیں رہ سکتی ؟ کیونکہ اسے یہ احساس روکدے گا کہ میں خدا کے سامنے جواب دہ ہوں۔ جو دانا اوربینا بھی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY