شمسی کیلنڈر کی تاریخ : قدیر قریشی

0
2520

انسانی معاشرت کے آغاز میں لوگوں کے ذہن میں وقت کی تقسیم صرف دن اور رات کے تصور سے تھی جس میں دن کو شکار ڈھونڈنا اور رات کو آرام کرنا ہوتا تھا – موسموں کی تبدیلی سے یہ تو اندازہ ہوجاتا تھا کہ کچھ عرصے کے بعد موسم دوبارہ آجاتے ہیں لیکن موسم کی پیش گوئی کرنے کی ضرورت کسی کو محسوس نہیں ہوتی تھی – لیکن جب انسان نے زراعت سیکھ لی تو موسم کی پیش گوئی (مثلاً یہ کہ گرمیاں اندازاً کب شروع ہوں گی) ضروری ہوگئی تاکہ فصل مناسب وقت پر بوئی جائے اور کاٹی جائے –

حقیقت یہ ہے کہ پرانے معاشروں میں سال گذرنے کا درست اندازہ لگانا بہت مشکل تھا – اس کے برعکس مہینے کا حساب لگانا قدرے آسان تھا کیونکہ چاند کے گھٹنے بڑھنے سے مہینے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے – چنانچہ تقریباً تمام قدیم کیلنڈر شمسی نہیں بلکہ قمری ہیں – لوگوں کو یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ سال میں بارہ ماہ ہوتے ہیں کیونکہ تقریباً بارہ قمری ماہ کے بعد موسم واپس آ جایا کرتے تھے – لیکن قدیم معاشروں کو اس بات کا بھی جلد اندازہ ہوگیا کہ قمری کیلنڈر کے بارہ ماہ کا دورانیہ شمسی سال کے دورانیے سے کم ہوتا ہے کیونکہ چند سالوں کے بعد موسم مہینوں کے حساب سے غلط ہونے لگتے تھے – چنانچہ جب انہیں ایسا محسوس ہوتا کہ مہینوں کا حساب غلط ہوگیا ہے تو کیلنڈر میں ایک یا دو ماہ چھوڑ دیے جاتے تاکہ ماہ اور موسم دوبارہ ایک دوسرے پر منطبق ہو جائیں

ذہین لوگوں نے مسلسل مشاہدات سے یہ نوٹ کیا کہ افق پر سورج کے طلوع اور غروب کے مقامات سال بھر تبدیل ہوتے رہتے ہیں – اس سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ سورج اگرچہ نکلتا تو مشرق سے ہے لیکن جیسے جیسے گرمیوں کا موسم آتا ہے اس کے طلوع ہونے کا مقام آہستہ آہستہ شمال کی طرف منتقل ہوتا جاتا ہے – لیکن افق کے مشرق شمال مشرق میں ایک مقام پر آ کر سورج رک جاتا ہے اور دوبارہ مشرق کی طرف جانے لگتا ہے اور جیسے جیسے گرمیاں ڈھلتی ہیں، سورج مشرق سے ہوتا ہوا سردیوں میں جنوب کی طرف منتقل ہوتا ہے – پھر افق کے مشرق جنوب مشرق میں ایک مقام پر آ کر سورج رک جاتا ہے اور واپس مشرق کی طرف چلنے لگتا ہے اور ہوتے ہوتے اگلی گرمیوں میں مشرق شمال مشرق کی طرف اسی مقام پر جا کر رکتا ہے جہاں پہلے رکا تھا – گویا افق پر طلوعِ آفتاب کی پوزیشن کا یہ چکر عیند ایک سال میں پورا ہوتا ہے – کچھ لوگوں نے ایسی عمارات بھی تعمیر کیں جن میں ایک سوراخ سے دھوپ داخل ہوتی اور زمین پر یا سامنے کی دیوار پر پڑتی – عین طلوعِ آفتاب کے وقت دھوپ کے پڑنے کی پوزیشن آسانی سے ناپی جاسکتی تھی – یہ دیکھا گیا کہ دھوپ کی پوزیشن ہر روز پچھلے روز سے ذرا مختلف ہوتی – گرمیوں کے ایک دن (جسے اب ہم جون 23 کی تاریخ کہتے ہیں) یہ پوزیشن انتہائی دائیں جانب ہوتی اور روز بروز بائیں طرف حرکت کرتی – یہ گرمیوں کا لمبا ترین دن ہوتا – سردیوں میں ایک دن (جسے اب ہم دسمبر کی 22 تاریخ کہتے ہیں) اس کی بائیں طرف کی حرکت رک جاتی جس کے بعد دھوپ دائیں طرف حرکت شروع کر دیتی – یہ سردیوں کا مختصر ترین دن ہوتا – ان انتہائی پوزیشن پر نشان لگا کر آئندہ سالوں میں صرف یہ دیکھ کر کہ دھوپ اس نشانوں پر کس دن پہنچتی ہے سال کے سب سے لمبے اور سب سے چھوٹے دن کا اندازہ لگانا آسا ہوگیا – ایک سب سے چھوٹے دن سے اگلے سب سے چھوٹے دن کے دورانیے کو 365 دن تسلیم کیا گیا – یوں ایسی عمارتوں میں صرف طلوع ہوتے سورج کی دھوپ کی پوزیشن دیکھ کر ہی سال کے مکمل ہونے کا اعلان کیا جاسکتا تھا – ایسی عمارتیں دنیا کے کئی علاقوں میں پائی گئی ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف تہذیبوں نے آزادانہ طور پر دھوپ کی پوزیشن سے کیلنڈر بنانے کا فن دریافت کیا

ماہرین کا خیال ہے کہ سب سے پہلا سائنٹفک کیلنڈر قدیم مصری تہذیب میں بنایا گیا – ان لوگوں کو معلوم تھا کہ ایک شمسی سال بارہ قمری مہینوں سے کچھ دن زیادہ ہوتا ہے چنانچہ ان کا خیال تھا کہ ایک شمسی سال میں 360 دن ہوتے ہیں – اس لیے اس کیلنڈر میں 12 مہینے تجویز کیے گئے اور ہر مہینے میں 30 دن تجویز کیے گئے – ہر ماہ کو 10 دن کے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا – بابل کی تہذیب نے مصری تہذیب سے یہ کیلنڈر مستعار لیا لیکن ماہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا

اس کے برعکس یونان میں ایک اور کیلنڈر رائج تھا جس میں سال کو 10 ماہ میں تقسیم کیا گیا تھا – آج کل کے شمسی کیلنڈر کے ستمبر، اکتوبر، نومبر، اور دسمبر کے مہینے اسی کیلنڈر کی باقیات ہیں – ستمبر (September) اس کیلنڈر کا ساتواں مہینہ ہوا کرتا تھا، اکتوبر آٹھواں، نومبر نواں اور دسمبر دسواں – یہ تمام نام لاطینی زبان میں سات، آٹھ، نو، اور دس کے معنی رکھتے ہیں – رومن تہذیب نے یونانی تہذیب سے یہ کیلنڈر مستعار لیا لیکن کچھ مہینوں کے نام اپنے دیوتاؤں کے نام پر رکھ دیے مثلاً جنوری روم کے دیوتا ‘جینس’ کے نام پر ہے، اپریل Aphrodite کے نام پر، مئی رومن دیوی ‘مایا’ کے نام پر اور جون رومن دیوتا ‘جونو’ کے نام پر ہے – اس کیلنڈر میں شمسی سال 355 دنوں کا تھا یعنی کم و بیش بارہ قمری مہینوں کے برابر – چونکہ سا کیلنڈر میں موسموں اور مہینوں کی مطابقت چند سالوں بعد بگڑ جاتی تھی چنانچہ فروری کا مہینہ شمسی سال اور قمری سال کے فرق کو مٹانے کے لیے رکھا گیا جس میں دنوں کی تعداد بادشاہ کی مرضی کے مطابق ہوتی تھی

45 قبل مسیح میں روم کے بادشاہ جولیس سیزر نے جدید شمسی کیلنڈر جاری کیا جس میں سال کا دورانیہ 365 دن اور چھ گھنٹے مقرر کیا گیا – اس وقت تک فلکیات کی سائنس اتنی ترقی کر چکی تھی کہ سال کا دورانیہ درست ناپا جاسکتا تھا – اس کیلنڈر میں بارہ ماہ تھے جن میں سے ایک مہینہ اس نے اپنے نام پر جولائی رکھا – اس کے بعد کے حکمران آگستس نے جولائی سے اگلے مہینے کا نام بدل کر اپنے نام پر اگست رکھا – فروری کے مہینے میں 28 دن تھے لیکن ہر چوتھے سال اس میں ایک دن کا اضافہ کر دیا جاتا تھا – اس کیلنٹد کا نام جولیس سیزر کے نام پر جولین کیلنڈر رکھا گیا

سولہویں صدی تک سال کا دورانیہ اتنی accuracy سے ناپا جاچکا تھا کہ ماہرین کو یہ معلوم ہوگیا کہ جیولس سیزر کے کیلنڈر میں ہر سال 11 منٹ اور 14 سیکنڈ کا فرق آ جاتا ہے – اس وجہ سے 1500 سال سے زیادہ عرصے سے رائج کیلنڈر میں دس دن کا فرق آچکا تھا – چنانچہ 1572 میں اکتوبر کے مہینے سے کچھ دن حذف کر دیے گئے اور 5 اکتوبر کے بعد اگلا دن 15 اکتوبر قرار پایا – سال کا دوراینہ 365.2422 دن قرار پایا – اس طرح جولین کیلنڈر میں ہر 400 سال میں 3 دن اور تین گھنٹے کا فرق آ جاتا ہے – اسے درست کرنے کے لیے یہ اصول وضع کیا گیا کہ اگرچہ ہر وہ سال جو 4 پر تقسیم ہوسکے لیپ کا سال ہوگا لیکن ہر صدی کا وہ سال جو 100 پر تقسیم ہوتا وہ چار میں سے تین صدیوں میں لیپ کا سال نہیں ہوگا اگرچہ وہ سال 4 پر تقسیم ہوسکتا ہے – آپ کو شاید یاد ہوگا کہ سنہ 2000 لیپ کا سال تھا اگرچہ یہ 100 پر تقسیم ہوسکتا ہے کیونہ 1700، 1800 اور 1900 لیپ کے سال نہیں تھے – اس کیلنڈر کو گریگورین کیلنڈر کہا جاتا ہے اور یہ کیلنڈر آج بھی دنیا بھر میں رائج ہے

تو یہ ہے کیلنڈر کی کہانی

SHARE

LEAVE A REPLY