اس نئی حکومت میں جیسی باتیں ہو رہی ہیں وہ ایک اچنبھا ہے ۔کیونکہ ہمارے لوگ تو عادی ہیں کہ کچھ بھی پتہ نہ چلے ،چاہے ایکسٹینشن ہو یا ڈیٹینشن ۔لیکن اب ہر بات سامنے بھی آرہی ہے اور اس پر کھلے تبصرے بھی ہو رہے ہیں ، اور سوالات بھی اُٹھ رہے ہیں ۔یہ اور بات ہے کہ اتنی باتیں کرنے کے باوجود ہر معاملے میں پروگرامز کرنے کے با وجود کچھ ٹی وی اینکرز اب بھی یہ ہی رونا روتے نظر آتے ہیں کہ “یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری “ ۔ان میں کچھ تو وہ ہیں جن کی تسلی کسی صورت نہیں ہوتی وہ کالم بھی لکھتے ہیں ٹی ؤی پر پروگرام بھی کرتے ہیں اور پھر یو ٹیوب پر بھی اپنی باتیں کرتے ہیں اب ہماری عقل کام نہیں کرتی کہ پابندی کہاں ہے ؟؟
پچھلے دو تین دنوں میں جو کچھ ہوا اُس نے ہمیں بھی ڈرا تو دیا تھا لیکن اتنا اعتبار ضرور تھا کہ فیصلہ اچھا اآئیگا اس لئے نہیں کہ چیف نے ،چیف کے لئے بات کی تھی بلکہ اس لئے کہ ملک دونوں کے لئے اہم ہے اور یہ ادارے ہمارے اپنے ہیں ،لیکن جہاں سُقم ہیں اگر انہیں دور کر لیا جائے تو کوئی مزائقہ نہیں ہے آنے والوں کے لئے اچھا ہوگا لیکن اس کے لئے سخت شرائط رکھی جانی چاہئیں جیسا کہ پہلے ہوتا رہا کہ جب ضرورت پڑی ایکسٹینشن دیا وہ نہیں ہونا چاہئے جب تک ملک کو ضرورت نہ ہو ایکسٹینشن نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ آج کل ہم بہت سارے محازوں پر لڑ رہے ہیں اس لئے اس وقت یہ چیف ہمیں ہمارے ملک کے مفاد میں چاہئے۔ تاکہ نئے آنے والے کو جو وقت دوسروں سے بات چیت کرنے ان سے ملنے ملانے میں لگے وہ بچ جائے کیونکہ کشمیر ہمارے سامنے ہے ۔ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈٍھکا چھپا نہیں ۔
مگر ہمیں ایک افسوس ضرور ہے کہ ہم نے اپنے دشمنوں کو دو دن تک خوب ہنسنے کا موقعہ دیا یہ ہی آرڈر اسی دن بھی دیا جاسکتا تھا کہ ہم تو سیع کر رہے ہیں آپ قانون سازی کریں لیکن نہ جانے کیوں ہم سنجیدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے عمل کا نقصان کیا ہوگا ۔ہمیں صرف اتنی حیرت ہے کہ اتنے زیرک لوگ کیوں پھنس جاتے ہیں ان معاملات میں ۔یہ باتیں چیمبر میں بلا کر بھی پوچھی جاسکتی تھیں تاکہ ایک ایسے اادارے کا جس کی قربانیاں ہم سب کے سامنے ہیں ۔اس کو اس طرح خود ہمارے ملک میں بھی شکوک اور شبھات کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ہم نے جب فوج کے حلف کے بارے میں پڑھا تو ہمیں لگا کہ یہ مجاہد تو آتے ہی شھادت دینے کے لئے ہیں ان کا مقابلہ کون کر سکتا ہے ۔یہ تو وہ مجاہد ہیں جو اپنی زندگیاں ہمارے لئے داؤ پر لگاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا جتنا بھی احترام کیا جائے کم ہے ۔ لیکن بے جا کوئی بھی بات اچھی نہیں ہوتی چاہے احترام ہو یا عزت ،اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ اگر فوجی کچھ بھی کرے تو وہ قابلَ معافی ہے، نہیں ہر گز نہیں ،لیکن ان کا احترام عوام کے دل میں ہے ۔عدلیہ ہماری ہے فوج ہماری ہے سارے ادارے ہمارے ہیں ہمیں ان سب کی عزت کرنی چاہئے جو دوسرا چیہف آئیگا وہ بھی ہمارا ہی ہے ۔اس لئے ان سب کی حفاظت ہمارا فرض ہے جس طرح وہ ہماری حفاظت کرتے ہیں ۔شکوہ صرف اتنا ہے کہ اگر میڈیا ہر بات کو اس طرح باہر نہ لاتا جس طرح کمرہ عدالت میں ہو رہا تھا تو شاید یہ احساس نہ ہوتا کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو ئی ۔کیونکہ ہم نے پہلے بھی سنا تھا کہ کچھ باتیں عدلیہ میں ہلکی پھلکی بھی ہوتی ہیں لیکن ہمارے رپورٹر اسے اس قدر اہمیت دے دیتے ہیں کہ لگتا ہے کہ بس قیامت اآئی کہ آئی ،یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سنجیدگی لازمی ہے ،اور شاید تعلیم بھی تربیت بھی جو ہر شعبے میں ہونی چاہئے ۔آج کل میڈیا ہر خبر کو اُچکنے میں اسی طرح لگا ہوا ہے جس طرح چیل ماس پر جھپٹتی ہے ۔
سارے مولوی نکل کھڑے ہوئے ہیں ہماری تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ انہیں تکلیف کیا ہے اگر پانچ سال انتظار کر لیں ؟ ہماری تو ایک تجویز اور بھی ہے اگر میڈیا انہیں دکھانا بند کر دے تو ہم یقین سے کہتے ہیں ان میں سے کوئی بھی نہ جلسہ کرے گا نہ جلوس نکالے گا لیکن ہمارے میڈیا کو تو چٹخارہ چاہئے ۔ملک کا کوئی مسئلہ اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا فضل صاحب کی باتیں یا سراج صاحب کے بیانات ۔نہ جانے انہیں کہاں سے خواب آگیا ہے کہ یہ حکومت بنا سکتے ہیں ہم شرط لگاتے ہیں خود انکی خواتین انہیں ووٹ نہیں دیں گی ۔۔اور آپ جانیں کہ پچاس فیصد آبادی خواتین پر مشتمل ہے ہو سکتا ہے زیادہ ہو ۔
ان تمام باتوں سے ہٹ کر ہم سمجھتے ہیں کہ اب حکومت کو عام آدمی کی طرف توجہ دینی چاہئے اس لئے کہ یہ تماشہ لگا رہے گا جب تک سیاست دان سیاست کو اپنی لونڈی سمجھتے رہیں گے ۔جن باتوں پر تحقیقات ہو رہی ہیں وہ ان اداروں کو ٹھیک کرنے میں ضرور مدد دینگی جیسے فارن فنڈنگ کیس لیکن یہ سب جماعتوں کی تحقیق ہونی چاہئے چھوٹی سے چھوٹی جماعت اور بڑی سے بڑی ،کیونکہ یہ وہ مسائل ہیں جو ملک میں اچھے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے ۔کیونکہ پیسہ اتنا استعمال ہوتا ہے کہ ایک عام کارکن محنتی کارکن تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ ایلیکشن لڑ سکتا ہے اس لئے ان تمام خرابیوں کو ضرور دیکھنا چاہئے ۔
ہماری تجویز تو بس اتنی سی ہے کہ جب تجربہ کار حکومتوں کے تجربے کو تیس سال تک برداشت کیا تو اب ایک نا تجربہ کار حکومت کو پانچ سال دیکھ لو شاید کچھ بھلا ہو جائے ورنہ جو خود گرنا چاہے اُسے کوئی نہیں بچا سکتا ۔
اللہ ہماری مشکلوں کو دور کرے اور ہم سب پر رحم اور کرم فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY