پاکستان نیوی کے سربراہ۔ وائس ایڈمرل حسن حفیظ احمد

(23 / دسمبر 1971 تا 9 / مارچ 1975)

پاک بحریہ کے چھٹے سربراہ وائس ایڈمرل حسن حفیظ احمد 1925ء میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے 1945ء میں رائل انڈین نیوی میں شمولیت اختیار کی اور قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاک بحریہ میں کمیشن حاصل کیا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا۔ 23 / دسمبر 1971ء کو وائس ایڈمرل مظفر حسن کی جبری سبکدوشی کے بعد وہ پاکستان بحریہ کے کمانڈر انچیف بنے اورجب پاکستان کی مسلح افواج میں کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کیا گیا تو 3 / مارچ 1972ء کو وہ پاکستان بحریہ کے پہلے چیف آف اسٹاف بن گئے۔ وہ ابھی اپنے اس عہدے پر کام کر رہے تھے کہ9 / مارچ 1975ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
——————————

سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی پیدائش

*سید عطاء اللہ شاہ بخاری 23 / دسمبر 1892ء کو اپنی ننھیال پٹنہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد امرتسر آگئے جہاں مفتی غلام مصطفی قاسمی سے صرف ونحو اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1915ء میں پیر سید مہر علی شاہ آف گولڑہ شریف کے ہاتھ پر بیعت کی۔ پہلے تحریک خلافت کے مخالف تھے مگر پھر سید دائود غزنوی کے دلائل سے قائل ہوکر اس تحریک کے حامی بن گئے جس میںان کی خطابت نے جان ڈال دی۔
1921ء میں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ مارچ 1930ء میں لاہور میں ایک جلسے میں علامہ سید انور شاہ کاشمیری نے انہیں ’’امیر شریعت‘‘ کا خطاب دیا اور آپ کے ہاتھ پر ہزاروں افراد کے ہمراہ بیعت جہاد کی۔ آپ نے تحفظ ختم نبوت کی تحریک میں بھی فعال حصہ لیا۔ 1931ء میں ’’مجلس احرار الاسلام‘‘ قائم ہوئی تو اس میں شامل ہوگئے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری، تحریک پاکستان کے مخالفین میں شامل تھے مگر قیام پاکستان کے بعد انہوں نے یہ مخالفت ترک کردی۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری ملتان میں قبرستان جلال باقری، باغ لنگے خان میں آسودۂ خاک ہیں۔ آپ شاعری میں ندیم تخلص کرتے تھے اور آپ کا مجموعہ کلام ’’سواطع الالہام‘‘ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔
————————-
نورجہاں کی وفات

٭ پاکستان کی نامور اداکارہ اور گلوکار ملکہ ترنم نورجہاں کی تاریخ پیدائش 21 / ستمبر1926ء ہے۔
ملکہ ترنم نورجہاں کا اصل نام اللہ رکهی تھا اور محلہ کوٹ مراد خان، قصور میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی کا آغازبطور چائلڈ اسٹار 1935ء میں کلکتہ میں بننے والی فلم ’’شیلا عرف پنڈ دی کڑی‘‘ سے کیا۔ چند مزید فلموں میں کام کرنے کے بعد 1938ء میں وہ لاہور واپس آگئیں جہاں انہوں نے فلم ساز دل سکھ پنجولی اور ہدایت کار برکت مہرا کی فلم ’’گل بکائولی‘‘ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

یہی وہ فلم تھی جس سے بطور گلوکارہ بھی ان کی شہرت اور مقبولیت کا آغاز ہوا، اس کے بعد انہوں نے فلم ’’یملا جٹ‘‘ اور ’’چوہدری‘‘ میں کام کیا۔ 1941ء میں موسیقار غلام حیدر نے انہیں اپنی فلم ’’خزانچی‘‘ میں پلے بیک سنگر کے طور پر متعارف کروایا۔ 1941ء میں ہی بمبئی میں بننے والی فلم ’’خاندان‘‘ ان کی زندگی کا ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔ اسی فلم کی تیاری کے دوران ہدایت کار شوکت حسین رضوی سے ان کی محبت پروان چڑھی اور دونوں نے شادی کرلی۔

قیام پاکستان سے پہلے ان کی دیگر معروف فلموں میں،دوست، لال حویلی، بڑی ماں، نادان، نوکر، زینت، انمول گھڑی اور جگنو کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے فلم ’’چن وے‘‘ سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انہوں نے دی تھیں۔ بطور اداکارہ ان کی دیگر فلموں میں گلنار، دوپٹہ، پاٹے خان، لخت جگر، انتظار،نیند، کوئل، چھومنتر، انار کلی اور مرزا غالب کے نام شامل ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کرکے خود کو گلوکاری تک محدود کرلیا۔ ایک ریکارڈ کے مطابق انہوں نے 995 فلموں کے لئے نغمات ریکارڈ کروائے جن میں آخری فلم ’’گبھرو پنجاب دا‘‘ تھی جو 2000ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ ح

کومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ’’نشان امتیاز‘‘ عطا کیا تھا جبکہ ان کے مداحین نے انہیں ملکہ ترنم کا خطاب عطا کیا تھا۔
ملکہ ترنم نورجہاں 23 / دسمبر 2000ء کو دنیا سے رخصت ہوئیں اور کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔
—————————
فلم ’’سہیلی‘‘ ریلیز ہوئی

٭23 / دسمبر 1960ء کو فلم سہیلی ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے پروڈیوسر ایف ایم سردار اور ایس ایم یوسف اور ہدایت کار ایس ایم یوسف تھے۔ موسیقی اے حمید نے ترتیب دی تھی کہانی حسرت لکھنوی نے لکھی تھی جب کہ فلم کے نغمہ نگار فیاض ہاشمی تھے۔ فلم سہیلی کے مرکزی کردار شمیم آراء‘ نیر سلطانہ‘ درپن اور اسلم پرویز نے ادا کیے تھے۔
فلم سہیلی کئی حوالوں سے بڑی یادگار فلم قرار پائی جن میں سب سے بڑا حوالہ تو یہی تھا کہ اس سال حکومت پاکستان نے صدارتی ایوارڈز کا اجرا کیا جن میں سب سے زیادہ یعنی پانچ ایوارڈز فلم سہیلی کو ملے۔ ان ایوارڈز میں بہترین فلم‘ بہترین ہدایت کار (ایس ایم یوسف) بہترین اداکارہ (شمیم آراء) بہترین ساتھی اداکار (طالش) اور بہترین ساتھی اداکارہ (نیر سلطانہ) کے ایوارڈز شامل تھے۔
یہی نہیں‘ بلکہ فلم سہیلی نے چار نگار ایوارڈز بھی حاصل کیے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ صدارتی ایوارڈز میں شمیم آرا کو بہترین اداکارہ کا اور نیر سلطانہ کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ ملا تھا جب کہ نگار ایوارڈز میں نیر سلطانہ کو بہترین اداکارہ کا اور شمیم آراء کو بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیاجسے شمیم آراء نے بطور احتجاج قبول کرنے سے انکار کردیا ۔فلم سہیلی میں ایس ایم یوسف کو بہترین ہدایت کار کا اور اداکار درپن نے بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ یوں فلم سہیلی نے مجموعی طور پر پانچ صدارتی اور چار نگار ایوارڈز حاصل کیے۔
——————————–

شاہزاد خلیل کی وفات

٭23 / دسمبر 1989ء کو پاکستان ٹیلی وژن کے ممتاز پروڈیوسر شاہزاد خلیل حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے کراچی میں وفات پاگئے۔
شاہزاد خلیل 1944ء میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن کے چند نمایاں ڈرامہ پروڈیوسرز میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے مشہور ڈراموں اور ڈرامہ سیریلز میں پلیٹ فارم، سایہ، پناہ، پناہ 2، تیسری منزل، تیسرا کنارا، تنہائیاں، راشد منہاس اور دھوپ کنارا کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا تھا، جن میں کئی پی ٹی وی ایوارڈز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی شامل تھا۔ ان کے انتقال کے بعد کراچی کی ایک سڑک کو بھی ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔
شاہزاد خلیل کراچی میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY