یذید لعین کا ظلم صرف کربلا میں جاری نہیں رہا بلکہ اکسٹھ سے چونسٹھ ہجری تک یذید ملعون نے وہ ظلم کئیے کہ منجنیق سے خانہ کعبہ و مسجد نبوی بر پتھر برسا کر حرمت کعبہ کو پامال کیا، ااور واقعہ کربلا کے بعد محمد ص و آل محمد ص کے گھرانے اہلبیت ع اطہار کے خواتین و بچوں کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کرکے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسیر بنا کر شام و کوفہ کے زندانوں اور بازاروں میں پھرا کر قید کردیا گیا۔ ان ایزیتوں سے درجنوں کمسن بچے شہید ہوئے جن میں سے ایک امام حسین ع کی چار سالہ کمسن بی بی سکینہ س کی شہادت بھی تیرہ صفر کے دن زندان شام میں ہوئی۔۔حق کی راہ میں ہر سن و عمر کے افراد حتی کہ کمسن بچوں و بچیوں تک نے قربانیاں دی ہیں۔ اگر ایک طرف میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے چھ ماہ کے شیر خوار فرزند علی اصغر نے یزیدی فوج کا تیر ہنستے ہوئے سہہ کر وقت کے امام اور امیر المومنین علیہ السلام، سید الشہداء نواسئہ رسول ص کی اطاعت کا حق ادا کیا تو دوسری طرف امام حسین (ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے دمشق و کوفہ کے بازاروں و زندانوں اور درباروں میں حق کی خاطر قربانیاں دے کر آخر کار تیرہ صفر المظفر 62 ہجری میں زندان دمشق خرابہ میں جام شہادت نوش کیا۔ جدید ایکسیویں صدی میں بھی یزید لعین کے مظالم اور اس کی فکر و یزیدی گروہ کے افکار اورمحمد ص و آل محمد ع یعنی خانوادہ رسالت کے ساتھ عداوت و بغض ختم نہیں ہوا جس کی اہم مثال دہشت گرد تکفیری گروہوں داعش القاعدہ طالبان اور ان کے سرپرستوں کی طرف سے سیریا یا مملکت شام میں مزارات بی بی سکینہ س و بی بی زینب س پر باردود کے دھماکے اور جنایت کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔بی بی سکینہ بنت حسین (ع) امام علی (ع) کی پوتی اور امام حسین (ع) کی لاڈلی بیٹی فاطمہ بنت الحسین (ع) جو تاریخ میں سیدہ سکینہ (ع) کے نام سے معروف ہیں اور جن کا سن مبارک صرف ۴ برس کا تھا، جب بنی امیہ کے شجرہ خبیثہ کی علامت ملعون یزید ابن معاویہ نے کربلا میں خاندان عصمت و طہارات اہل بیت آل محمد ص کو شہید کیا تو صرف ان کی شہادت پر اکتفا نہ کیا بلکہ محمد و آل محمد (ع) کےمخدرات عصمت و طہارت پاک بیبیوں حتی کہ یتیم بچوں و بچیوں کو دس محرم کے بعد قیدی بنا کر بے کجاوہ اونٹوں کے ذریعے اپنے پایہ تخت دمشق و کو فہ کے بازاروں و درباروں تک لے جایا گیا اور یہ پروپیگنڈہ تک کروایا گیا کہ نعوذ باللہ ان اہل بیت اطہار نے خلیفتہ المسلمین یزید ابن معاویہ کے خلاف بغاوت کی تھی، اگر کوئی اس طرح کرے گا تو ان کا بھی یہی انجام ہو گا۔

شاید یزید کو معلوم نہ تھا کہ خاندان رسالت اور عصمت و طہارت کی خواتین و بچے ہوں یا پھر ان کے گھر کی کنیز فضہ ہی کیوں نہ ہوں یہ سب مفسر قرآن ہیں۔ رسول (ص) اور علی (ع) کی تربیت کی وجہ سے اپنے خطبات کے ذریعے بازاروں و درباروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں اور ایسا ہوا بھی، علی (ع) کی بیٹی زینب سلام اللہ و بی بی ام کلثوم اور امام حسین(ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین (ع) نے اپنے کردار و خطبات کے ذریعے یزید اور یزیدیت کو تاقیامت لعنت کا حقدار کر کے باطل کی علامت قرار دیا۔ اس کا ذکر حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی یوں کیا۔

حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یک حسین رقم کرد و دیگر زینب

بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے کوفہ میں ایک ایسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا کہ اہل کوفہ آپ (ع) کی بلاغت و فصاحت پر دنگ رہ گئے اس خطبہ نے لوگوں کے دلوں کو کاٹ ڈالا اور لوگ غم کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے اس خطبہ کا لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر پڑا اور ان کو احساس ہوا کہ ان سے کتنا بڑا گناہ عظیم سرزد ہوا ہے۔ حضرت سکینہ سلام اللہ کے خطبے کا متن کچھ یوں ہے۔

“حمد ہے اللہ کی ریت کے ذروں اور سنگریزوں کے برابر ،عرش کے وزن سے لے کر زمین تک میں اس کی حمد بجا لاتی ہوں ،اس پر بھروسہ کرتی ہوں ،گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد ص اللہ کے عبد اور رسول ہیں اور آپ ص کی طاہر اولاد کو فرات کے کنارے پیاسا ذبح کر دیا گیا۔ اے اللہ ! تو نے اپنی مخلوق سے علی ابن ابی طالب (ع) کی ولایت کا عہد لیا اور ان کو اس عہد کی وصیت کی لیکن مخلوق نے تیرا یہ عہد توڑ ڈالا اور آپ (ع) (امیرالمومنین (ع)) کے حق کو غصب کر لیا گیا اور آپ (ع) کو شہید کر دیا جیسے کل انہی کے بیٹے (حسین(ع) کو شہید کیا گیا۔ اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دادا (ع) کو تیرے گھر میں شہید کیا گیا جس میں دیگر مسلمان بھی موجود تھے اور انہوں نے اپنی زبانوں سے ان کی مظلومی کا اقرار کیا ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا لیکن انہوں نے تیری خاطر صبر سے کام لیا اور وہ اس حال میں دنیا سے گئے کہ ان کی حمد بیان کی گئی اور ان کے فضائل و مناقب ہر جا معروف ہیں اور کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ اے اللہ! میرا سن بہت چھوٹا ہے اور میرے دادا کے مناقب بہت عظیم ہیں، میں اس پر ان کی تعریف کرتی ہوں۔ اے اللہ! تو جانتا ہے میرے دادا نے ہمیشہ تیری توحید اور تیرے رسول کی حفاظت کی اور آپ کو دنیا سے کوئی غرض نہ تھی۔ آپ نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تونے ان کو چن لیا اور اپنی صراط مستقیم قرار دیا۔

اے کوفیو! اے مکروفریب اور دھوکہ دینے والو! اللہ نے ہم اہل بیت (ع) کے ذریعے تمہارا امتحان لیا اور تم کو ہمارے ذریعے آزمایا اور ہماری آزمائش کو حسن قرار دیا۔ اللہ نے اپنا علم ہمیں ودیعت فرمایا، ہم اس کے علم کے امانتدار ہیں اور ہم ہی اللہ کی حکمت کے مخزن ہیں اور ہم ہی آسمان و زمین پر اللہ کی حجت ہیں اللہ نے ہمیں اپنی کرامت سے شرف بخشا اور ہمیں ہمارے جد محمد ص کے ذریعے اپنی ساری مخلوق پر فضلیت بخشی۔ تم نے ہمیں جھٹلا کر اللہ سے کفر کیا اور تم نے ہمارا قتل حلال جانا اور ہمارے مال کو لوٹا گویا ہم اولاد رسول نہیں، کہیں اور کے رہنے والے ہیں اور جس طرح کل تم لوگوں نے ہمارے دادا کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپکا ہے کیونکہ تمہارے سینوں میں ہمارا بغض و کینہ بہت عرصے سے پرورش پا رہا تھا تم نے ہمیں قتل کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی اور تمہارے دل خوش ہوئے تم نے اللہ پر افتراء باندھا اور تم نے فریب کیا، اللہ فریب کرنے والوں کے فریب کو ناکام بنانے والا ہے تم نے جو ہمارا خون بہایا ہے اس سے اپنے نفسوں کو خوش نہ کرو اور جو تم نے ہمارا مال لوٹا ہے اس سے بھی تمہیں کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ ہمیں جو مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ اللہ کی محکم کتاب میں پہلے سے ہی مذکور تھا، ہم پر ظلم و ستم ڈھا کر خوش نہ ہو بےشک اللہ تکبر اور غرور کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے۔ تمہارے لیے ہلاکت ہو عنقریب تم لعنت اور عذاب نازل ہو گا اور وہ تمہارا مقدر بن گیا ہے اور آسمان سے کثرت کے ساتھ تم پر عذاب آئیں گے اور تم عذاب عظیم دیکھو گے اور سختی کا تلخ ذائقہ چکھو گے اللہ کی ظالمین پر لعنت ہو۔ تمہارے لیے ویل (جھنم) ہے ہم جانتے ہیں کہ کس نے ہماری اطاعت کی کس نے ہمارے ساتھ جنگ کی کون ہماری طرف خود چل کر آیا تم تو ہمارے ساتھ جنگ چاہتے تھے تمہارے دل سخت ہوگئے تمہارے جگر غلیظ ہوگئے اللہ نے تمہارے دلوں ،کان،آنکھوں پر مہر لگا دی تمہارا پیشوا شیطان ہے جس نے تمہاری آنکھوں پر پردہ ڈال دیا اور تم ہدایت سے دور ہو گئے۔

اے کوفیو! تمہارے لیے ہلاکت ہے، رسول اللہ نے تمہارے ساتھ کیا برا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے اس کے بھائی اور میرے دادا علی ابن ابی طالب (ع) کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا اور اس کی پاک عزت کے ساتھ کیا؟ ہمارے قتل اور ہمیں قیدی بنا کر تم فخر کرتے ہو کیا یہ امت اس پاک گھرانے کے قتل پر فخر محسوس کرتی ہے جسے اللہ نے پاک و پاکیزہ بنایا اور ہر رجس کو ان سے دور رکھا ؟ہر شخص کو وہی ملتا ہے جسے وہ کسب کرتا ہے اور جو وہ آگے بھیجتا ہے ۔تمہارے لیے ویل ہے تم نے ہم پر حسد کیا جو اللہ نے ہمیں عظمت و فضیلت عطا کی تھی وہ تمہارے حسد کا نشانہ بنی اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے وہ صاحب فضل عظیم ہے جس کے لیے اللہ نور نہ بنائے اس کے لیے کوئی نور ہو ہی نہیں سکتا ۔

نبوت اور امامت کی پروردہ نے اپنے اس عظیم خطبے میں چند اہم امور پر گفتگو فرمائی:
۱۔سیدہ سکینہ نے اپنے دادا امیرالمومنین (ع) کی ولایت کے عہد کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا اور آپ (ع) کے مصائب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ جو حق ہے اور زمین پر مجسمہ عدل ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے گھر میں شہید کر دئیے گئے۔ امیرالمومنین (ع) وہ شخصیت ہیں جن کو اللہ نے چن لیا اور اپنی صفات و فضائل و مناقت سے آپ (ع) کو مخصوص کر دیا
۲۔ سیدہ سکینہ(ع) نے اہل بیت(ع) کے مصائب کا ذکر فرمایا، ان پر اللہ کا سلام ہو وہ امت کے روحانی پیشوا ہیں ان سے پوچھا جائے گا کہ کس نے ان کی نصرت کی اور کس نے دشمنی اور امت نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور جس طرح آل محمد (ع) کا خون بہایا اور جس طرح آل محمد(ع)نے مصائب و آلام برداشت کئے ۔

۳۔ اہل بیت (ع) پر کی جانے والی زیادتیوں کا بیان کیا کہ ظالم افراد جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، نے کتنا ظلم ڈھایا اور ان کو اللہ کے سخت ترین عذاب کی نوید بھی سنائی۔ لوگوں کے نفوس میں اس خطاب کا گہرا اثر ہوا جس سے لوگوں کے دل جلنے لگے اے طاہرین کی بیٹی! خدارا اپنے کلام کو روک دیجئے آپ نے ہمارے دلوں میں آگ لگا دی اور ہماری سانسیں ہمارے حلق میں اٹک گئی ہیں حتی کہ اس مجمعے میں موجود بعض افراد نے یزید ملعوں اور اس کے افواج کے خلاف علم جہاد اٹھا کر جام شہادت نوش کیا۔ کربلا اور معرکئہ حق و باطل آج بھی ہمارے ارد گرد جاری ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا اسکی نشاندہی کی ہے۔۔

لب فرات پہ اب بھی جنگ جاری ہے
کوئی حسین کے لشکر میں آئے حر کی طرح

حوالہ جات: (حیات الامام الحسین (ع) جلد ۳، ص۲۳۰، سیرت سیدہ زینب الکبری(ع) ، تاریخ الحسین (ع)۔

یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں محرم کے ساتھ ساتھ صفر کے مہینے میں بھی عزاداری و مجالس اور چہلم کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور امام خمینی نے فرمایا تھا۔۔کہ محرم اور صفر کے مہینوں نے ہی اسلام کو زندہ کردیا ہے۔معرکہ حق و باطل کربلا کی ایک اہم اہمیت یہ ہے کہ اس واقعے میں بچوں،خواتین و بزرگوں حتی کہ اس وقت تک ذندہ رہنے والے بعض اصحاب رسول ص جیسے بزرگ صحابی حضرت حبیب ابن مظاہررضی اللہ تک نے شرکت کرکے حق و حسینت کے لئے قربانیاں دی۔ یہ بات حدیث و تاریخ کی متفقہ کتب میں ملتی ہے ۔کہ حضرت محمد ص نے اپنی ذندگی ہی میں واقعہ کربلا کے پیش ہونے اور بنی امیہ و ملوکیت کے ڈکٹیٹر یذید لعین کی طرف سے امام حسینؑ کی شہادت کا اشارہ کیا تھا۔حضور ص نے اپنی زوجہ حضرت بی بی امہ سلمہ رضی اللہ کو خاک کربلا دے کر فرمایا تھا کہ دس محرم سن اکسٹھ ہجری کے دن یہ خاک سرخ رنگ میں تبدیل ہوگی اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ کربلا میں میرا نواسہ سید الشہدا حضرت امام حسینؑ تین دن کا بھوکہ و پیاسا شہید کیا جائیگا۔ تاریخ کی کتب میں زوجہ حضرت بی بی امہ سلمہ رضی اللہ کے حوالے سے درج ہے کہ عاشورا دس محرم سن اکسٹھ ہجری کو وہ مٹی سرخ رنگ خون میں تبدیل ہوئی تھی۔۔اسی طرح حضور ص نے اپنے ایک مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ سے فرمایا تھا کہ اے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تم میرے نواسے امام حسینؑ کے دور تک ذندہ رہو گے اور شہادت حسین ؑ و شہدائے کربلا کے بعد کربلا میں امام حسینؑ کی زیارت سے فیض یاب ہو گے،(تاریخ کے کتب کے مطابق شہادت امام حسینؑ و واقعہ کربلا کے بعد حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ نے پہلی دفعہ امام حسینؑ کی زیارات کرکے زیارت امام حسینؑ کی سنت کا احیا کیا) نہ صرف امام حسینؑ کی زیارت بلکہ تم امام حسینؑ کے نواسے اور میرے پانچویں جانشین امام محمد باقر ابن امام زین العابدین علیہ سلام کے زمانے تک ذندہ رہو گے اور ان سے ملاقات ہوگی انہیں میرا یعنی حضورص کا سلام پہنچانا۔ تاریخ کی کتب میں درج ہے کہ ایک دن مدینہ کے محلہ بنی ہاشم اہلبیت اطہار علیہ سلام کے قریب حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ اپنی ذندگی کے آخری ایام جا رہے تھے کہ انہیں حضور ص کا فرمان یاد آگیا۔ حضرت جابر نے قریب ہی کھڑے بچوں سے پوچھا کہ تم میں سےمحمد باقر ابن امام زین العابدین علیہ سلام کون ہے۔ اس پر محمد باقر ابن امام زین العابدین علیہ سلام جو اس وقت بچپن کے ایام میں تھے ، نے آکر لبیک و سلام کہا حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ نے امام محمد باقر علیہ سلام کا رو رو کر بوسہ لے کر فرمان رسول ص دہرایا۔ اس واقعے کے چند دن بعد ہی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ کا انتقال ہوا۔ تاہم تاریخ کی یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ص کے وصال کے بعد حتی کہ یذید لعین کے دور تھ بعض صحابہ و تابعین نے نہ صرف محمد و آل محمد اہل بیت علیہ سلام کے اتباع سے انکار کیا بلکہ محمد و آل محمد ص اہلبیتؑ کو اتنے مصائب و مظالم کا شکار کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔حالانکہ حدیث رسول ص جسے حدیث ثقلین بھی کہا جاتا ہے جو صحیح مسلم سمیت صحائے ستہ کی اکثر کتب میں ان الفاظ کی صورت میں موجود ہے کہ، میں(رسول ص) تمہارے درمیان دو گران قدر چیزیں کتاب اللہ اور اپنی عترت اہل بیت علیہ سلام چھوڑ کے جا رہا ہوں اگر میرے بعد تم نے ان کی اطاعت و اتباع کیا تو تم ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر روز قیامت میرے ساتھ مل جائیں گےـ کے علاوہ یہ مشہور حدیث یہ میرے دو بیٹے حسن و حسین ،حسنین علیہ سلام امام ہیں چاہے صلح کریں یا جنگ اور ان کے والد و میرے بھائی حضرت امام علی علیہ سلام ان دونوں سے افضل ہیں۔ حضور ص نے تو یہاں تک حق و باطل کو واضح کیا تھا کہ میرے صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہو جائیں گے۔ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بنی امیہ کے دہشت گرد ٹولے نےحضرت علی کے دور خلافت میں اس جرم پر بے دردی سے شہید کردیا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بنی امیہ کی طرف سے کھلم کھلا امیرالمومنین و خلیفتہ المسلمین حضرت علی کی شان میں کئی ہزار منبروں سے نماز جمعہ کے خطبات میں لعن طعن کے خلاف احتجاج کرتے تھے اور بنی امیہ کےمسلط کردہ جنگوں امیرالمومنین و خلیفتہ المسلمین حضرت علی علیہ سلام کا ساتھ دیتے تھے۔۔۔اتنے واضح حدیث رسول ص کے باوجود بنی امیہ کے ڈکٹیٹر یذید لعین کے دور تک بعض تابعین نے اہل بیت علیہ سلام و امام حسین علیہ سلام کا ساتھ دینے کی بجائے اسلام و سنت رسول ص کو پامال کرنے والے یذید لعین کا ساتھ دیا حتی کہ یذید ملعوں نے تو حد کرتے ہوئے منبر رسل ص کی تقدس کو پامال کرتے ہوئے بندر و کتوں تک منبر رسول ص پر شراب کے نشے میں دھت ہو کر یہاں تک ناپاک جسارت کی کہ نہ کوئی وحی آئی ہے اور نہ پیغام بلکہ یہ بنی ہاشم و محمد و آل محمد ص نے حکومت حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ رچایا ہے۔۔۔۔نقل کفر کفر نہ باشد نعوز باللہ یہ تھا خلافت کو ملوکیت میں بدلنے والے یذید لعین و بنی امیہ کی اسلام دشمنی۔۔۔یہی وجہ ہے کہ سید الشہدا نے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے امت کو یذید و بنی امیہ کے خلاف میدان عمل میں آنے کے لئے فرمایا تھا۔کہ جب یذید جیسا شخص امت مسلمہ کا خلیفہ ہو تو اسلام پر فاتحہ پڑھنا چاہیے۔۔اور میدان کربلا میں یذیدی فوج کے تیس ہزار افراد جن میں بعض اصھاب و تابعین تک شامل تھے، پر ایک بار پھر اتمام حجت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے آل ابو سفیان کے پیروکارو نہ تمارے پاس دین ہے اور نہ تم آخرت پر ایمان رکھتے ہو کم ازکم دنیا میں تو شریف بنو۔۔۔۔امام حسینؑ کا کربلا میں یہ فرمان تاقیامت مینارہ نور ہے کہ جو بھی محمد و آل محمد ص اور حسینؑ کے مقابلے میں یذید لعین کا ساتھ دے گا یا پیروی کرے گا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

صفر المصفر کے مہینے اور چہلم امام حسین ع کو دنیا بھر میں موجود اسلامی سکالرز علما اور دینی و عزاداری تنظیموں نے مزار شریکتہ الحسینؑ بی بی زینب س و مزار کمسن بی بی سیکنہ بنت الحسین ؑ، دمشق سوریا کے حرمت و دفاع کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ
بی بی زینب س ،رسول اللہ ص کی نواسی اور حضرت امام حسینؑ کی بہن جنہں کربلا کے بعد افواج یذیدی نے دیگر خواتین و بچوں کے ہمراہ قید کرکے شام و کوفہ کے زندانوں اور بازروں میں اسیر کیا لیکن
بی بی زینب س نے اپنے والد علیؑ اور نانا محمد ص کی شجاعت اور دین کے دفاع کے لئے خطبے دے کر یذید لعین اور بنی امیہ کو بے نقاب کردیا۔ آجکل اس دور کے یذیدی امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری نام نہاد دولت اسلامیہ داعش القاعدہ النصرہ طالبان مل کر بی بی زینب س و بی بی سکینہ س کے مزارات دمشق سوریا کو مسمار کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیا بھر میں موجود حسینی و زینبی کردار والے باضمیر لوگ اس شیطانی مثلث امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری القاعدہ طالبان کو علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلا کر کہتے ہیں کہ امام حسینؑ و سیدہ زینب س کی یاد اور ان کے مزارات تا قیامت دنیا بھر کے حریت پیسندوں کے لئے مشعل راہ رہیں گے۔

حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق

یک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب س

علامہ اقبال ہی نے محرم کی دس تاریخ عاشورا اور ذی الحجہ کی دس تاریخ قربانی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم

ہے نہایت اس کی حسینؑ ابتدا ہے اسماعیل

اسی طرح محرم کے دوران جلوسوں اور باطل و یذیدیوں کے خلاف برسرپیکار رہنے کا درس دیتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریؑ

کہ فکر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا اور کیا ہے

ایک سجدہ شبیریؑ ایک ضرب ید الہی ؑ

یاد رہے علامہ اقبال نے نے ضرب ید الہیؑ کی تشبیہ شیر خدا حضرت امام علیؑ جسے رسول اللہ نے ید اللہ کا خطاب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ـ جنگ خندق میں علیؑ کا ایک ضرب (جسں سے عمربن ابدود کو واصل جہنم کیا تھا)۔ثقلین(دونوں جہانوں) کے عبادتوں سے بہتر ہے۔

اور یہ تاریخی حقیقت آج بھی پوری دنیا و عالم اسلام کے لئے ایک لمھئہ فکریہ ہے۔کہ اگر حق و فرامین رسول ص کو فراموش کیا جائے تو اس کے نتائج بھییانک ہو سکتے ہیں۔

کربلا ميں بچوں کا کردار

جب کہ کربلا کے میدان جنگ میں چھ ماہ کے شیر خوار علی اصغر سمیت ایسے درجنوں بچوں نے حق و امام حسین علیہ سلام پر جان نچھاور کردی یا پھر واقعہ کربلا کے بعد یذیدی فوج کی طرف سے مخدارات عصمت و طہارت سمیت قید و بند اور شام و کوفہ کے ذندانوں میں مصائب و آلام کا اس طرح سے مقابلہ کیا کہ کربلا سے شام و کوفہ کے ذندانوں تک بغیر کجاوہ کے اونٹوں پر لے جاتے ہوئے یا مظالم سے شہید ہوتے گئے،لیکن یذیدیت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکا کرتے گئے۔

کربلا میں بچوں کی قربانی کا غیر مسلموں پر اثر۔۔ امریکی فوجی ٹام کا عراقی شہر کربلا سے اپنی مام(ماں۔ امریکی شہرہوسٹن) کے نام خط۔ اور امام حسین ع کے چھ ماہ کے فرزند کی قربانی کا زکر؛۔

عراق پر جب یذید وقت امریکہ نے اپنے ہی پالے ہوئے پٹھو صدام کی حکومت کے خاتمے اور کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے چرھائی کرکے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے تو دوسری طرف عراقی عوام نے اس دور کے یذید امریکہ

کے سامنے جھکنے کی بجائے امام حیسنؑ کی عزاداری اور ماتم کی طاقت و فلسفے سے ظلم و یذیدیت کے خلاف آواز اٹھا کر آخر کار امریکہ کو عراق چھوڑنے پر مجبور کیا۔ عراق میں عاشورا اور چہلم کے موقع پر لاکھوں حتی
کہ چہلم و اربعین شہدائے کربلا کے موقع پر ایک کروڑ سے ذیادہ پاپیادہ عزاداروں کے کربلا کی طرف مارچ و عزاداری اور لبیک یا حسینؑ، حسینت ذندہ باد و یذیدیت مردہ باد کے نعروں نے وہاں ڈیوٹی پر مقیم امریکی فوجیوں کے نفسیات پر اثر ڈالا اور یوں امریکی افواج میں امریکی حکومت کے خلاف بغاوت پیدا ہونے کے ڈر سے امریکہ عراق سے دم بھگا کر بھاگ گیا یقینا امریکہ کا عراق سے بھاگ جانا ٹام جیسے سینکڑوں فوجیوں کی نفسیات پر اثر اور ان

کے دل میں عزاداری و ماتم امام حسینؑ کی وجہ سے جنگ مخالف جذبات پیدا ہوئے ،ٹام کا خط سن دو ہزار تین میں مختلف میڈیا ذرائع و اخبارات بشمول پاکستان کے روزنامہ ڈان کے سنڈے ایڈیشن میں بھی شائع ہوا۔

ٹام لکھتے ہیں۔۔میری ماں، میں آپ کا بیٹا ٹام ہوں، اور یہ کربلا شہر کے ایک بیرک یا مورچے میں میری ڈیوٹی کا تیسرا دن ہے۔یہاں ایک مقدس مقام زیارات کی طرف لوگ جا رہے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ مقدس مقام یا زیارت ان کے نبی (حضرت محمد ص) کے نواسے کی اس قربانی کی یاد میں بنایا گیا ہے کہ آپ (امام حسینؑ) نے اپنے خاندان کے تمام مرد بشمول چھ ماہ کے شیر خوار کو اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ماں۔ میں بھی ہوسٹن امریکہ سے بہت دور اس صحرا میں آیا ہوں، لیکن میں جانتا ہوں کہ میں یہاں اللہ کی رضا کے لئے نہیں آیا بلکہ میں اور میرے دوسرے ساتھی(امریکی فوجی) ہم سب یہاں اسلئے ہیں کہ ہمارے صدر (امریکی صدر) نے ہمیں یہاں مامور کیا ہے۔

ٹام کے اس خط سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح عراق سے امریکہ کی ذلالت بھری شکست میں سید الشہدا اور امام حسینؑ کی عزاداری نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ عراق میں سینکڑوں امریکی فوجی نفسیاتی و ذہنی مریض بن گئے تھے۔

دوسری طرف اس خط نے صیہونی زیر اثر امریکی حکومت اور ان کے عوام حتی کہ افواج میں موجود بعض ذندہ ضمیر افراد کے جنگ مخالف اقدامات اور حال ہی میں امریکہ میں شروع کی جانی والی وال سٹریٹ قبضہ کروں تحریک نے دراصل امام خمینیؒ کے کئی دہائی پہلے اس فرمان کہ ہم امریکی عوام کے نہیں بلکہ امریکہ کے انسان دشمن پالیسیوں کے مخالف ہیں۔۔اور امام خمینیؒ کے اس فرمان کو دنیا نے عراق اور افغانستان پر امریکی چڑھائی کے بعد لاکھوں امریکیو کا ماریکی پالیسیوں کے کلاف احتجاج کی سورت میں مشاہدہ کیا اور جس کا حال ہی میں ایک اور عبرت آموز واقعہ بیس امریکی ریاستوں کا امریکہ سےآزادی کا مطالبہ کرنا ہے۔جس طرح کربلا شناس امام خمینیؒ کے گورباچوف کے نام ایک خط نے روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اسی طرح کربلا کے مکتب کے پروردہ نظریہ ولایت فقیہہ کے مطابق رہبر و رہنما امام خمینیؒ اور اس کے پیشرو سید علی خامنہ ای کے پہلے سے جاری مشاہدات اور پیشن گئوئیوں کے مطابق بہت جلد یذید وقت امریکہ بھی اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے، اور وہ وقت دور نہیں۔کیونکہ اس سال محرم کے آغاز میں امریکی ایما پر اسرائیل کی طرف سے غزہ پر بربریت و یزیدیت ہی امریکہ کو لے ڈوبی گی۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینیؒ نے کربلا اور عاشورا کی طاقت بتاتے ہوئے فرمایا تھا کہ لوگ ہمیں محرم میں رونے والے( گریہ و فریاد ماتم و عزاداری کرنے والے) کہہ کر مذاق اڑاتے تھے لیکن ان انسوؤں کی طاقت سے ہم نے کئی صدیوں پر محیط شاہی نظام اور اس کے سرپرست شیطان بزرگ امریکہ کا بستر گول کرکے بساط لپیٹ کر شکست دےدی، ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہے وہ کربلا کی وجہ سے ہے اسلئے کربلا و عاشورااور محرم و صفر (چہلم یا اربعین حسینؑ)کو ذندہ رکھیں۔دو ہزار چھ میں اسرائیل کو بدترین شکست دینے والے حزب اللہ لبنان کے سربراہ حسن نصر اللہ سے جب کسی صحافی نے سوال کیا کہ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے تو حسن نصر اللہ نے جواب دیا۔دو ہی وجہ ہیں ایک اپنے دور کی کربلا و عاشورا کو ذندہ کرکے ماتم و عزاداری حسینؑ سے درس حریت لینا اور دوسرا تہران میں بیٹھے میرے رہبر ولی فقیہہ امر المسلمیں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم و مشورے کی اطاعت کرنا۔ گویا لبنانی ہو کر بھی حسن نصر اللہ حکیم الامت و کربلا شناس علامہ اقبالؒ کی اس پیشن گوئی کی تفسیر کررہے ہیں، اور ہم بحثیت پاکستانی اب تک علامہ اقبالؒ کو نہ سمجھ سکیں۔۔

دیکھا تھا افرنگ نے اک خواب جینیوا

ممکن ہے کہ اس خواب کی تعبیر بدل جائے

تہران ہو گر عالم مشرق کا جینیوا

شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے

عراق سے امریکی کی ذلت آمیز پسپائی عزاداری اور ماتم امام حسینؑ کی طاقت جیسا کہ امریکی فوجی ٹام کے خط سے واضح ہے کے علاوہ امام خمینیؒ کے اس فرمان کہ محرم تلوار پر خون کی فتح کا مہینہ ہے۔ یذید وقت امریکہ کے ساتھ تمام تر قوت تھی لیکن وہ اس قوت اور اسلحے سے فتح حاصل نہ کرسکیں بلکہ عراق کے نہتے عوام نے سید الشہدا امام حسینؑ کے فلسفے اور عزاداری کی طاقت سے امریکہ کے عزائم خاک میں ملا کر تلوار پر خون کی فتح رقم کرکے اکسٹھ ہجری کی طرح اکییسویں صدی میں بھی اس شعر کی عملی تفسیر کردی۔کہ

قتل حسینؑ اصل میں مرگ یذید ہے

اسلام ذندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

میدان کربلا اور کربلا سے شام و کوفہ کے زندانوں تک لے جاتے ہوئےیذیدی فوج کی مطالم سے شہید ہونے والوں میں کئی بچوں میں سےچھ ماہ کے شیر خوار علی اصغر سمیت شریکتہ الحسینؑ حضرت بی بی زینب علیہ سلام کے دو بیٹے عون و محمد کے علاوہ حضرت جعفر طیارکے نواسے اور سفیر حسینؑ حضرت مسلم بن عقیل کے دو کمسن فرزندان کے علاوہ نواسہ رسول ص امام حسن ابن علی علیہ سلام کے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن علیہ سلام کی لازاول قربانی شامل ہے،اسی طرح امام حسینؑ کی چار سالہ بیٹی بی بی سکینہ بنت حسینؑ کا یذیدی فوج

کے مظالم برداشت کرتے ہوئے ذندان شام دمشق میں شہادت بچوں کی قربانیوں کا درخشان باب ہے

میدان کربلا ميں بچوں کا کردار واضح تر کرنے کے لئےتیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن علیہ سلام کا یہ واقعہ ہی کافی ہے کہ جب امام حسین علیہ سلام نے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن علیہ سلام سے پوچھا کہ میرے بتیجھے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن علیہ سلام تم حق کی راہ میں موت کو کیسے پاتے ہو تو تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن علیہ سلام نے فرمایا کہ میں موت کو شہد سے ذیادہ شیرین پاتا ہوں۔ اسی طرح امام حسینؑ کے اٹھارہ سالہ کڑیل جوان نے اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جب ہم حق پر ہے تو اس کی پرواہ نہیں کہ موت ہم پر پڑے یا ہم موت پر۔۔یہ گھرانہ رسول ص آل محمد ص کی تربیت ہی کا اثر تھا اور امام حسین علیہ سلام فرماتے تھے کہ میں ظالموں کے ساتھ رہنے اور ان کی بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ ماننے کی بجائے موت شہادت کو ترجیح دیتا ہوں۔کیونکہ ذلت ہم اہلبیت علیہ سلام سے دور ہے۔

بقول شاعر

عزت کی موت بہتر ہے زلت کی ذندگی سے

یہ سبق ہمیں ملا ہے حسین ابن علی سے

شریکتہ الحسینؑ سیدہ زینب سلام اللہ علیہ نےشام دمشق کے یذیدی درباروں اور بازاروں میں یادگار خطبے دیے۔
شام کےزندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کردیا اور اس طرح ستمکاروں کے محل لرزنے لگے۔
ابن زیاد ملعون اس باطل خیال میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اور رنج و آلام دیکھ کر ایک جابر ستمگر کے سامنے جو اب دینے کی سکت و جرأت نہیں رکھتی،کہنے لگا:اُس خدا کا شکرگزار ہوں جس نے آپ لوگوں کو رسوا کیا،تمہارے مردوں کو مارڈالا اور تمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا’’علی کی بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش ظاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھا اور فرمایا یابن مرجانہ۔۔یاد رہے کہ ابن ذیاد لعین کی ماں مرجانہ اس وقت عرب کی زانی خواتین میں مشہور تھی اور یہ بھی مشہور تھا کہ ابن ذیاد حرام ذادہ ہے ،لیکن اس کے باوجود یذید ملعون نے ابن ذیاد کو اپنا منہ بولا بیٹا بناکر گورنر بنایا تھا:تعریفیں اُس خدا کیلیے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبرص کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی و ناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران گر شخص کو رسوا کردیا۔

دربار یذید لعین دمشق میں ،حضرت زینب سلام اللہ علیہا کاتاریخی خطبہ

زینب (‏س)اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء (س)کی طرح ظالموں کے سامنے آواز بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں ، بھرے دربار میں خدا کی حمدو ستائش کرتی ہیں اور رسول(ص) و آل رسول (علیہ سلام) پر درود بھیجتی ہیں اور پھر قرآن کی آيات سے اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں :
یزید تویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین و آسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے تیرے گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایا تیرے زعم میں ہم رسوا اور تو باعزت ہوگیا ہے ؟ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہوگیا ہے اسی لۓ ان باتوں پر تکبر کررہا ہے ؟ جب تو اپنی توانائی و طاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا ہے تو خوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتا ہے ۔
تو نہیں جانتا کہ یہ فرصت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تو اپنی فطرت کو آشکار کرسکے کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے ۔ آیت کافر یہ خیال نہ کریں کہ یہ مہلت جو انھیں دی گئي ہے یہ ان کے لۓ بہترین موقع ہے ، ہم نے ان کو اس لۓ مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کرلیں ، پھر ان پر رسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا ۔
کیا یہ عدل ہے تیری بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول ص کی بیٹیوں کو تو اسیر کرکے سربرہنہ کرے ، انہیں سانس تک نہ لینے دیا جاۓ ، تیری فوج انھیں اونٹوں پر سوار کرکے شہر بہ شہر پھراۓ ؟ نہ انہیں کوئي پناہ دیتا ہے ، نہ کسی کو ان کی حالت کاخیال ہے ، نہ کوئی سرپرست ان کے ہمراہ ہوتا ہے لوگ ادھر ا‍‌‌‎ دھر سے انہیں دیکھنے کے لۓ جمع ہونے ہیں ، لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟
تو کہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجود ہوتے اور یہ کہہ کر تو فرزند رسول (ص) سید الشہدا امام حسین علیہ سلام کے دندان مبارک پر چھڑی لگا کر بے حرمتی کرتا ہے ؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ تو ایک گناہ اور برے کام کا مرتکب ہوا ہے ؟ تونے آل رسول (ص) اور خاندان عبدالمطلب بنی ہاشم کا خون بہا کر اپنے آپ کو ابوجہل و ابوسفیان کی اولاد بنی امیہ ثابت کیا ہے۔
خوش نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ، اس وقت یہ تمنا کرے گا کہ کاش تو اندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا تو یہ کہتا ہے کہ اگر میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سےاچھل پڑتے ، اے اللہ تو ہی ہمارا انتقام لے اور جن لوگوں نے ہم پرستم کیا ہے ان کےدلوں کو ہمارے کینہ سے خالی کردے ،خداکی قسم تو اپنے آپے سے باہر آ گیا ہے اور اپنے گوشت کو بڑھالیا ہے ۔
جس روز رسول (ص)خدا ،ان کے اہل بیت (ع) ، اور ان کے فرزند رحمت خدا کے سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت و رسوائی کےساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوگا ۔یہ دن وہ روز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم و ستم دیدہ لوگ جو کہ اپنے خون کی چادر اوڑھے ایک گوشے میں محو خواب ہیں ، انہیں جمع کرے گا ۔
خدا خود فرماتا ہے : ” راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں ، تیرے باپ معاویہ نے تجھے ناحق مسلمانوں پر مسلط کیا ہے ، جس روز محمد (ص) داد خواہ ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا ، اور عدالت الہی میں تیرے ہاتھ پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے ۔

اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شہید اور ہمیں اسیر کرکے فائدہ حاصل کر لیا ہے تو عنقریب تجھے معلوم ہوجاۓ گا کہ جسے تو فائدہ سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے ، اس روز تمہارے کۓ کے علاوہ تمارے پاس کچھ نہ ہوگا ، تو ابن زیاد سے مدد مانگے گا اور وہ تجھ سے ، تو اور تیرے پیروکار خدا کی میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔
تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تمہارے اجداد نے تیرے لۓ جمع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تو نے رسول (ص) خدا کے بیٹوں کو قتل کردیا ۔
قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے شکایت نہیں کرتی ، جو چاہو تم کرو ، جس نیرنگی سے کام لینا چاہو لو ، اپنی ہردشمنی کا اظہار کرکے دیکھ لو ، قسم خدا کی جو ننگ کا دھبہ تیرے دامن پر لگ گيا ہے وہ ہرگز نہ چھوٹے گا ، ہر تعریف خدا کے لۓ ہے جس نے جوانان بہشت کے سرداروں حسن و حسین علیہ سلام کو کامیابی عطا کی ، جنت کو ان کے لۓ واجب قرار دیا ،

میدان کربلا میں بچوں بزرگوں اور خواتین کا نمایاں کردار ہمیں آج کی کربلا یا دور حاضر میں اپنا کردار ادا کرنے کا سبق دیتے ہے بقول شاعر

لب فرات پہ اب بھی جنگ جاری ہے

کوئی حسین کے لشکر میں آئے حر کی طرح

تحریر و ترتیب۔ ایس ایچ بنگش

SHARE

LEAVE A REPLY