پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب)نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض، ان کے صاحبزادے، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور دیگر 30 افراد کے خلاف قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔
ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے زمین پر قبضہ کرکے قومی خزانے کو 700 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔
چئیرمین نیب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد کی منظوری اور دستخط کے بعد کراچی کی نیب عدالت میں ہفتے کو یہ ریفرنس جمع کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریفرنس سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ملزمان کو نوٹس بھی جاری کردیے ہیں۔
ملک ریاض کے خلاف بحریہ ٹاؤن کراچی کی زمین غیر قانونی طور پر حاصل کرنے کی انکوائری 2015 کے آخر میں شروع کی گئی تھی جسے بعد ازاں انویسٹی گیشن میں تبدیل کردیا گیا تھا۔
دس سال بعد اس ریفرنس کو ایسے وقت میں عدالت میں داخل کیا گیا ہے جب خود ملک ریاض کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہیں گواہی کے لیے بلیک میل کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ادارے الزام عائد کررہے ہیں کہ ملک ریاض کے دبئی میں شروع ہونے والے نئے پراجیکٹ کے لیے رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کی گئی ہے۔
ریفرنس میں کیا ہے؟
نیب کی جانب سے فائل کردہ ریفرنس میں ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے سمیت 33 ملزمان شامل ہیں جن میں سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، اُس وقت کے وزیر بلدیات اور موجودہ وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن اور متعدد سرکاری افسران کے نام ہیں۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مختلف قوانین اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر زمین بحریہ ٹاؤن کراچی کے نام منتقل کی۔
نیب ریفرنس کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے نام زمین کی منتقلی کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے سب سے پہلے2013 میں سندھ اسمبلی سے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کرکے قانون منظور کروایا گیا جس کے چھ روز بعد ہی بحریہ ٹاؤن نے ضلع ملیر میں ہاؤسنگ پراجیکٹ بنانے کا اعلان کیا۔













