زندگی دھیرے دھیرے آگےبڑھتی رہی ۔لگتا ہے اس وقت، وقت بڑی سست روی سے آگے بڑھتا تھا ۔کاپیوں پر تاریخ لکھ لکھ تھک جاتے تھے سال ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔سردیوں کی شامیں بہت طویل اور اداس ہوتیں ۔ان طویل اداس سی شاموں میں ریڈیو ہی ایک واحد تفریح تھی ۔لیکن شام کے وقت ڈیڈی زیادہ تر بی بی سی ریڈیو سنا کرتے
ہمیں ریڈیو لگانے یا یوں کھلے بندوں گانے سننے کی جرآت واجازت دونوں نہیں تھیں ۔سو ریڈیو پر تبصرے سنتے ہوئے

ریڈرز ڈائجسٹ کی ورق گردانی کرتے ہوئے تصویریں دیکھا کرتی ۔تب یہ ڈائجسٹ کافی ضخیم اورکاغذ بہت اعلی معیار کاہوتا ۔گھر میں چار چار اخبار آتے ۔صبح کے اخبار میں کوہستان، انجام، وغیرہ شام کو حریت کراچی آتا ۔فخر ماترے اس کے ایڈیٹر تھے ۔اورکیا میعارتھا ۔جب تک پڑھنا نہیں سیکھا تھا ۔اخبار میں تصاویر دیکھنا اور کہانی بنالینا میرا محبوب مشغلہ تھا۔پھر یہ سب پڑھنے کے شوق میں، میں نے دوسری جماعت کے اختتام تک پڑھنا سیکھ لیا ۔اور میرے لئے گویا خوشی کے کئ در وا ہو گئے ۔ہر اخبار میں بچوں کا صفحہ الگ سے ہوتا ۔اس کے علاوہ سکول آتے جاتے آنہ لائبریری راستے میں پڑتی تھی ۔جہاں روزانہ ایک کتاب لے کرآتی ۔کوہ قاف، پریوں اورشہزادوں والی کہانیوں کی کتاب میرے بستے میں کیا ہوتی مانو کوئی خزانہ ہوتا ۔شاید خزانہ بھی اتنی خوشی نہ دے سکے ۔جتنی اس وقت کہانی کی اس مختصر سی کتاب سے ہوتی ۔اسے پڑھنے کی خوشی میں، پہلے ساراپڑھای کاکام ختم کرتی۔پھر اطمینان سے پڑھتی ۔یہ بھی غم ہوتا کہ یہ کتاب جلد ختم ہو جائے گی ۔لہذا پہلے سارے کام ختم کرتی ۔یہ تسلی اورخوشی کہ کتاب میرے پاس موجود ہے ۔یقین مانیے میں اس خوشی کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنا سکتی ۔جو اس وقت میرے سارے وجود اوردل ودماغ پر چھائی ہوتی ۔میری نظم میری پہلی محبت “اسی جذبے کی عکاسی کرتی ہے ۔اور آج بھی کوئی نئی کتاب خرید کر خوشی ملتی ہے ۔میں نے پہلے ذکر کیا تھا ۔کہ اپنے والدین اوربہن بھائیوں سے الگ تھلگ ننھیال میں پلی بڑھی ہوں ۔جہاں بہت ساری خالائیں ماموں وغیرہ وغیرہ موجود تھے ۔جو ہر طرح سے میرے لاڈ اٹھاتے مجھے اپنے ساتھ باہر لے کر جاتے ۔تختی پر کچا کر کے دیتے قلم تراش کر دیتے ۔مگر یہ سب بڑے تھے اپنے ہم عمر بہن بھائی لڑنا جھگڑنا یہ سب نہیں تھا ۔سو میں نے اپنے بچپن میں کوئی خاص کھیل نہیں کھیلے ۔سواے گیند گیٹی اور چیندرو(زمین پر خانے بناکر پالش کی ڈبی سے کھیلنا ) کے وہ بھی بہت کم ۔گڑیاں بھی کم کم سو ایسے میں کتابیں میری دوست ساتھی رہنما استاد غمگسار سب کچھ رہیں
کتابیں، رسالے اخبار کے علاوہ لفافے اورپڑیاکےکاغذ بھی (تب یہ شاپر نہیں تھے )پسندیدہ اورکبھی کبھی ان میں ایسے درنایاب کہ پڑھ کر سواد آجاے زندگی میں کتنے اچھے دوست عزیز ازجان رشتے بچھڑ گئے ۔ایک کتاب ہے ۔کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کے بےکیف دنوں کو بھی پر کیف بناے ہوے ہے ۔اور اب دعائیں مانگتے ہوئے اپنے رب سے سرگوشیوں میں دعاء نیم شب میں دل کی گہرائیوں سے دعا ،التجا کرتی ہوں کہ اے میرے سوہنے رب تیرے خاص رحم و کرم سے عمر کی اس منزل تک بخیر و عافیت آپہنچی ۔انگنت نعمتوں کے لیے تشکر بسیار وبےشمار بس میری بینائی قائم رکھنا ۔تاکہ پڑھنے کی نعمت سے محروم نہ ہوں ۔اور۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔کیا ہی مزا ہو کہ تیری معجز نما کتاب پڑھتے ہوئے حاضری ہو ۔بلکہ قبر میں بھی قرآن پڑھتی رہوں ۔۔۔۔۔۔۔
ذرا سا تو دل ہوں مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
دل تو دل ہےنا ۔اپنی بساط سے بڑھ کر طلب کرتا ہے ۔پر دینے والے کی بھی کیا شان ہے ۔دل کی باتیں سنتا ہے اور طلب سے بڑھ کر نواز دیتا ہے ۔
تیری اونچی شان ہے مولا
آپ پڑھ کر مسکراییں نہیں آمین کہہ دیں کیا پتہ آپ کی آمین سے دل کی مراد بر آے
اوہو کتابوں کاتذکرہ کرتے کرتے کس دنیا میں جا نکلی ۔چلئے ایک بار پھر مستقبل سے ماضی کی طرف سفر کرتے ہیں
غلبا”یہ64 کی بات ہے کہ ایک دم سے گہماگہمی اور رونقیں بڑھ گئیں ۔جگہ جگہ جلسے،کشمیری چائے سموسے پارٹیاں دکھائی دینے لگیں ۔

اس وقت یہ رواج تھا کہ جب کوئی تقریب ہوتی تو کشمیری چائے کا اہتمام ہوتا )یہ الیکشن کی گہماگہمی تھی اور الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر جلسے اور کھانے پینے کا انتظام کیے ہوئے تھے ۔صدر ایوب خان صدارتی امیدوار وار تھے اوران کے مقابلے پر اپوزیشن کی متحدہ امیدوار مادر ملت فاطمہ جناح تھیں ۔یہ الیکشن صدر ایوب کے نافذ کردہ بنیادی جمہوریت یا بیسک ڈیموکریسی کے تحت ہورہے تھے ۔اس لئے پہلے مرحلے میں منتخب ہونے والوں کو بی ڈی ممبر کہا جاتا تھا ۔انہوں نے آگے چل کر صدر کو منتخب کرناتھا ۔حسب معمول سرکاری ریڈیو ایک ہی راگ الاپ رہا تھا ۔۔سوڈیڈی زیادہ تر بی بی سی کے ساتھ کان لگائے رکھتے ۔اس الیکشن میں صدر ایوب بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ۔مزے کی بات یہ ان زمانوں میں تقریبا”تمام مذہبی جماعتوں نے مادر ملت کی حمایت کی ۔جبکہ بدلے روشن خیال زمانوں میں مذہبی جماعتوں نے عورت کی سربراہی کو ردکیا ۔
یا خوب شدومد سےمخالفت کی ۔ایسالگتاہے کہ جیسےبےاصولی کے ایک اصول پر سب متفق ہیں ۔صدرایوب خان سے لے کر اب تک کئ الیکشن اورسیاستدانوں کی بوالعجبیاں دیکھیں ۔ان کا تذکرہ پھر سہی ۔
ایک بار پھر اپنے پسندیدہ موضوع کی جانب آتے ہیں ۔کتابوں سے محبت کے حوالے سے میری نظم میری پہلی محبت ملاحظہ کیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہے نام اللہ کا
میری پہلی محبت
نصرت نسیم
اے میرے رفیق، میرے ہمدم
میں نے ہوش سنبھالا تو خود کو تیری محبت میں گرفتار پایا
سکول جاتے ہوئے تمہارا دیدار
دل کی کلی کا کھل جانا
واپسی پر ملاقات کی سرشاری یونہی تمہاری محبت میں
تم سے ملتے جلتے
کئ برس بیت گئے
تمہاری محبت و رفاقت نے مجھے کیا کچھ دیا
میرا دامن خوشیوں سے بھر دیا
میرے وقت کو بامعنی دیا
کتنے اچھے لوگوں سے ملوایا
کتنی ان دیکھی دنیاوں کی سیر کرائی
کتنی مسرتیں، کتنے خزانے میرے دامن میں لاڈالے
آہ میں کیسے بیاں کروں اس محبت ورفاقت کوجس نے مجھے مالا مال کر ڈالا
یہی میری متاع عزیز، متاع گراں
جس نے مجھے سر اٹھا کر جینا سکھایا
جیون کا مفہوم سمجھایا
اور اور پھرجانے کیا ہوا
میری آنکھیں ترس گئیں تمہیں دیکھنے کو
وقت کی گرد میں کہاں کھو گئے
مادہ پرستی نے تمہیں نگل ڈالا
اہ اے میری آنہ لائبریری
میری پہلی محبت میری ہمدم
میں تجھے کہاں تلاش کروں
تم کہاں روپوش ہو گئیں
میری ہمدم، میرے ساتھی
نصرت نسیم














بہت خوبی سے ایک زریں عہد سے جڑی یادوں کو رقم کیا ہے — سلامتی ہو