رد زیادہ اہم ہے یا ادارہ ،اس میں وسے کہنے کی حد تو کوئی دو رائے نہیں , اور ہم شاید ہی کسی کو یہ کہتے سنیں کہ فرد کو ادارے پہ فوقیت ہے ۔۔۔ مگرعملی طور پہ بحیثیت قوم ہمارا طرز عمل اس تصؤر کے بالکل برعکس ہے ہم ہرسطح پہ اورہر بار کسی نہ کسی شخصیات کو پوچنے لگتے ہیں اور خود اس کو ہی ادارہ سمجھنے لگتے ہیں جس سے ادارہ دور کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور اس فرد کواصولوں اور نظام کو پامال کرنے اور بیحساب من مانی کے لئے کھلی چھٹی مل جاتی ہے ۔۔۔۔۔ کراچی آرٹس کونسل بھی ایسے ہی مطلق العنان طرز عمل کی اک مثال ہے کہ جہاں گزشتہ بارہ برس سے احمد شاہ کا راج ہے اور کسی میں ہمت نہیں کہ انکی اداؤں پہ لب کشائی کرسکے ۔۔۔۔ البتہ خوشامدیوں و درباریوں کی اک بڑی بھیڑ ہے کہ جو بڑھتی جاتی ہے اور ظل الہی کی بلائیں بڑھ چڑھ کے لئے جاتی ہے- ادیبوں اور شاعروں اور مبینہ اہل علم میں اکثر کا تو یہ حال ہے کہ احمد شاہی سرپرستی میں آنے کے لیئے مرے جاتے ہیں اور بات بات پہ حسن طلب سے بوجھل منمناتا سا نت نیا قصیدہء وارے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ درست کہ احمد شاہ نے آرٹس کونسل کو بہت ترقی دی ہے مگر مخالفین کا کہنا ہے کہ خود ان کی ذاتی مالی ترقی اس سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہے اس لئے انہیں یہ سب کچھ تو بہرطور کرنا ہی تھا۔۔۔۔
آرٹس کونسل میںمن مانی کی صورتحال کے حوالے سے بالیقین بہت سے اہل درد متفکر ہیں مگر احمد شاہ کی تانا شاہی کے مقابل ان میں سے زیادہ تر کی ہمت نہیں کہ سامنے آسکیں حتیٰ کہ کیبنٹ اور گورننگ باڈی میں بھی کسی کی مجال نہیں کہ کوئی کلمہء حق بلند کرسکے ۔۔۔ جنرل باڈی کو بھی آمنا و صدقنا کی عملی تفسیر بناکے رکھ دیا گیا ہے ۔۔۔البتہ چند سرپھرے ہیں کہ ‘دی آرٹس فورم ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں اوروقتاً فوقتاً اصلاح حوال کے لیئے آواز بلند کرتے سنے جاتے ہیں تاکہ ملک کے سب سے بڑے مرکز فن و ثقافت کو کسی فراد کی ذاتی جاگیر اور راجواڑہ بننے سے روک سکیں اور اب جبکہ آرٹس کونسل کا جنرل باڈی اجلاس ہونے جارہا ہے تو انہوں نے چار روز قبل ایک پریس کانفرس میں اپنے کئی ایسے مطالبات کو دہرایا ہے کہ جن کا مقصد ان کے نزدیک احمد شاہ کی طوفانی بے لگامی کو لگام دینا غافلوں کو جگانا اور احتساب کی رکی ہوئی پھرکی گھمانا ہے ۔۔۔ یہاں ذیل میں ہم انکے مطالبات کے تذکرے تک ہی محدود رکھیں گے اور انکے ان بیانات اور اطلاعات کو ڈسکس نہیں کرینگے کہ مرحوم عمر شریف کے ساتھ انکی زندگی میں کیا کیا بدسلوکیاں کی گئیں اور کس طرح انہیں الیکشن میں جعلی طور پہ ہرایا گیا اور تقریباً اس سے ملتی جلتی صورتحال معین اختر کے ساتھ بھی روا رکھی گئی اور نہ ہی ہمیں مرحوم ایس ایچ ہاشمی و یاور مہدی کے ساتھ کئے گئے ہاتھ کا تذکرہ کرنا مقصود ہے
انکے مطالبات ویسے تو متعدد ہیں مگر ان میں سے جو چندد خاص میں سمجھا ہوں وہ یہ ہیں
گزشتہ بارہ برس میں کراچی آرٹس کونسل میں فنڈز میں زبردست گھپلےجاری ہیں لہٰذا مبینہ طور پہ خرچ کردہ 2 ارب روپے کا حساب دیا جائے-واضح رہے کہ اور اس کے لئے تو مرحوم یاور مہدی نے ایک جنرل باڈی اجلاس میں یہ قرارداد بھی منظور کرائی تھی کہ نیکنام آڈٹ ادارے فرگوسن سے آڈٹ کرایا جائے جس کے اخراجات وہ اور انکے ساتھی برداشت کرنے کو تیار ہیں مگر اس قرارداد پہ عملدرآمد کبھی نہیں ہونے دیا گیا
آرٹس کونسل کراچی
کراچی آرٹس کونسل میں تعمیراتی و دیگر تجارتی امور سے متعلق تمام ٹھیکے اوپن ٹینڈر کے ذریعے دیئے جائیں جو کہ بلا خوف نگرانی ، ایک خاص برسرقتدار چلے آرہے ٹولے کے چنگل میں ہیں اور فنڈز خوری کا ذریعہ بن چکے ہیں –
احمد شاہ اور انکے ساتھی افراد کی مالی پوزیشن و اثاثہ جات میں گزشتہ دس بارہ برس میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی کو دیکھتے ہوئے ان سب حضرات کا مالی احتساب بھی کیا جانا لازمی ہے کہ یہ لوگ پہلے کہاں تھے اور اب کیا ہوچکے ہیں-
آرٹس کونسل کی ممبر شپ کی واضح پالیسی موجود ہے جس پہ عمل کیا جانا لازمی ہے اس پالیسی کے مطابق صرف فنون لطیفہ سے منسلک افراد ، اہل علم ، اہل ادب اور صآحبان ذوق ہی اس کے اہل ہیں مگر اس کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں اور محض اپنا آمرانہ تسلط قائم رکھنے کی خاطر قطعی غیرقانونی طور پہ نااہل من پسند افراد کے جم غفیر کو رکن بنالیا گیا ہے اور یوں چند برسوںمیں ارکان کی تعداد ڈھائی تین ہزار سے بڑھ کر آٹھ ہزار سے بھی زائد کردی گئی ہے جن میں سے بیشتر کا علم و فن سے دور کا بھی تعلق نہیں مگر وہ احمد شاہ کی ہر من مانی کو رسمی منظوری دینے کی غرض سے بھرتی کئے گئے ہیں اور ان کے ہوتے احمد شاہ کے راج اور انکی پالیسیوں کو عددی طور پہ برسوںسے کوئی خطرہ نہیں ہے –
احمد شاہ نے گورننگ باڈی میں کئی برسوںسے اپنی بیگم کو بھی شامل کررکھا ہے جن کا آرٹس کونسل کی بہبود سے کوئی عملی تعلق واسطہ نہیں اور ان کی نامزدگی کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے لہٰذا انہیں اس باڈی سے باہر کیا جائے
احمد شاہ کے خلاف دو برس ممتاز اینکر و شاعرہ قندیل جعفری پہ کرئے گئے حملے کے سلسلے میں درج مقدمے کی چھان بین کی جائے اور مجاز عدالت اس پہ جلد فیصلہ دے کر تصؤر انصاف کو سربلند کرے
جس طرح عوامی نمائندگی کے تصؤرات میں مخالفین کی آرآء و مشاورت کو بھی سمونا ناگزیر ہے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں مختلف امور کی کمیٹیوں میں حزب اختلاف کو بھی شامل کیا جاتا ہے ،اسی طرح آرٹس کونسل کے امور میں بھی حزب مخالف کو شامل کیا جائے تاکہ دوسرے نقطہء نظر کو بھی سامنے لایا جاسکے اور من مانیوں کی کچھ نہ کچھ روک تھام کی جاسکے –
میں سمجھتا ہوں کہ آرٹس فورم کے یہ مطالبات بہت معقول ہیں اور کافی وزن رکھتے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر اور صوبے کی انتظامیہ آرٹس کونسل کراچی کی ترقی و مفاد میں پیش کردہ ان نکات کو ہرگز نظرانداز نہ کرے وگرنہ اس ادارے کی عملی حیثیت ایک فرد کے راجوڑے سے زیادہ نہ رہ جائے گی- آرٹس کونسل کے معاملات کے حوالے سے یرے اختلاف کی نوعیت ان امور سے کافی مختلف ہے اور ان پہ میں اگلے کالم میں روشنی ڈالوںگا فی الوقت تو یہ کالم اس جنرل باڈی کے لئے ایک کھلا پیغام لئے ہوئے کہ فن و ثقافت کے اس مرکز کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ ضابطوںاور متعلقہ قوانین کو پامال کرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہ دی جائے اور کوئی بھی فرد نہ تو احتساب ونگرانی سے بالاتر ہو اور نہ ہی ایسا ناگزیر نہ سمجھا جائے کہ گویا وہ نہ ہوا تو ہر سو اندھیرا ہوگا ۔۔۔ مگر چشم بنیا یہی دکھاتی ہے کہ ہمارے گردا گرد کتنے ہی قبرستان ایسے ناگزیر لوگوں کی سنسان قبروں سے بھرے پڑے ہیں
سید عارف مصطفیٰ













