ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ رفتہ رفتہ وہ چراغ بجھتے جارہے ہیں جن کی وجہ سے ہم اپنے بچپن کو یادگار کہہ سکتے ہیں۔ ایک ہی چینل تھا اور اس نے ایسے ایسے ہیرے تراشے جن کا متبادل آج تک نہ مل سکا۔ چاہے سلیم ناصر ہو، محبوب عالم ہو، شفیع محمد ہو، سہیل اصغر ہو، فاروق قیصر ہو یا ضیاء محی الدین ہو۔ ان سب کا متبادل آج تک کوئی نہ ہوسکا۔ اسّی کی دہائی میں پیدا ہونے والے بچے پی ٹی وی کے مشہور ڈرامہ سیریز “اندھیرا اجالا” سے خوب واقف ہیں۔ اس ڈرامے کے کئی کردار آج بھی ہم فراموش نہیں کرسکے جن میں عرفان کھوسٹ، جمیل فخری، عابد بٹ اور محمد قوی خان کی شاندار اداکاری کی بدولت ملک گیر شہرت حاصل کی۔
فلم اور ٹیلی ویژن کے عظیم اداکار قوی خان 13 نومبر 1942 کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ قوی خان نے ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور چائلڈ ایکٹر کام کرنا شروع کیا۔ ان کے خاندان کا تعلق یوسف زئی پشتون قبیلے سے ہے۔ بعد ازاں ان کا خاندان لاہور چلا آیا۔ 1965 میں، انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن پی ٹی وی کے لیے کام کیا جب ٹی وی کی نشریات پہلی بار لاہور، پاکستان میں شروع ہوئیں، وہ پی ٹی وی کے اولین
اداکاروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1965 میں کیا۔ پاکستان ٹیلی ویژن نے 1966ء میں جب لاہور سے اپنی پہلی نشریات کا آغاز کیا تو وہ پی ٹی وی سے منسلک ہوگئے اور پی ٹی وی کے پہلے ڈرامے “لاکھوں میں تین” میں کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1985-1984 میں قوی خان نے ڈرامہ سیریل اندھیرا اجالا سے نام کمایا اور ایماندار پولیس آفیسر کی حیثیت سے اداکاری کے بہترین جوہر دکھائے۔ ان کے اس بہترین کردار نے عوام میں پولیس کی بہترین اور مثبت تصویر پیش کی۔ بیشتر نوجوان پولیس افسر بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ قوی خان نے 200 سے ذائد فلموں اور لاتعداد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔
ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں
اندھیرا اجالا 1985-1984
دن 1992
انگار وادی 1994
اڑان 1995
آشیانہ 1997
لاہوری گیٹ 2007
مٹھی بھر مٹی 2008
من چلے 2009
داستان 2010
میرے قاتل، میرے دلدار 2011
پھر چاند پہ دستک 2011
در شاہوار 2012
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ 2011
صدقے تمہارے 2015-2014
تم کون پیا 2016
سہلیاں 2016
نظر بد 2017
الف اللہ اور انسان 2017
آنگن 2017
مُشک 2020
چپکے چپکے 2021
میری شہزادی 2022 شامل ہیں۔
جبکہ ان کی چند شہرہ آفاق فلموں میں
نیند ہماری خواب تمہارے 1971
محبت زندگی ہے 1975
سوسائٹی گرل 1976
بیگم جان 1977
چن سورج 1981
سرفروش 1989
کالے چور 1991
زمین آسمان 1994
رانگ نمبر 2015
مہر النساء 2017
پری 2018 شامل ہیں۔
اداکار قوی خان پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اداکار تھے جنہیں 1980ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
انہیں ستارہ امتیاز 2012، تین نگار ایوارڈز ، پی ٹی وی ایوارڈز
متعدد ریڈیو پاکستان ایوارڈز اور پاکستان ٹیلی وژن کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ 2007میں دیا گیا
مارچ 2011 میں، اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس آڈیٹوریم میں ایک تقریب میں قوی خان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔
2022 میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں اپنی فنی خدمات کے نتیجے میں اعتراف کمال ایوارڈ بھی حاصل کیا۔
انہوں نے 1968 میں ناہید خان سے شادی کی۔ جس سے ان کے چار بچے ہیں۔ ان کے دونوں بیٹے عدنان قوی اور مہران قوی بھی نوّے کی دہائی میں پی ٹی وی کے کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ ان کا خاندان کینیڈا میں رہائش پذیر ہے۔ پچھلے چند مہینوں سے وہ علاج کے سلسلے میں وہیں مقیم تھے۔ آج 5 مارچ 2023 کو ہارٹ اٹیک سے ان کا انتقال ہوا اور پاکستان ایک ورسٹائل اداکار سے محروم ہوگیا ہے۔
……………….
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
5 march 2023
معروف اداکار قوی خان 80سال کی عمر میں کینیڈا میں انتقال کرگئے۔
قوی خان طبیعت ناسازی کی باعث اسپتال میں زیر علاج تھے۔ قوی خان پی ٹی وی کے پہلے اداکاروں ميں سے تھے۔
اداکار قوی خان کو بہترین خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت نگار ایوارڈز اور ستارہ امتیاز بھی عطا کیاگیا۔
قوی خان 13نومبر 1942میں پشاور میں پیداہوئے، انہوں نے فنی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان سے کیا، کم عمری میں چائلڈ ایکٹر کے طور پر ریڈیو پاکستان کے ڈراموں میں کام کیا۔ قوی خان نے لاتعداد سیریلز، سیریز اور انفرادی ڈراموں میں کام کیا۔













