برطانیہ کے پارلیمانی انتخابات جیتے کے بعد، قوم سے اپنے پہلے خطاب میں قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے انھیں انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ اس حمایت کے نتیجے میں’’ 31 جنوری کو برطانیہ یورپی یونین کا حصہ نہیں رہے گا‘‘۔
بورس جانسن کا انتخابی نعرہ تھا ’گیٹ بریگزٹ ڈن‘، اور انھوں نے عہد کیا ہے کہ اب نہ صرف تعطل دور ہوگا بلکہ صحت، تعلیم اور پولیس کے لیے زیادہ رقوم مختص کی جائیں گی۔
ان کی کنزرویٹو پارٹی کو ملنے والی کامیابی 1987ء میں مارگریٹ تھیچر کو ملنے والی کامیابی کے بعد سب سے واضح اکثریت کے ساتھ حاصل ہونے والی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
بورس جانسن نے 365 نشستیں حاصل کی ہیں، جو کہ ان کے حریف سوشلسٹ لیبر پارٹی کے جیرمی کوربین سے 80 نشستیں زیادہ ہیں، جنہیں 203 نشستیں حاصل ہو سکیں۔
جمعرات کو منعقد ہونے والے قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 15 پاکستانی نژاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، 650 کے ایوان میں کنزرویٹو پارٹی نے 364 نشستیں حاصل کر لی ہیں، جب کہ لیبر پارٹی 203 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
برطانیہ کے 650 نشستوں پر مشتمل ایوان میں کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے جس کے بعد برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کا طویل مدتی انتظار بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد جمعرات کو تیسری مرتبہ عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
سامنے آنے والے نتائج کے مطابق، اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 48، لبرل ڈیموکریٹس نے 11، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے آٹھ، سن فین نے چھ، پلیڈ کیمرو نے چار اور گرین پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
……………………..
بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی نے اپنی تاریخی فتح پر آئندہ جنوری میں بریگزٹ (یعنی برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی) کا وعدہ کر دیا ہے۔
برطانیہ میں حکومت سازی کے لیے دارالعوام میں 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور عام انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ٹوری پارٹی نے 364 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کو ایوان میں 78 ارکان کی اکثریت حاصل ہوگئی ہے اس لیے وزیراعظم بورس جانسن حکومت سازی کے لیے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کر رہے ہیں۔
یہ 1987 میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت کے بعد سب سے کنزرویٹو پارٹی کی بڑی اکثریت سے جیت ہے۔
صرف ایک نتیجہ آنا باقی ہے اور کنزرویٹو پارٹی نے 364 نشستیں جبکہ لیبر پارٹی کو 203، سکاٹش نیشنل پارٹی کو 48، لبرل ڈیموکریٹس کو 11 اور ڈی یو پی کو آٹھ پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
اپنی جماعت کی جیت پر وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ان نتائج سے انھیں ’بریگزٹ کے لیے مینڈیٹ مل گیا ہے۔‘ بورس جانسن کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ماہ تک برطانیہ کو یورپی یونین سے نکال لیں گے۔
………………….
برطانیہ کے قبل از وقت عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔
جمعرات کو ہونے والی پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق 650 کے ایوان میں کنزرویٹو پارٹی نے 364 نشستیں حاصل کر لی ہیں جب کہ لیبر پارٹی 203 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
برطانیہ کے 650 نشستوں پر مشتمل ایوان میں کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 326 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
کنزرویٹو پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے جس کے بعد برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کا طویل مدتی انتظار بھی ختم ہونے کا امکان ہے۔
برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد جمعرات کو تیسری مرتبہ عام انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
گزشتہ روز ہونے والی پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بعد مختلف حلقوں سے نتائج بھی آ رہے ہیں۔
اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 48، لبرل ڈیموکریٹس نے 11، ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے آٹھ، سن فین نے چھ، پلیڈ کیمرو نے چار اور گرین پارٹی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
اس سے قبل ایگزٹ پولز میں امکان ظاہر کیا جارہا تھا کنزرویٹو پارٹی 368 اور لیبر پارٹی کو 191 نشستیں مل سکتی ہیں۔
لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربین نے انتخابات کے مکمل نتائج کی آمد سے قبل ہی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے۔
جیریمی کوربین کے اعلان سے خیال کیا جارہا ہے کہ لیبر پارٹی نے شکست تسلیم کر لی ہے۔
وزیرِ اعظم بورس جانسن اپنی انتخابی مہم کے دوران، ‘بریگزٹ ممکن بنایا جائے گا’ کا اعلان کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اپنی قدامت پسند پارٹی کے لیے پارلیمانی اکثریت کا حصول ان کی منزل مقصود ہے، جس سے اُنہیں یہ طاقت میسر آئے گی کہ وہ یورپی یونین کو خیرباد کہنے والی کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے اور 31 جنوری تک بریگزٹ پر عمل درآمد ہو گا۔
یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم تھریسامے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاہدے کو پارلیمان سے منظور کرانے میں ناکام رہی تھیں۔
اپنے دورِ اقتدار کے دوران تھریسامے نے ‘بریگزٹ’ کے لیے مذاکرات میں مضبوط حیثیت کے حصول کے لیے قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کیا، لیکن یہ فیصلہ ناکام رہا اور کنزرویٹو پارٹی کو کئی نشستوں پر شکست ہوئی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
برطانیہ میں پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ رات دس بجےختم ہو گئی، انگلینڈ، ویلز، اسکاٹ لینڈ اور نارتھ آئرلینڈ میں 650 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، ووٹنگ صبح سات سے رات دس بجے تک جاری رہی
رائے عامہ کے جائزے کے مطابق کنزرویٹو کو 368نشستیں ملیں گی جبکہ لیبر کو 191
ایس این پی 55نشستیں۔ اس طرح لیبر کو اکہتر کم ملیں گی اور کنزرویٹو کو پچاس زیادہ
برطانیہ میں ہونے والے انتخابات کے نتائج سے بریگزٹ کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔ 650 انتخابی حلقوں پر مشتمل برطانوی ایوان نمائندگان کے لیے ٹوٹل تین ہزار تین سو بائیس امیدوار میدان میں ہیں جن میں ستر مسلمان امیدوار بھی شامل ہیں۔
حکومت بنانے کے لیے 326 ارکان کی تعداد درکار ہو گی۔ انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ہونے والے انتخابات میں 4 کروڑ 57 لاکھ سے زائد افراد اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق نتائج جمعے کی صبح آنا شروع ہو جائیں گے۔ ووٹنگ کےدوران پولنگ اسٹیشن کے اندر سیلفی اور فوٹو لینے پر پابندی تھی۔
انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹس، گرین پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی اور ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی اہم سیاسی جماعتیں ہیں۔ تاہم اصل مقابلہ دو بڑی جماعتوں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی کنزرویٹو پارٹی اور اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کی لیبر پارٹی کے درمیان ہے۔
برطانیہ میں ہونے والے انتخابات گذشتہ 5 سال کے دوران ہونے والے تیسرے الیکشن ہیں۔ نئے الیکشن کے لیے ووٹنگ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پرکی گئی۔ انہیں امید ہے کہ نئے انتخابات کے ذریعے انہیں عوام دوبارہ زیادہ مینڈیٹ دیں گے جس کے ذریعے وہ بریگزٹ ڈیل اور پارلیمانی ڈیڈلاک کو ختم کر سکیں گے۔













