پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اسد عمر نے حکومت سے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت انتخابات کی تاریخ دے اور معاملہ حل کرے، شہباز شریف کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کس نے لا کر بٹھا دیا ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر نے دھواں دھار اننگ کھیلی اور توپوں کا رخ مخالفین کی جانب رکھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بنی گالا میں پولیس کی بھاری نفری اور قیدیوں کی وین سمیت متعدد گاڑیاں آئیں، پولیس کا موقف تھا سیکیورٹی سروے کرنے آئے ہیں اور انہیں علم تھا عمران خان یہاں نہیں ہیں لیکن یہ یہاں کیوں آئے تھے، شاید عمران خان کو ڈرانے آئے تھے۔ عمران خان کو تھریٹ ہے سیکیورٹی کے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت سوچ رہی ہے ایسے ہتھکنڈوں سے ہم ڈر جائیں گے؟۔

اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ روز جمعہ 20 مئی کو مجھے سینیر افسر کی کال آئی اور کہا گیا کہ ملتان میں عمران خان کو خطرہ ہے اور افسر نے کہا اسٹیج پر بلٹ پروف شیشہ استعمال کریں کیونکہ مجھے حکومت سے عمران خان کو تھریٹ کا خط موصول ہوا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایک بلٹ پروف گاڑی حکومت دے گی باقی انتظامات پارٹی کرے۔ حکومت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ عمران خان کی سیکیورٹی حکومت کی ذمے داری ہے، ‏غیر حکومتی شخصیت کی حفاظت حکومت کرسکتی ہے تو عمران خان کی کیوں نہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جتنی طاقت کا مظاہرہ کرے گی، اتنا ردعمل آئے گا، حکومت کے پاس نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ انتخابات کرائے۔ ‏قیادت سے کیا ڈرنا ہمارا کوئی ورکر بھی ڈرنے والا نہیں، ‏تحریک انصاف پر امن سیاست پر یقین رکھتی ہے لیکن اگر عمران خان کے خلاف کچھ ہوا ملک میں رد عمل کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے حکومت سے الیکشن کی تاریخ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتخابات کی تاریخ دے اور معاملہ حل کرے۔ شہباز شریف پر ترس آ رہا ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے لیکن اب یہاں سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ انتخابات ہیں۔ شہباز شریف کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اسے کس نے لا کر بٹھا دیا ہے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے کہا کہ صورت حال کا واحد حل يہ ہی ہے کہ اليکشن کا اعلان کيا جائے، شريف خاندان کا فارمولا ہے کہ اقتدار ميں آؤ، لوٹ مار کرو، کيسز بند کرو اور بھاگ جاؤ، یہ لوگ کبھی ٹيکنيکل چيزوں کے پيچھے چھپتے ہيں اور کبھی اين آر او ليتے ہيں۔

عدالتی عظمی کے احکامات کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیر مملکت نے کہا ایک جانب سپريم کورٹ نے تبادلے اور تعيناتيوں پر پابندی لگا دی ہے، مگر یہ حکومتی نمائندے اپنے چيمبر کے وکيل کو اسپيشل پراسيکيوٹر تعينات کر رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY