Published on: 4 Dec 2019 @ 10:50یہ کالم اس سے قبل اس تاریخ کو شائع ہوا تھا
لیکن نہ پاکستان کے حالات بدلتے ہیں اور نہ ہی ہمارے کالم
اپوزیشن کی عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد نے ملک کی بنیادیں ہلا دی ہیں، عدم اعتماد آئینی چیز ہے لیکن عمران اور اسکے حواریوں نے اسکو ہر قسم کی بدمعاشی سے ناکام کرنے کا سوچ لیا ہے اور اب پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کے مسلے نے معاملہ مزید الجھا دیا ہے
اسی تناظر میں دوہزار انیس کا یہ کالم پڑھیں اور سوچیں کیا واقعی تبدیلی آ گئی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں ملکی تاریخ کی ایک ایسی بڑی حکومت اس وقت برسر اقتدار ہے کہ جس کے اپنے بانی ارکان جماعتی منفی کارگردگی کی وجہ سے یا تو حکومتی جماعت کو چھوڑ چکے ہیں یا انہیں نکال دیا گیا ہے یا پھر وہ ہر چیز سے لا تعلق ہیں ۔ یہ ایک تاریخی حقیقیت ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے اس لمحے تک ملک میں کوئی بھی حکومت فوج کی آشیرباد کے بغیر نہیں آسکی۔ فوج کی خفیہ ایجنسیوں نے سیاسی جماعتوں میں تقسیم پیدا کی ، ان کے ارکان کوتوڑا اور پھر نئی سیاسی جماعت بنائی ۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔
پہلے کم از کم یہ ہوتا تھا کہ ملکی فوج پس پردہ کاروائی کرتی تھی لیکن دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں میں ووٹنگ سے نتائج آنے تک جس طرح ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت انتخابی کمیشن کے نتائج کے نظام میں تیکنیکی خرابی پیدا کی گئی اور وعدے کے مطابق تحریک انصاف کو اقتدار میں لایا گیا تو سچ کہوں اس میں عمران خان کی بایئس سالہ جدو جہد کا کوئی حصہ نہیں بنتا ۔ فوج نے جو کام کیا وہ اگرچہ سب کے سامنے ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے سیاستدان ہمیشہ سے کوتاہ نظر اور مفادات کے مارے ہوئے ہیں کہ وہ فوج کا نام لینے سے خوفزدہ ہیں اور اسے اسٹیبلشمنٹ کہتے ہیں ۔ جبکہ پوری دنیا میں اسٹیبلشمنٹ کا لفظ سرکاری افسر شاہی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ وہ انتخابات جیت کر آئے ہیں۔
میرے جیسے لوگ جن کا کسی سیاسی جماعت سے کسی رخ سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنے اظہار بیان میں سب سے زیادہ مطعون ٹھہرائے جاتے ہیں ۔ وہ اس لیئے کہ ہم لوگ کسی کی عینک استعمال نہیں کرتے اور ہماری عینک کا نمبر کسی سے ملتا بھی نہیں ہے۔ یوں تو کلام پاک کا ایک ایک لفظ سچا ہے لیکن یہ آیت مجھے برسوں سے خوفزدہ کرتی رہی ہے اور اب جو میں برسوں سے بیرون ملک مقیم ہوں تو اس آیت کی صداقت کا اور پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ پروردگار ارشاد فرماتا ہے کہ “ پھر ہم تم پر تم جیسے حاکم مسلط کر دیتے ہیں “
کوئی مفتی نعیم ، کوئی تقی عثمانی ، کوئی آیت اللہ نجفی ، کوئی طارق جمیل ، اللہ رسول کے واسطے ملکی ٹی وی پر آ کر اس ایک آیت کی تشریح اور تفسیر عوام کو بتایئں کہ ایسے جابر اور ظالم حاکم صرف اسی لیئے پروان چڑھتے ہیں کہ عوام ان کااحتساب نہیں کرتے اور اللہ پاک کے رسول ص کی حدیث کے تحت ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں ۔
اس قدر طویل تمہید کی وجہ ایسے بے شمار لوگ اور ان میں نام نہاد پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں جو شاہ کی تعریف میں شاہ سے چار قدم آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر انہیں اپنے گھر اور اپنے ہمسائے کی تکلیف تک نظر نہیں آتی۔ ابھی ایک روز پہلے پنجاب کے انتہائی دریدہ دہن اور تہذیب سے نا آشنا وزیر اطلاعات “ فیا ض الحسن چوہان “ نے شاہ کی وفاداری میں پنجاب کے غیر فعال وزیر اعلی “ عثمان بزدار “ کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ “ بزدار کے کارناموں سے کون ناواقف ہے اور بزدار اس عہد کا شیرشاہ سوری ہے جس کی تعریف کرتے ہوئے لوگوں کی زبان میں چھالے پڑ جاتے ہیں “ ۔ مجھے تو خوشی اس بات کی ہے کہ عمران حکومت نے مرکز میں فردوس عاشق اعوان اور پنجاب میں فیاض الحسن چوہان کو وزیر اطلاعات رکھ کے اپنا معیار گرنے نہیں دیا۔
پاکستان کی تاریخ میں ایسے بدزبان اطلاعات کے وزیر شاید ہی کوئی آیا ہو ۔ اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ عمران حکومت نے پہلے دن سے عوام کی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے سیاسی مخالفین سے انتقام کی پالیسی بنا رکھی ہے ۔ فیاض الحسن چوہان اگر میٹرک بھی پاس کر لیتے تو بھولے سے بھی بزدار کو شیرشاہ سوری سے نہ ملاتے کہ شیر شاہ سوری کی موت خود اپنی ہی ایجاد کردہ توپ سے ہوئی تھی۔ اللہ نہ کرے بزدار کے لئے یہ چوہان شیرشاہ سوری کی توپ ثابت ہو۔
مجھے احساس ہے کہ میری گفتگو قدرے طوالت پکڑ رہی ہے مگر کبھی سوچیئے ہم جیسے لوگ جو بیرونی ممالک میں انصاف ، سکون ، اور قانون پر عمل درآمد کی بہتر زندگی گزار رہے ہیں ان پر کیا عذاب ہے کہ وہ ملک کے بارے میں سوچیں ، پھر لکھیں ، اور پھر دولے شاہ کے چوہوں والی سوچ کے لوگوں سے بے مقصد اور بے نتیجہ بحث بھی کریں ۔ عمران خان سمیت کوئی بھی حکومت اگرچہ ہمیں ووٹ کا حق بھی نہیں دے سکی لیکن زرمبادلہ کے لئے ان کی سب سے بڑی فیکٹری ہم جیسے لوگ ہی ہیں ۔ یہ بھی سچ ہے دور رہ کر تصویر زیادہ صاف نظر آتی ہے اور ملک سے محبت قدرے زیادہ ہو جاتی ہے اس لیئے مجھ جیسے لوگ ملکی حالات و واقعات پر نظر رکھنے اور اظہار خیال کرنے سے گھبراتے نہیں ۔ میں نے کل اپنے فیس بک اسٹیٹس پر لکھا تھا “ بزدار کے ایسے کونسے کارنامے ہیں جو صرف عمران خان کو نظر آتے ہیں اور باقی آنکھوں والے اسے دیکھ نہیں پاتے “ اس پر وہ سنیں کہ الاماں ۔ ہم بھی چاہتے ہیں پاکستان ترقی کرے ، عوام کی مشکلات حل ہوں ، دنیا میں ہمارا نام بھی نیک ہو مگر اس کے لئے حکومتوں کو مفاد سے بالا ہو کر کام کرنا پڑتا ہے ۔
ہماری معیشت کی کیا حالت ہے
ہمارا سماج کس رخ پر رواں دواں ہیں
ہمارے نوجوان کسی بے سمتی کا شکار ہیں
غربت زدہ مزید غربت زدہ ہو رہا ہے
شہروں کی کثافت دلوں میں اتر چکی ہے
ایک بڑا طبقہ خود غرضی کاشکار جو صرف اپنی مرضی کی تصویر دیکھنا چاہتا ہے
لوگوں کا عدل و عدالت سے اعتماد اٹھتا چلا جا رہا ہے
چند جرنیلوں کی وجہ سے فوج کا پورا ادراہ بدنام ہو رہا ہے
اور ستم یہ کہ ننگے بادشاہ کو یہ پختہ یقین ہے کہ لوگ اس کے جسم پر بہترین لباس دیکھ رہے ہیں ۔
آخر میں فیاض الحسن چوہان ، برادر خورد عمران خان ، وزیر بے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور آپ کی ٹیم میں شامل ہر اس رکن کے لئے جو شہروں میں شیلٹر ہوم اور لنگر خانے کھولنے کی تعریفوں میں رات دن مصروف ہیں ۔ صرف یہ ایک اطلاع ہے لاہور کی ایک سڑک کے کنارے ، ایک ٹوٹی ہوئی کار میں “ عذرا آپا “ نامی کی ایک ایسی تعیلم یافتہ اور خاندانی عورت ، تین بلیوں کے ساتھ عرصے سے مقیم ہے ۔ کیا پنجاب کے یا وفاق کے لنگر خانے یا شیلٹر ہوم کے کسی بھی انچارج کو سڑک پر دم توڑتی اور رسوا ہوتی انسانیت کا علم ہے ۔۔ عذرا آپا برطانیہ میں بہت بڑے بینک کی ملازم تھیں ، ایک سے ذائد ایم اے کیئے ہوئے ہیں ، ان کے نانا نے لاہور کی “ کیولیری گراؤنڈ “ بنائی تھی ۔ ان کے بہت بڑے بوتیک کے بزنس میں حسب روایت پاکستانیوں نے دھوکہ دیا ، ان کی کروڑوں کی جایئداد صفر ہو گئی اور وہ زمین پر آ گیئں ۔ عہد حاضر کے شیر شاہ سوری کو عذرا آپا سے فوری رابطہ کرنا چاہیئے۔
ملک میں معصوم بچیوں کے ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات ، ٹماٹر کی قیمت سے بہت بڑا مسلہ ہے جو حکومت کے اندھے بہرے اور گونگے لوگوں کے لئے بیشک نہ ہو، لیکن وہ لوگ جو “ اسلام عورت کو عزت دیتا ہے “ کہ نعرے لگانے والے ہیں ، وہ اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں
کیا عہد جہالت میں پیدا ہوتے ہی زمین میں دفن کر دی جانے والی بچی ، ان بچیوں سے زیادہ خوش قسمت نہیں تھی ، جنہیں آج ریپ بھی کیا جاتا ہے ، قتل بھی کیا جاتا ہے ، اور سنگسار کر کے کسی ویرانے میں پھینک دیا جاتا ہے ۔
اے کاش ملک کا کوئی مفتی ، کوئی قاضی ، کوئی عالم دین ، کوئی چیف جسٹس ، کوئی اہل قلم ، کوئی دانشور یا پھر صرف کوئی زندہ ضمیر انسان ہی میری آواز کو سن سکے !
ڈاکٹر نگہت نسیم













