پریس کلب آف پاکستان یوکے کے زیر اہتمام یوم قائدا عظم،مقدسہ بانو

0
991

مانچسٹر(پریس ریلیز) پریس کلب آف پاکستان یوکے کے زیر اہتمام یوم قائدا عظم ؑ کی شاندار تقریب منعقدہوئی جس کی صدارت تنظیم کے صدر شفیق الزمان نے کی – تقریب سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے شیڈو وزیر برائے امیگریشن افضل خان نے کہا کہ کہ قائد اعظمؒ گذشتہ صدی کے ایک عظیم سیاست دان تھے جنہوں نے انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے مسلمانان برصغیر کو نجات دلائی اور ان کے لئے ایک الگ وطن لے کررہے – انہوں نے کرسمس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان بہت سے معاملات میں مماثلت پائی جاتی ہے – دونوں حصرت یسوع مسیح علیہ السلام کا انتظار کر رہے ہیں – انہیں اپنے درمیان مزید ہم آہنگی پیدا کر کے انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنا چاہئیے – لارڈ مئیر مانچسٹر کونسلر عابد چوہان نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ مانچسٹر میںبہت سی کمیونٹیاں رہتی ہیں اور ہم سب کو انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے – ہمیں ان تمام کمیونٹیون کے مقدس دنوں کا بھی احترام کرنا ہے اور ان کے مثبت کاموںمیں حصے دار بننا ہے – انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جن حالات میں مسلمانان برصغیر کی قیادت سنبھالی وہ سب کے سامنے ہیں اور پھر سات سال کے قلیل عرصے میں پاکستان کی نام پر ایک الگ ملک حاصل کر کے انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے – مانچسٹر میں پاکستان کی قائمقام قونصل جنرل محترمہ فضہ نیازی نے خطاب کرتے ہوئے پریس کلب آف پاکستان یوکے کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ قومی دنوں کے مواقع پر اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں – انہوں نے قائد اعظم ؒ کو شاندر الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بیماری کے باوجود یہ کسی پر واضح نہ ہونے دیا کہ وہ اندر سے اس قدر بیمارہیں لیکن جب بھی وہ مخالفین کے سامنے گئے تو ایک چٹان کی طرح کھڑے ہوئے – انہوں نے اپنے عمل اور اپنے خطاب سے یہی ثابت کیا کہ وہ صحت مند ہیں – انہوں نے کہا کہ قونصل خانہ عوام کی سہولت کے لئے ہے اور ہم ہر مثبت تجویز کا خیرمقدم کریں گے – انہوں نے پریس کلب کی انتظامیہ کی طرف سے اس عزم کے اظہار کو خوش آئند قرار دیا جس میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ پریس کلب آف پاکستان یوکے برطانیہ کی پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کے حل میں قونصلیٹ جنرل کو تمام تر تعاون پیش کرے گا- تقریب کے صدر شفیق الزمان نے کہا کہ اگر آج قائد اعظم ؒ نہ ہوتے تو دنیا میں ہماری کوئی پہچان نہ ہوتی – قائد اعظمؒ کی وجہ سے ہی دنیا ہمیں جانتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنی جدوجہد سے برصغیر میں ایک الگ ریاست حاصل کی – قائد اعظمؒ کی نظروں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد مسلمانوں کو ہندو کی غلامی میں رہنا ہو گا اور یہ بات آج ہندوستان کے حالات دیکھ کر واضح ہو جاتی ہے -پریس کلب آف پاکستان یوکے کے سابق صدر محبوب الٰہی بٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد کے اصولوں کے مطابق ساری قوم اکٹھی ہو جائے اور مل کرایک ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس پر چل کر قوم ترقی کرے – انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجود سیاسی حالات افسوسناک ہیں – ہمیں سیاسی رواداری سے کام لینا چاہئیے – نصر اللہ خان مغل نے کہا کہ قائد اعظم ؒ کو یہ علم تھا کہ ان کی زندگی چند سالوں میںختم ہو سکتی ہے لیکن انہوں نے پھر بھی قوم کو مایوس نہیں کیا اور اپنی دھن میں لگے رہے – ایک وقت آیا کہ وہ برصغیر کے عوام سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے لیکن عوام کی محبت نے انہیںیہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا اور وہ پھر سے ہندوستان گئے اور بکھری ہوئی قوم کو مجتمع کر کے تحریک شروع کی اور آخر میں ایک الگ وطن پاکستان لے کر رہے – چوہدری غلام رسول شہزاد او بی ای نے کہا کہ قائد اعظم ؒ نے ایک وکیل کی حیثیت سے بھی بہت نام کمایاا ور انہیں جب ممبئی میں پندرہ سو روپے ماہوار پر مستقل نوکری کی آفر کی کی گئی توانہوں نے کہا کہ وہ اتنے پیسے روز کمانا چاہتے ہیں – یہ ان کی خود داری اور اپنے ییشے سے محبت و اعتماد کا اظہار ہے – انہوں نے کہا کہ یہ قائد اعظمؒ کی ہی سوچ تھی کہ انہوں نے بکھرے ہوئے مسلمانوں کو اکٹھے کیا اور ان کی قیادت سنبھال کر انہیں ایک ایسے مقام پر لائے کہ وہ ان کے لئے ایک الگ ملک پاکستان کے نام سے حاصل کر سکیں – گلزارخان نے کہاکہ پاکستان کے قیام کی مخالفتیں کرنے والے بھی آج پاکستان سے محبت کے دعویدار ہیں – اس کا مطلب یہ ہے کہ قائد اعظم نے ایک الگ ریاست کے قیام کی جدوجہد کر کے درست فیصلہ کیا تھا -آج نہ صرف شیخ عبداللہ کا بیٹا فاروق عبداللہ اور مفتی سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی بھی پکار کر رکہہ رہی ہیں کہ ہمارے آباﺅ اجداد نے آزادی کے موقع پر قائد اعظم ؒ کا ساتھ نہ دے کر غلطی کی تھی بلکہ اب تو ماسٹر تارا سنگھ کے خاندان کے لوگ بھی آزادخالصتان کی تحریک چلا رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے لیڈر ماسٹر تارا سنگھ نے بھارت کا ساتھ دے کر غلطی کی تھی – پریس کلب کی ایونٹ کمیٹی کے چئیرمین سہیل حیدر سہوترا نے ابتدائی خطاب میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کئے – پروگرام میں نظامت کے فرائض چوہدری پرویز مسیح مٹو نے سرانجام دئے جبکہ اس موقع پر کینن فادر فلک شیر نے خصوصی دعا بھی کروائی – اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فادر فلک شیر نے مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا – انہوں نے حاضرین کو قائد اعظم ؒ کی پیدائش کے ساتھ کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد بھی پیش کی – تقریب میں مقدسہ بانو‘ فائقہ گل ‘ لیاقت علی عہد ‘ محمد انور اور ضمیر جاوید نے قائداعظم ؒ کو منظوم نذرانہ عقیدت بھی پیش کیا –
مقدسہ بانو

SHARE

LEAVE A REPLY