لندن برج پر حملہ کرنے والا عثمان خان سزا یافتہ تھا: پولیس

0
603

برطانیہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کو لندن برج پر چاقو کے وار کر کے دو افراد کو ہلاک کرنے والے حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔

عثمان خان نامی حملہ آور کو 2012 میں دہشت گردی کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی تھی۔ اور اسے ضمانت کے بعد گزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔

برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس کے اعلٰی افسر نیل باسو نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ 28 سالہ عثمان خان کو گزشتہ سال رہا کیا گیا تھا۔ تاہم تحقیقات جاری ہیں کہ آخر کیوں ملزم نے دوبارہ اس طرح کے جرم کا ارتکاب کیا۔

حکام کے مطابق برطانیہ میں مجرموں کو قید کی مدت مکمل ہونے سے قبل صرف مختلف ضمانتوں اور یقین دہانیوں کے بعد ہی رہا کیا جاتا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملزم کو ‘الیکٹرونک ٹیگ’ پہننے کی شرط پر رہا کیا گیا تھا۔

حملہ آور نے جمعے کی دوپہر دو بجے لندن برج پر چاقو کے وار کر کے متعدد افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ بعدازاں پولیس کی گولی لگنے سے حملہ آور ہلاک ہو گیا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے میں دو شہری ہلاک جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جبکہ زخمی ہونے والی دو خواتین اور ایک مرد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حملے کی خبر سامنے آتے ہی برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ مجرمان کو سزا پوری ہونے سے قبل رہا نہیں کرنا چاہیے۔ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ “یہ غلط ہے کہ پرتشدد مجرموں کو قبل ازوقت رہا کر دیا جائے۔ ہمیں سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والے دہشت گردوں کو رہا نہیں کرنا چاہیے۔”

برطانوی حکام نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ جس کے بعد برطانیہ میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

لندن کے میئر صادق خان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انفرادی فعل لگتا ہے۔ لہذٰا پولیس کسی اور ملزم کو تلاش نہیں کر رہی۔ صادق خان نے لندن برج پر موجود شہریوں کی ہمت کو داد دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جب برج پر خوف کی فضا تھی لوگ ملزم پر قابو پانے کے لیے خطرے کی جگہ پر موجود تھے۔

لندن برج پر 2017 میں بھی انتخابی مہم کے دوران دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ جب تین حملہ آوروں نے ایک وین راہگیروں پر چڑھا دی تھی۔ اس واقعے میں آٹھ افراد ہلاک اور 48 زخمی ہو گئے تھے۔

…………………………

برطانیہ کی پولیس نے جمعے کے روز کہا کہ انہوں نے چاقو سے مسلح ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس نے جعلی خودکش جیکٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کے لندن برج کے قریب کئی لوگوں پر چاقو کے وار کر کے انہیں زخمی کر دیا۔

بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ چاقو کے حملوں کی تاب نہ لا کر دو عام شہری ہلاک ہو گئے۔

پولیس اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دے رہی ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ انہیں اطلاع ملی کہ لندن برج کے قریب ایک علاقے میں راہگیر ایک شخص سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان پر چاقو سے حملہ کر رہا ہے۔ پولیس اہل کاروں نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے چاقو بردار شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

پولیس کے ذرائع نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ اطلاع ملتے ہی مسلح پولیس اہل کار موقع پر پہنچ گئے جہاں کئی دفاتر، ریستوران اور دیگر عمارتیں ہیں اور لوگوں کو ہجوم ہوتا ہے۔ پولیس نے لوگوں کو اس طرح جانے سے روک دیا جہاں حملہ آور کی اطلاع ملی تھی۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پل پر کچھ لوگوں کو دیکھا جو ایک شخص پر قابو پا کر اسے نیچے گرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ فاصلے سے ایک پولیس اہل کار زمین پر گرے ہوئے ایک شخص کو نشانہ بنا رہا ہے۔

فائرنگ کے بعد لندن برج کی مصروف گزرگاہ پر تمام ٹریفک رک گئی اور سٹرکوں پر کاروں، بسوں اور ٹرکوں کی قطاریں لگ گئیں۔

ٹوئٹر پر شائع ہونے والی 14 سیکنڈ دورانیے کی ایک مختصر ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس کے تین اہل کار فرش پر لیٹے ہوئے ایک شخص کو لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب یہ واقعہ پیش آیا وزیر اعظم بورس جانسن اپنی رہائش گاہ ڈاؤننگ سٹریٹ واپس جا رہے تھے۔

ان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن برج پر ہونے والے اس واقعہ سے متعلق مجھے مسلسل باخبر رکھا جا رہا ہے۔ میں پولیس اور ایمرجینسی سروسز کے فوری ردعمل دکھانے پر ان کا شکر گزار ہوں۔

لندن برج پر اس سے پہلے جون 2017 میں بھی حملہ ہو چکا ہے۔ اس واقعہ میں تین عسکریت پسندوں نے پیدل چلنے والوں پر اپنی ویگن چڑھا دی تھی اور اس کے بعد اس علاقے میں موجود لوگوں پر حملہ کر دیا تھا۔ اس واقعہ میں 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس مہینے کے شروع میں برطانیہ نے دہشت گردی سے متعلق خطرے کی سطح اونچے درجے سے کم کر کے درمیانے درجے پر کر دی تھی۔ یہ 2014 کے بعد سے خطرے کی کم ترین سطح ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY