اگر ریاست اپنی رٹ قائم کرنا چاہے تو اسکی راستے میں آنے والے پہاڑ بھی نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔جو ریاستیں اپنی رٹ قائم نہیں رکھ پاتی ہیں وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتیں ۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ہم سنتے ، پڑھتے آئے ہیں کہ آئین و قانون کی پاسداری ہر محب وطن شہر کا فرض ہے۔ یہ بھی پڑھایا گیا کہ ریاست کی طاقت کے سامنے کوئی طاقتور نہیں ۔ ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کیی جا سکتا ، جو بھی ریاست کی رٹ کو للکارے وہ عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔
اس حوالے سے بیشمار مثالیں دی جا سکتی ہیں ایوب خان کے دور میں غنڈہ ایکٹ لگا تو بزرگ شہری جانتے ہیں صورتحال کیا بنی تھی۔
شیخ مجیب الررحمان کو بے پناہ عوامی حمایت حاصل تھی لیکن ریاست نے اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے شیخ مجیب کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی پذیرائی کی دنیا شاہد ہے لیکن آمر ضیاء نےاپنی انا کے لیے ریاست کی رٹ کے نام سے اسے تختہ دار پر چڑھا دیا۔ پھر جنرل مشرف نے بےنظیر بھٹو اور نواز شریف کے خلاف بھی ریاستی طاقت استعمال کی گئی لیکن کسی سے مزاحمت نہ کی۔
اس حوالے سے مذید پتا چلتا ہے کہ ریاستی مشینری کی طاقت کیا ہوتی ہے اس کی ایک بڑی مثال ہمیں دو ہزار سترہ میں بھارت میں دیکھنے میں آئی جب ایک روحانی پیشوا گُرو گرمیت رام کو زیادتی کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی کوشش میں پورے ملک میں ہنگامے شروع ہوگئے۔ گُرو کو نہ صرف حکومت میں شامل اہم شخصیات، طبقہ اشرافیہ اور عورتوں کی
بڑی تعداد لاکھوں مریدوں کی عملی مدد حاصل تھی۔ پولیس کے ساتھ نیم فوجی اور فوجی دستوں کی مدد حاصل کی گئی، کئی مقامات پر کرفیو لگا کر انٹر نیٹ سروس معطل کردی گئی، زبردست ہنگاموں اور گھیراؤ جلاؤ کے دوران لگ بھگ دس لاکھ مشتعل مظاہرین سڑکوں پر تھے۔ ہزاروں املاک اور گاڑیاں جلا دی گئیں مگر ایکشن جاری رہا 45 سے زیادہ مرید مارے گئے۔ پولیس نے آشرم میں داخل ہوکر گرو گرمیت سنگھ گرفتار کرلیا۔ اسے پہلے خصوصی جیل میں رکھا گیا اور مقدمات چلائے گئے۔ فیصلے والے دن گُرو کو روہتک جیل کے اندر قائم خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وہ ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے معافیاں مانگتا رہا تاہم جرم ثابت ہونے پرعدالت نے اسے دو مختلف مقدمات میں 10،10 سال کی قید سنا دی۔ سزا سننے کے بعد گرو زمین پر بیٹھ گیا اور کمرے سے نکلنے سے انکار کر دیا۔
جس کے بعد اہلکاروں نے گھسیٹ کر روم سے نکالا۔گُرو گرمیت کا واقعہ محض ایک مثال ہے کہ ریاستی مشینری کسی قانون شکن کے خلاف کوئی ایکشن لینے کا فیصلہ کرلے تو عمل درآمد ہوکر رہتا ہے۔
لیکن پچھلے چند دنوں سے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کی جانب سے اسلام آباد کی سیشن عدالت کی جانب سے طلب اور اسکے لیے جاری ور انٹ گرفتاری کو مسلہ بنایا ہے۔ اس راہنما کا دعوی ہے کہ وہ مغرب اور مغربی جمہوریت کو بہت قریب سے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ عدالتوں میں جھتوں کے ساتھ پیش ہو رہے ہیں ن۔ان میں جھتوں تربیت یافتہ مسلح لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
حکومت پھر بھی تحمل ، بردباری سے کام لے رہے ہے ورنہ وہ چاہے تو منٹوں اس راہنما کو عدالت میں پیش کر سکتی تھی لیکن شائد حکومت کے پیش نظر اپنی رٹ قائم کرنے ، اور عدالتی احکامات کی تعمیل کی بجائے عمران خاں کے ردعمل ڈھال بنا کر الیکشنز ملتوی کرانا تھا۔
جس میں حکومت کامیاب رہی ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ عمران خاں کامیاب ہوا ہے وہ درست نہیں کہہ رہے کیونکہ عمران خاں پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی تخلیل ہونے کے بعد سے مسلسل کہتے رہے ہیں کہ حکومت کا الیکشنز کرنے کا ارادہ نہیں اس لیے عمران خاں کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہئے تھا۔













