ملک میں حکومت مخالف سرگرمیاں عروج پر ہیں اور انہیں غیر فعال و غیر مؤثر کرنے کیلئے حکومت کی جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں، گو کہ یہ صورتحال کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں کہ معاشی بدحالی کا شکار ایک ایسا ملک جس کے بارے میں کل تک دیوالیہ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا کیا وہ ان حالات میں جمہوریت کے نام پر سیاسی عیاشی کا متحمل ہوسکتا ہے؟
اس قومی المیے کے محرکات و مضمرات سے بے نیاز حکومت گرانے اور بچانے کیلئے یہ عمل پوری شدت سے جاری ہے جسے جمہوریت کا حسن، آزادی اظہار اور اپوزیشن کا استحقاق قرار دیکر مہنگائی کے بوجھ میں دبے لوگوں کی چیخوں کو سیاسی نعروں میں دبایا جارہا ہے۔
اس سارے ماحول میں پاکستانی سیاست کے اہم کردار سابق صدر آصف علی زرداری کی خبروں میں گمشدگی کو شدت سے محسوس کیا جارہا ہے گو کہ انکا میڈیا سیل اہم مواقع کی مناسب سے ان سے منسوب بیانات جاری کرکے انکے فعال ہونے کا احساس دلاتے رکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔












