پاکستان میں منکی پوکس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکام کو ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدوں پر اسکریننگ کے نظام کو مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت ہفتے کو منکی پوکس سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کے دوران حکام نے وبا کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ حال ہی میں ضلع مردان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں منکی پوکس وائرس کی تصدیق ہوئی جو روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم تھا اور حال ہی میں پاکستان آیا تھا۔

حکام کے مطابق متاثرہ شخص کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے جب کہ پاکستان میں اس وقت منکی پوکس کی لوکل ٹرانسمیشن نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے بدھ کو منکی پوکس کو پبلک ہیلتھ ایمرجینسی قرار دیا تھا جس کے بعد پاکستان میں شعبۂ صحت کے نگراں ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے نیشنل ایڈوائزری بھی جاری کی تھی۔

ماہرین کے مطابق منکی پوکس بیماری کی علامات عمومی طور پر چیچک سے ملتی جلتی ہیں اور یہ علامات ایک سے دو ہفتوں کے دوران سامنے آتی ہیں۔

منکی پوکس سے متاثر ہونے کے بعد ابتدائی طور پر بخار اور جسم ٹوٹنے کے ساتھ ساتھ قے بھی ہوتی ہے جس کے بعد خاص طور پر ہاتھوں اور چہرے پر چیچک جیسے دانے نمودار ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر سرخ رنگ کے دانے ہوتے ہیں اور خارش ہوتی ہے۔ بعد ازاں یہ دانے پھنسی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ان میں رطوبت رستی ہے جس سے انفیکشن ایک فرد سے دوسرے شخص کو منتقل ہو سکتا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے منکی پوکس کو پبلک ہیلتھ ایمر جینسی قرار دیے جانے کے بعد پاکستان میں بھی اس بیماری کے حوالے سے کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے ہوائی اڈوں، بندر گاہوں اور سرحدوں پر منکی پوکس کی اسکریننگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY