سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلے پر نواز شریف اور ان کے بچوں کی نظر ثانی اپیلوں کی سماعت جاری ہے،جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کا جائزہ لیا جاسکتاہے ، آپ کے پاس موقع ہوگا گواہان اور جے آئی ٹی ارکان سے جرح کرسکیں ۔
نظر ثانی اپیلوں کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ کر رہا ہے، جس میں جسٹس گلزاراحمد ، جسٹس اعجاز افضل خان جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل خواجہ حارث اور حسن، حسین اور مریم نواز کی جانب سے سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پانچ رکنی بنچ نے جو حتمی حکم دیا وہ بنچ صحیح نہیں بنایا گیا، 20اپریل کے فیصلے کو حتمی فیصلے کا حصہ بھی نہیں بنایا گیا، فیصلے دینے والے دو ججز پاناما عملدر آمد بنچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے کیونکہ دو معزز ممبران پہلے فیصلہ دے چکے تھے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نہ شوکاز نوٹس دیا گیا اور نہ ہی موقع دیا گیا کہ وہ وضاحت کریں، درخواست گزارکو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ عدالت نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے سکتی تھی؟ تحقیقات اور ٹرائل کے لیے مانیٹرنگ جج کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔
سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو پاناما کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے نیب کو نواز شریف، ان کے بچوں اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے احکامات جاری کئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY